BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 November, 2007, 12:36 GMT 17:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الیکشن کے مشروط بائیکاٹ کا اعلان

’اے پی ڈی ایم
’تمام سیاسی جماعتیں انتخابات کا متفقہ بائیکاٹ کرتی نظر نہیں آتیں‘
پاکستان میں حزب مخالف کے ایک اتحاد ’اے پی ڈی ایم‘ نے آٹھ جنوری کے مجوزہ عام انتخابات کا مشروط طور پر بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان اتحاد کے ایک اجلاس کے بعد مسلم لیگ نواز کے رہنما راجہ ظفر الحق، متحدہ مجلس عمل کے قاضی حسین احمد اور دیگر رہنماؤں نے مشترکہ نیوز بریفنگ میں کیا۔ بریفنگ میں محمود خان اچکزئی، عمران خان اور ڈاکٹر قادر مگسی بھی موجود رہے۔

حزب مخالف کے رہنماؤں نے کہا کہ اگر آئندہ چار روز میں حکومت نے آئین بحال نہیں کیا،ایمرجنسی ختم نہیں کی، وکیل اور سیاسی کارکنوں کو رہا نہیں کیا، میڈیا پر عائد پابندیاں نے اٹھائیں اور برطرف ججوں کو بحال نہیں کیا تو وہ انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔

 اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن اور اسفند یار ولی شریک نہیں ہوئے جبکہ قاضی حسین احمد نے کہا کہ انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے سے وہ اصولی طور پر متفق ہیں لیکن انہیں مہلت چاہیے تاکہ وہ اپنی جماعت کے شوریٰ سے اس فیصلے کی توثیق کراسکیں۔

بریفنگ کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کے صدر جاوید ہاشمی نے بتایا کہ اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن اور اسفند یار ولی شریک نہیں ہوئے۔

ان کے مطابق اجلاس میں قاضی حسین احمد نے کہا کہ انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے سے وہ اصولی طور پر متفق ہیں لیکن انہیں مہلت چاہیے تاکہ وہ اپنی جماعت کے شوریٰ سے اس فیصلے کی توثیق کراسکیں۔

تاہم جاوید ہاشمی نے کہا کہ اگر کوئی جماعت انتخابات میں حصہ لیتی ہے تو یہ ان کا اپنا فیصلہ ہوگا اور وہ ان کے ایسے حق کا احترام کریں گے لیکن ان کے بقول مسلم لیگ نواز سمیت ’اے پی ڈی ایم، کی دیگر جماعتیں بائیکاٹ کریں گی۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ جلد پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو سے بھی رابطہ کریں گے تاکہ انہیں بھی بائیکاٹ کے لیے قائل کرسکیں۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ مسلم لیگ نواز اپنی ہم خیال جماعتوں سے مل کر جنرل مشرف کے ہٹانے تک تحریک چلائے گی۔

واضح رہے کہ ’اے پی ڈی ایم، کی دو اہم جماعتوں کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن اور اسفد یار ولی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ دونوں رہنما پہلے ہی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرچکے ہیں۔

ایسے میں کچھ سیاسی تبصرہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسا بہت مشکل نظر آتا ہے کہ حزب مخالف کی تمام سیاسی جماعتیں انتخابات کا متفقہ طور پر بائیکاٹ کرسکیں۔

اسی بارے میں
بائیکاٹ موخر، احتجاج کی کال
19 November, 2007 | پاکستان
نواز شریف کی بینظیر کو پیشکش
10 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد