BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 December, 2007, 11:19 GMT 16:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اعتزاز انتخابات سے دستبردار

اعتزاز احسن
نظر بند اعتزاز احسن کے مقابلے میں ہمایوں اختر الیکشن لڑ رہے ہیں
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نظر بند صدر چودھری اعتزاز احسن نے انتخابات سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے اور اپنے ساتھی وکلاء کو تحریری ہدایت کی ہے کہ ان کے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے جائیں۔

بیرسٹر اعتزاز احسن کے ساتھی وکیل شوکت علی جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں نامزد کیا گیا ہے کہ وہ پندرہ دسمبر کو اعتزاز احسن کے کاغذات نامزدگی واپس لینے کی درخواست الیکشن کمشن کے نمائندے کے سامنے جمع کرا دیں۔ان کے بقول سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے یہ فیصلہ وکلاء برادری سے اظہار یک جہتی کے لیے کیا ہے جو ان انتخابات میں حصہ لینے کے خلاف ہے۔

اعتزاز احسن نے لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو چوبیس سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے اور مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے ان کی رہائش گاہ پر جاکر اعلان کیا تھا کہ وہ ان کی جماعت کے بھی امیدوار ہیں اوران کے مقابلے میں مسلم لیگ نون کا نمائندہ الیکشن میں حصہ نہیں لے گا۔

 اعتزاز احسن نے لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو چوبیس سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے اور مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے ان کی رہائش گاہ پر جاکر اعلان کیا تھا کہ وہ ان کی جماعت کے بھی امیدوار ہیں اوران کے مقابلے میں مسلم لیگ نون کا نمائندہ الیکشن میں حصہ نہیں لے گا

اعتزاز احسن کے اس حلقے سے مسلم لیگ قاف نے سابق وفاقی وزیر تجارت ہمایوں اختر خان کو اپنا امیدوار نامزد کررکھا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے متبادل امیدواروں میں شاہد امتیاز اور حاجی محمد اعجاز شامل ہیں۔مسلم لیگ نون کی جانب سے شیخ روحیل اصغر نے کاغذات نامزدگی جمع کرا رکھے ہیں۔

وکلاء، سول سوسائیٹی کی تنظیمیں اور اے پی ڈی ایم کی بعض جماعتیں انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر چکی ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ سب سے پہلے عدلیہ کی دو نومبر سے پہلے والی صورتحال کو بحال کیا جائے کیونکہ ان کے بقول آزاد عدلیہ کے بغیر منصفانہ انتخابات ممکن نہیں ہیں۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون دونوں نے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر رکھا ہے اور توقع ہے کہ اب ان دونوں پارٹیوں کے متبادل امیدوار الیکشن میں حصہ لیں گے تاہم پیپلز پارٹی کےحلقوں میں یہ سوال ضرور زیر بحث آئے گا کہ اعتزاز احسن کا یہ فیصلہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے یا نہیں؟

ان کے ساتھی شوکت علی جاوید ایڈووکیٹ نے کہا کہ بیرسٹر اعتزاز احسن اپنی وکلاء برادری کے ساتھ ملکر جمہوریت کی جنگ لڑیں گے اور اس کا پیپلز پارٹی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔

اے پی ڈی ایم کی شریک جماعتوں کے امیدوار پندرہ دسمبر کوجلوسوں میں جاکر اپنے کاغذات واپس لیں گے اور اسی روز اعتزاز احسن نے بھی اپنے کاغذات واپس لینے کا اعلان کر رکھا ہے۔

مسلم لیگنون لیگ کی کشش
گجرات کے چودھریوں کے خواب چکنا چور؟
انتخابی مہم پھیکی
عام انتخابات سر پر لیکن انتخابی مہم میں زور نہیں
سیاستدان سامنے آئیں
عدلیہ بحالی صرف وکلاء کا کام نہیں: معزول جج
انتخابی سرگرمیاں؟
انتخابی سرگرمیاں کہیں نظر نہیں آرہیں
جسٹس خواجہ شریف ’باغی‘ جج نظربند
ججوں کے گھر کے باہر پولیس تعینات کردی گئی
باعزت برخاستگی
حکومت حلف نہ لینے والے ججوں کی باعزت برخاستگی چاہتی ہے
اعتزاز احسناعتزاز کا خط
جنوری کے آخر میں ایک جیوڈیشل بس
اسی بارے میں
قاف لیگ پر دھاندلی کا الزام
11 December, 2007 | پاکستان
پی پی پی مسلم لیگ(ن) سے خوش
10 December, 2007 | پاکستان
مسلم لیگ (ن) انتخاب لڑے گی
09 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد