الیکشن: انتخابی نشانات الاٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الیکشن کمیشن نے آٹھ جنوری کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے چالیس سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشانات الاٹ کر دیئے ہیں جبکہ ایم ایم اے سمیت بعض جماعتوں کے طلب کردہ نشانات پر تنازعات کے باعث ان پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین، مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کو وہی انتخابی نشانات دیے گئے ہیں جن کے تحت انہوں نے گزشتہ انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ چنانچہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین تیر، مسلم لیگ (ن) شیر، مسلم لیگ (ق) سائیکل، ایم کیو ایم پتنگ اور عوامی نیشنل پارٹی لالٹین کے سابقہ انتخابی نشان کے تحت ہی الیکشن 2008 میں حصہ لینگی۔ انتخابی نشانات کے لیے کل 54 جماعتوں نے انتخابی نشانات کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کروائی تھیں، لیکن بعض جماعتوں کے درمیان نشانات کے حصول کے لیے تنازعہ کے باعث چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ قاضی محمد فاروق نے ان پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ ان میں سر فہرست چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کی جانب سے طلب کیاگیا کتاب کا نشان ہے جس پر سیکولر سمجھی جانے والی متعدد سیاسی جماعتوں نے اعتراض کیا۔ معترض جماعتوں میں عوامی نیشنل پارٹی، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی شامل ہیں۔
پیپلز پارٹی کے راولپنڈی سے امیدوار عامر فرید پراچہ کی جانب سے اٹھائے گئے نکتۂ اعتراض میں کہا گیا تھا کہ ایم ایم اے کے امیدواران کتاب کے نشان کو اپنی انتخابی مہم میں قرآن کے طور پر پیش کر کے ووٹرز کے مذہبی جذبات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی جذبات کواس طرح سے استعمال کرنا انتخابی مہم کے ضابطۂ اخلاق اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اجلاس میں مسلم لیگ (ق) کو سائیکل کا نشان الاٹ کیا گیا تو اس پر مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (فنکشنل) کے امیدواروں نے اعتراض کیا کہ صدر مشرف کی حمایت یافتہ جماعت کو پاکستان مسلم لیگ کے طور پر نشان الاٹ کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ’ق‘ کا لاحقہ نہیں لگایا گیا جبکہ گزشتہ انتخابات میں یہ نشان مسلم لیگ (ق) کو الاٹ کیا گیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے سید ظفر علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’ق‘ کے مسلم لیگ سے ووٹرز مخمصے کا شکار ہونگے، جس کا فائدہ سائیکل کے نشان والی مسلم لیگ کو ہوگا۔ چیف الیکشن کمشنر نے یہ اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس ’ق‘ لاحقے والی کوئی مسلم لیگ رجسٹرڈ ہی نہیں ہے۔ بڑی جماعتوں میں پیپلز پارٹی کو تیر، نواز لیگ کو شیر، ایم کیو ایم کو پتنگ، عوامی نیشنل پارٹی کو لالٹین کا نشان دیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں مسلم لیگ (نواز) انتخابات میں حصہ لےگی09 December, 2007 | پاکستان قومی انتخابات کے ’بلدیاتی‘ امیدوار08 December, 2007 | پاکستان الیکشن کمیشن کا مشورہ مسترد08 December, 2007 | پاکستان امیدواروں کی ڈگریوں پر اعتراض05 December, 2007 | پاکستان ’شفاف الیکشن وگرنہ بائیکاٹ‘03 December, 2007 | پاکستان ’امیدوار کاغذات جمع کرائیں‘22 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||