BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 December, 2007, 13:19 GMT 18:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلم لیگ (ق) کے منشور کا اعلان

چودھری شجاعت حسین
ملک کی بقاء جمہوری نظام میں ہے: چودھری شجاعت حسین
پاکستان مسلم لیگ قائداعظم نے ملک میں ہونے والے آئندہ انتخابات کے لیے اپنے منشور کا اعلان کر دیا ہے اور اس جماعت کا منشور’جیو اور جینے دو‘ پر مشتمل ہے۔

مسلم لیگ(ق) کے منشور میں جمہوریت، ڈویلپمنٹ، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی، تمام مذاہب کے لیے برابری کے حقوق اور دفاع پاکستان جیسے نکات شامل ہیں۔

پی ایم ایل کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور جنرل سیکرٹری مشاہد حسین سید نے پیر کے روز مسلم لیگ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران اپنے منشور کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ’ہماری جماعت جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور ملک کی بقاء جمہوری نظام میں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ شخصیت پرستی پر یقین نہیں رکھتی کیونکہ یہ بت پرستی کے زمرے میں آتا ہے۔

مشاہد حسین نے کہا کہ جس طرح کا جمہوری کلچر پاکستان میں ہے اُسی طرح کا کلچر قبائلی علاقوں میں بھی رائج کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا حل طاقت سے نہیں ہوسکتا اور سیاسی جماعتیں اس مسئلے کا حل نکال سکتی ہیں۔

 اگر سیاستدان فوجی جرنیلوں سے رابطے چھوڑ دیں اور ان کو سیاست میں مداخلت کی دعوت نہ دیں تو فوجی جنرل کبھی بھی سیاست میں نہ آئیں اور ملک میں جمہوریت فروغ پاتی رہے۔
مشاہد حسین

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ جو بھی جماعت برسراقتدار آئے تو اسے پانچ سال تک حکومت کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آئین کی دفعہ اٹھاون دو بی جس کے تحت صدر کو اسمبلی توڑنے کا اختیار دیا گیا ہے اس کے بارے میں ان کی جماعت کا کیا موقف ہے تو مشاہد حسین نے اس کا واضح جواب نہیں دیا اور کہا کہ اس کا فیصلہ انتخابات کے بعد قائم ہونے والی اسمبلی کرے گی۔

پی ایم ایل (ق) کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اگر سیاستدان فوجی جرنیلوں سے رابطے چھوڑ دیں اور ان کو سیاست میں مداخلت کی دعوت نہ دیں تو فوجی جنرل کبھی بھی سیاست میں نہ آئیں اور ملک میں جمہوریت فروغ پاتی رہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایم ایل کے منشور میں تعلیم کو اولین ترجیح دی گئی ہے اور اس ضمن میں اساتذہ کی ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سال سے بڑھا کر پینسٹھ سال کی تجویز دی گئی ہے۔

مشاہد حسین نے کہا کہ ان کی جماعت انسانی حقوق کے احترام پر یقین رکھتی ہے اور ان کی جماعت نے اپنے دور اقتدار میں اس ضمن میں متعدد کام کیے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو مساوی حقوق دینے کے علاوہ ان کو بااختیار بھی بنایا گیاہے اور ان کو ضلعی ، صوبائی اور قومی سطح پر نمائندگی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ونی اور خواتین کی قرآن کے ساتھ شادی کے مسئلے کو بھی پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اقلیتوں کی حقوق کی پاسداری پر یقین رکھتی ہے اور وہ اپنی مذہبی رسومات آزادانہ طور پر ادا کر سکتے ہیں۔مشاہد حسین نے کہا کہ اسّی لاکھ کے قریب پاکستان بیرونی ممالک میں روزگار کی غرض سے گئے ہوئے ہیں اور انہوں نے ملکی معیشت کو اوپر لے جانے میں اہم کردار ادا کیا ہے لہذا ان افراد کی نمائندگی بھی پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے۔

مشاہد حسین سید نے کہا کہ ان کی جماعت قیدیوں کے حقوق کا بھی خیال رکھے گی اور ان قیدیوں کو مالی امداد فراہم کرے گی جن کے پاس اپنی ضمانت کے لیے وکیل کو دینے کی فیس نہیں ہے۔

 پاکستان کا ایٹمی پرگرام صرف اس کے دفاع کے لیے ہے اور کسی کو بھی پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کا دورہ کرنے یا کسی بھی سائنسدان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مشاہد حسین

خارجہ پالیسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت دوسرے ملکوں اور بلخصوص ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتی ہے اور کو مذید بہتر بنانے ے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے عراق میں جاری جنگ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کو فی الفور ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مشاہد حسین نے کہا کہ عراق کا کنٹرول اقوام متحدہ کی نگرانی میں دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھی جاری جنگ کو روک دیا جائے اور اور جنگجووں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں کونکہ طاقت سے مسائل حل نہیں ہوتے۔

ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل مذاکرات میں مضمر ہے اور ایران کو اپنا ایٹمی پروگرام انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی ہدایات کی روشنی میں جاری رکھنا چاہیے۔

دفاع کے بارے میں پی ایم ایل کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ان کی جماعت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ملک کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پرگرام صرف اس کے دفاع کے لیے ہے اور کسی کو بھی پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کا دورہ کرنے یا کسی بھی سائنسدان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت ملک میں مزید آبی ذخائر تعمیر کرنے پر یقین رکھتی ہے تاہم اس کی تعمیر کا فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔ مشاہد حسین نے کہا کہ صوبوں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دیے جائیں اور ان کو قدرتی وسائل میں زیادہ سے زیادہ حصہ دیا جائے کیونکہ خوشحال صوبے ایک مضبوط پاکستان کی علامت ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تمام افراد کا احتساب سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر ہونا چاہیے اور کسی کو بھی سیاسی طور پر نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ مشاہد حسین نے پاکستان مسلم لیگ نواز کی طرف سے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔

اسی بارے میں
الیکشن: انتخابی نشانات الاٹ
10 December, 2007 | پاکستان
پی پی پی مسلم لیگ(ن) سے خوش
10 December, 2007 | پاکستان
مسلم لیگ (ن) انتخاب لڑے گی
09 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد