بینظیر کی نامزدگی کےخلاف اپیل رد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ کے ٹربیونل نے پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی منظور کیے جانے کے خلاف دائر اپیل کو رد کر دیا ہے۔ بینظیر بھٹو لاڑکانہ سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے دو سو چار سے امیدوار ہیں، ان کے مدمقابل مسلم لیگ قائد اعظم کے امیدوار بابو سرور سیال نے جمعہ کو ان کے نامزدگی فارم کو چیلنج کیا تھا۔ بینظیر بھٹو کے وکیل فاروق نائیک نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس ندیم اظہر صدیقی اور جسٹس رانا شمیم پر مشتمل بینچ کے روبرو پیر کو دلائل دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت بینظیر بھٹو کے خلاف مقدمات ختم ہوگئے تھے، اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ بھی ان سزاؤں کو کالعدم قرار دے چکی ہے اور سپریم کورٹ نے بھی کہا تھا کہ کسی کی عدم موجودگی میں سزا نہیں سنائی جاسکتی۔ فاروق نائیک کے دلائل کے بعد اپیلٹ ٹربیونل نے بابو سرور سیال کی اپیل رد کردی۔ ددرخواست گذار کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ بابو سرور سیال کا موقف ہے کہ ملکی قانون کے تحت کوئی بھی سزا یافتہ یا مفرور شخص الیکشن نہیں لڑسکتا جبکہ بینظیر بھٹو قومی احتساب بیورو کے تین ریفرنسوں میں سزا یافتہ ہیں۔ بابو سرور سیال کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے فارم اسی نوعیت کے الزامات کے تحت رد کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ملک میں دو قانون کیسے ہوسکتے ہیں۔ لاڑکانہ ضلع کے چار میں سے تین تحصیل ناظمین کا تعلق مسلم لیگ قائد اعظم سے ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے مسلم لیگ ق کے امیدوار پر سرکاری وسائل کے استعال کا الزام عائد کیا جارہا ہے مگر بابو سرور سیال کا کہنا تھا کہ ان الزامات میں صداقت نہیں ہے ۔ دوسری جانب تھرپارکر کی قومی اور صوبائی نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد خان لُنڈ نے ارباب غلام رحیم کے نامزدگی فارم کو چیلینج کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ارباب غلام رحیم کی ڈگری جعلی ہے۔انہوں نے کہا کہ ارباب غلام رحیم کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ بھی زیر سماعت ہے اور انہوں نے جو اثاثے ظاہر کیے ہیں ان میں بھی غلط بیانی کی گئی ہے۔ محمد خان لُنڈ کی درخواست پر عدالت نے ارباب غلام رحیم کو نوٹس جاری کیے ہیں۔سندھ میں نامزدگی فارم منظور اور مسترد ہونے کے خلاف سماعت کے لیے دو اپیلٹ ٹربیونل بنائے گئے تھے، جن میں دو روز کے اندر تراسی اپیلیں دائر کی گئی ہیں۔جمعہ کو اپیل دائر کرنے کا آخری دن تھا، یہ ٹربیونل چودہ دسمبر تک ان اپیلوں کے فیصلے کریں گے۔ ادھر الیکشن کمیشن نے پیپلز پارٹی کی جانب سے ایم ایم اے کو انتخابی نشان ’کتاب’ اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے مسلم لیگ (ق) کو ’سائیکل’ کا نشان دیے جانے کے خلاف اعتراضات مسترد کر دیے ہیں۔ انتخابی کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں پیپلز پارٹی کے سینٹر لطیف کھوسہ نے ’کتاب‘ کے نشان کو کسی سیاسی جماعت کو دیے جانے پر اعتراض کیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ متحدہ مجلس عمل نے دو ہزار دو کے عام انتخابات میں اس نشان کو قرآن مجید سے تعیبر کر کے لوگوں کے مذہبی جذبات کا غلط فائدہ اٹھایا تھا۔ کمیشن کا موقف تھا کہ کتاب کا نشان اب بھی انتخابی نشانات کی سرکاری فہرست میں شامل ہے اور کسی جماعت کو محض اس بنیاد پر کہ یہ نہ دینا کہ اس سے ووٹروں کے دینی جذبات سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے درست نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی شکایت کے بارے میں کمیشن کا کہنا تھا کہ کوئی جماعت مسلم لیگ کے نام سے رجسٹر نہیں ہے اور مسلم لیگ (ق) نے ہی سائیکل کے لیے درخواست دی تھی لہذا یہ اسے دے دیا گیا۔ |
اسی بارے میں بی بی، ارباب کے خلاف درخواستیں07 December, 2007 | پاکستان چارٹر آف ڈیمانڈ کے نکات پر اتفاق06 December, 2007 | پاکستان بائیکاٹ کااعلان مشرف کی مدد: بینظیر02 December, 2007 | پاکستان ’منصفانہ انتخاب کے لیے آزاد عدلیہ لازم‘06 December, 2007 | پاکستان آٹھ جنوری: انتخابی سرگرمیاں غائب08 December, 2007 | پاکستان ’بحالی خیرات میں نہیں مانگتے‘05 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||