BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 December, 2007, 18:08 GMT 23:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدلیہ بحالی صرف وکلاء کا کام نہیں‘

معزول چیف جسٹس طارق پرویز
صدر پرویز مشرف نے یکے بعد دیگرے ملک کے تمام قومی اداروں کو تباہ کیا: معزول چیف جسٹس طارق پرویز
عبوری آئینی حکم کے تحت حلف نہ اٹھانے والے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اورتین ججوں نے کہا ہے کہ آئین اور عدلیہ کی بحالی صرف وکلاء کا کام نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں اور عوام کو بھی اس تحریک میں شامل ہونا چاہیے۔

پیر کو پشاور میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام منعقدہ وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس طارق پرویز خان، جسٹس شاہ جہان خان یوسفزئی، جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس اعـجاز افضل خان نے کہا کہ آٹھ جنوری کے عام انتخابات میں وکلاء ہر اس امیدوار کو ناکام بنانے کےلئے میدان میں نکل آئیں جو آئین اور عدلیہ کی بحالی کی بجائے صدر پرویز مشرف کے اقتدار کو طول دینے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات سے نہ تو ملک میں جمہوریت بحال ہوسکتی ہے اور نے آمریت کا خاتمہ ممکن ہے۔ انہوں نے پیشگوئی کی کہ قوم پندرہ دنوں میں بڑی خوشخبری سنےگی۔

معزول ججوں نے کہا کہ صدر پرویز مشرف نے یکے بعد دیگرے ملک کے تمام قومی اداروں کو تباہ کیا اور آج قوم اور فوج کے مابین بھی فاصلے پیدا ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سر تو کٹوا سکتے ہیں لیکن فرد واحد کی وفاداری کا حلف لینے کےلیے تیار نہیں۔

کنونشن میں وکلاء رہنماؤں نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو ’ہیرے، لال جواہر اورعدلیہ کے سپوتوں کے نام‘ سے یاد کیا۔

کنونشن کے لیے کچہری کی حدود میں ایک بہت بڑا پنڈال بنایا گیا تھا جس میں صوبہ بھر سے آئے ہوئے وکلاء کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ پنڈال کو رنگ برنگے پلے کارڈز اور بڑے بڑے بینرز سے سجایا گیا تھا جن پر ’ عدلیہ کی بحالی تک جنگ رہے گی جنگ رہے گی، اور ’گو مشرف گو‘ کے نعرے درج تھے۔

جسٹس شاہ جہان خان یوسفزئی اور دیگر ججوں کوگولڈ میڈل پہنائےگئے

اس سے پہلے کنونشن سے خطاب میں پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبد الطیف آفریدی ایڈوکیٹ نے کہا کہ وکلاء کی تحریک سے ملک کا امیج بیرونی دنیا میں بہتر ہوا ہے۔

کنونشن کے آغاز پر پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے گولڈ میڈل پہنائے گئے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ بار کے جنرل سیکرٹری اختر بلند خان نے بار کے احاطے میں جسٹس لائبریری قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

اسلام آباد سے طاہرہ سرور نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ وکلاء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے الیکشن میں حصہ لینے سے وکلاء تحریک کے مقاصد کے حصول میں تاخیر تو ضرور ہوگی لیکن تحریک جاری رہے گی ۔

سابق صدارتی امیدوار اور سندھ ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس وجیہہ الدین احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف وکلاء برادری کی نہیں بلکہ سول سوسائٹی کی بھی تحریک ہے۔

سیاسی جماعتوں کے انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں بات کرتے ہوئے جسٹس وجیہہ الدین کا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کے لیے یہ ایک مشکل فیصلہ تھا اور وہ انکی مجبوریوں سے آگاہ ہیں ۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں ’بڑے مقصد‘ کے حصول کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہیں۔‘

بڑے مقصد کا حصول
 ہم جانتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کے لیے یہ ایک مشکل فیصلہ تھا اور ہک انکی مجبوریوں سے آگاہ ہیں لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں ’بڑے مقصد‘ کے حصول کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہیں
جسٹس وجیہہ الدین

تاہم وکلاء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ انخابات میں سیاسی جماعتوں کی کوئی مدد نہیں کریں گے بلکہ انکی مخالفت کریں گے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیرمین مرزا عزیز اکبر بیگ کا کہنا ہے کہ آئین کی بالا دستی کے لیے چلائی گئی وکلاء تحریک کا ون پوائنٹ ایجنڈا معزول ججوں کی بحالی ہے اور اس مقصد کے حصول تک تحریک جاری رہے گی ۔

واضح رہے کہ پاکستان بار کونسل کی طرف سے تمام سیاسی جماعتوں کو آئندہ الیکشن کے بائیکاٹ کے لیے خط ارسال کیے گئے تھے۔ مرزا عزیز بیگ کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی جماعتوں نے ان کی اپیل مسترد کر دی ہے اور وہ الیکشن لڑ رہی ہیں تو وہ انہیں مسترد کرتے ہیں اور بقول انکے وہ انفرادی طور پر اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔

دوسری طرف الیکشن میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ معزول ججوں کی بحالی کے لیے وہ آنے والی پارلیمنٹ میں تحریک چلائیں گی۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مرزا عزیز کا کہنا تھا کہ یہ تو بعد کی باتیں ہیں۔’وعدۂ فردا پر ہم یقین نہیں رکھتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاستدان وکلاء تحریک سے متاثر ہو کر پارلیمنٹ میں بھی یہ بات کرتے ہیں تو یہ خوش آئند ہے لیکن وکلاء کی تحریک کسی طور پر نہیں دبےگی اور معزول ججوں کی واپسی تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا وکلاء سیاسی جماعتوں کے بغیر اپنی تحریک میں کامیاب ہو سکتے ہیں، مرزا عزیز اکبر بیگ کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کی تحریک بھی وکلاء نے خود چلائی تھی اور سیاسی جماعتیں انکی پیروی کر رہی تھیں۔

جیلپابندِ سلاسل
وکلاء سے ملاقات کی اجازت، دوائیوں کی نہیں
معزول جسٹس خواجہ محمد شریف’وکلاء کی قربانی‘
’سیاسی جماعتیں خدا کے لیے وکلاء کا ساتھ دیں‘
جسٹس(ر)وجیہہ الدینبراہِ راست چیلنج
وکلا کا صدر مشرف کو براہِ راست چیلنج ہے۔
فائل فوٹوجسٹس کی حمایت
ملک بھر میں وکلاء کا احتجاج تحریک بن گیا
مشرف کی تصویر نذر آتشوکلاء کا احتجاج
مختلف شہروں میں وکلاء نے جلوس نکالے
اسی بارے میں
فوج قومی نہیں قابض ہے: وکلاء
22 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد