BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 December, 2007, 02:28 GMT 07:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الیکشن: انتخابی نشانات الاٹ

بیلٹ باکس
الیکشن کمیشن نے آٹھ جنوری کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے چالیس سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشانات الاٹ کر دیئے ہیں جبکہ ایم ایم اے سمیت بعض جماعتوں کے طلب کردہ نشانات پر تنازعات کے باعث ان پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔

ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین، مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کو وہی انتخابی نشانات دیے گئے ہیں جن کے تحت انہوں نے گزشتہ انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

چنانچہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین تیر، مسلم لیگ (ن) شیر، مسلم لیگ (ق) سائیکل، ایم کیو ایم پتنگ اور عوامی نیشنل پارٹی لالٹین کے سابقہ انتخابی نشان کے تحت ہی الیکشن 2008 میں حصہ لینگی۔

انتخابی نشانات کے لیے کل 54 جماعتوں نے انتخابی نشانات کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کروائی تھیں، لیکن بعض جماعتوں کے درمیان نشانات کے حصول کے لیے تنازعہ کے باعث چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ قاضی محمد فاروق نے ان پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

ان میں سر فہرست چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کی جانب سے طلب کیاگیا کتاب کا نشان ہے جس پر سیکولر سمجھی جانے والی متعدد سیاسی جماعتوں نے اعتراض کیا۔ معترض جماعتوں میں عوامی نیشنل پارٹی، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی شامل ہیں۔

مذہبی جذبات سے فائدہ
 ایم ایم اے کے امیدواران کتاب کے نشان کو اپنی انتخابی مہم میں قرآن کے طور پر پیش کر کے ووٹرز کے مذہبی جذبات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مذہبی جذبات کواس طرح سے استعمال کرنا انتخابی مہم کے ضابطۂ اخلاق اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی ہے
امیدوار پیپلز پارٹی

پیپلز پارٹی کے راولپنڈی سے امیدوار عامر فرید پراچہ کی جانب سے اٹھائے گئے نکتۂ اعتراض میں کہا گیا تھا کہ ایم ایم اے کے امیدواران کتاب کے نشان کو اپنی انتخابی مہم میں قرآن کے طور پر پیش کر کے ووٹرز کے مذہبی جذبات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مذہبی جذبات کواس طرح سے استعمال کرنا انتخابی مہم کے ضابطۂ اخلاق اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

الیکشن کمیشن کے اجلاس میں مسلم لیگ (ق) کو سائیکل کا نشان الاٹ کیا گیا تو اس پر مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (فنکشنل) کے امیدواروں نے اعتراض کیا کہ صدر مشرف کی حمایت یافتہ جماعت کو پاکستان مسلم لیگ کے طور پر نشان الاٹ کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ’ق‘ کا لاحقہ نہیں لگایا گیا جبکہ گزشتہ انتخابات میں یہ نشان مسلم لیگ (ق) کو الاٹ کیا گیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کے سید ظفر علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’ق‘ کے مسلم لیگ سے ووٹرز مخمصے کا شکار ہونگے، جس کا فائدہ سائیکل کے نشان والی مسلم لیگ کو ہوگا۔

چیف الیکشن کمشنر نے یہ اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس ’ق‘ لاحقے والی کوئی مسلم لیگ رجسٹرڈ ہی نہیں ہے۔

بڑی جماعتوں میں پیپلز پارٹی کو تیر، نواز لیگ کو شیر، ایم کیو ایم کو پتنگ، عوامی نیشنل پارٹی کو لالٹین کا نشان دیا گیا ہے۔

انتخابی سرگرمیاں؟
انتخابی سرگرمیاں کہیں نظر نہیں آرہیں
نواز شریف اور بینظیر بھٹوبائیکاٹ، نو بائیکاٹ
انتخابات: اپوزیشن میں اتفاق رائے کا فقدان
وکلاء کا احتجاج’لچک نہ دکھائیں‘
آزاد عدلیہ کے بغیر منصفانہ انتخابات ناممکن
جانچ پڑتال شروع
کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا آغاز ہو گیا
مولانا فضل الرحمٰن اپوزیشن مخمصے میں
انتخابات بائیکاٹ، اپوزیشن کی سوچ بچار
قاضی فاروقعدالتی بحران
چیف الیکشن کمشنر قاضی فاروق بھی سرگرم
اسی بارے میں
الیکشن کمیشن کا مشورہ مسترد
08 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد