BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جے یو آئی: امیدواروں کا اعلان

جمعیت علمائے اسلام، بلوچستان
جمعیت علمائے اسلام نے سوات میں فوجی کارروائی کے خلاف کوئٹہ میں مظاہرہ کیا
جمعیت علمائے اسلام بلوچستان نے انتخابات میں حصہ لینے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے تاہم انہوں نے متحدہ مجلس عمل میں شامل دیگرحماعتوں کیلئے نہ کوئی نششت رکھی ہے اورنہ ہی کوئی معاہدہ کیا ہے اورنہ ہی ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے کوئی مشاورت کی ہے۔

جمعیت علما اسالام کے صوبائی امیر مولانا محمد خان شیرانی نےجمعہ کو کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سیاست کا کچھ پتہ نہیں چلتا کبھی مارشل لاء، کبھی ایمر جنسی، کبھی جمہوریت ہوتی ہے۔

ٹکٹوں کی تقسیم
 جمعیت نے تمام ٹکٹیں تنظیم کے ضلعی سطح کی سفارشوں کی بنیاد پر تقسیم کی ہیں، اگر بعد میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے کوئی طریقہ کار طے ہوتا ہے تو جے یو آئی کے امیدوار اپنے کاغذات واپس لیں گے۔
مولانا شیرانی
انہوں نے صوبائی سطع پر انتخابات میں حصہ لینے کے لیے جمیعت کے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ماضی میں ہونے والے انتخابات میں زیادہ ووٹ جے یوآئی نے حاصل کیے ہیں اس لیے ’اکثر نشستوں پرہمارے ہی امیدواروں کا حق ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت نے تمام ٹکٹیں تنظیم کے ضلعی سطح کی سفارشوں کی بنیاد پر تقسیم کی ہیں، اگر بعد میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے کوئی طریقہ کار طے ہوتا ہے تو جے یو آئی کے امیدوار اپنے کاغذات واپس لیں گے۔

جب ان سے پوچھاگیا کہ اس سے صوبائی سطح پرایم ایم اے تقسیم نہیں ہوگی تومولانامحمد خان شیرانی نے کہا کہ اس سے قبل بھی ملک میں ضلعی انتخابات کے دوران ایم ایم اے کے ہوتے ہوئے تمام جماعتوں نے الگ الگ حصہ لیاتھا اور اب بھی کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔

مولانا شیرانی نے ملکی سطع پر حزب اختلاف کے ان جماعتوں سے بھی اختلاف کیا جوابھی تک پی سی او کے تحت ہونے والے عام انتخابات کی مخالفت کر رہی ہیں اور کہا کہ پاکستان میں 2002ءتک تمام انتخابات پی سی او یا مارشل لاءکے تحت ہوئے ہیں اورحالات کو تبدیل کرنے کا یہی واحد راستہ ہے۔ ’اس لیے جمعیت نے عام انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے‘۔

دوسری جانب جمعہ کے روزمسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اورجماعت اسلامی کے رہنماؤں نے بھی قومی وصوبائی اسمبلیوں کے لیے انتخابی کمیشن سے کاغذات نامزدگی حاصل کیے ہیں۔ فارم حاصل کرنے والوں میں مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صدر سابق وفاقی وزیر سردار یعقوب خان ناصر اور صوبائی جنرل سیکرٹری ایاز سواتی ایڈووکیٹ، پیپلزپارٹی کے سابق ایم پی اے شفیق احمد خان، سابق وفاقی وزیر اور ق لیگ کے رہنماء سردار فتح محمد حسنی کے علاوہ جماعت اسلامی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری اورکوئٹہ کے امیر اختر محمد(زاہد اختر) شامل ہیں۔

تاہم بلوچ پشتون قوم پرست پارٹیوں نے ابھی تک انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ نہیں کیا ہے کیونکہ ان قوم پرست جماعتوں کا موقف ہے کہ ملک میں ایمرجنسی، آئین کی معطلی اور بلوچستان میں فوج اوربلوچوں کے درمیان کشیدگی کی حالت میں انتخابات میں حصہ لیناایک غیرجمہوری عمل ہوگا۔
ان پارٹیوں کی قیادت آج اسلام آبادمیں ہونے والے اے پی ڈی ایم کے اجلاس میں شرکت کر کے حزب اختلاف کے حتمی فیصلے کے بعد ہی آئندہ کالائحہ عمل طے کرے گی۔

مولانا فضل الرحمٰن اپوزیشن مخمصے میں
انتخابات بائیکاٹ، اپوزیشن کی سوچ بچار
قاضی حسین احمدالیکشن لڑیں یا نہ؟
بائیکاٹ کے حوالے سے سیاسی مشورے
بینظیر بھٹوانتخابات میں شرکت
بینظیر کے اعلان سے سیاست میں ہلچل
عمران خان’بائیکاٹ ہونا چاہیے‘
انتخابات سے پاکستان میں انتشار بڑھے گا
سپریم کورٹاغوا کنندہ کا اعلان
آئینی رکاوٹ پر ایک شکستہ پل باندھ دیا گیا
اسی بارے میں
عام انتخابات آٹھ جنوری کو
20 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد