BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 December, 2007, 09:38 GMT 14:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ق لیگ کو ایک کے بعد ایک دھچکا

چودھری پرویز الہی
ق لیگ کو پہنچنے والے حالیہ نقصان سے پرویز الہیٰ کا وزیراعظم بننے کا خواب بھی چکنا چور ہوسکتا ہے
مسلم لیگ نواز کی مرکزی قیادت کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے باوجود جماعت کے الیکشن میں حصہ لینے کے فیصلے نے جہاں ان کی ہم خیال جماعتوں کو ششدر کردیا ہے وہاں یہ فیصلہ صدر پرویز مشرف کی حمایت یافتہ مسلم لیگ (ق) کے لیے بھی پریشانی کا باعث ہے۔

پاکستان میں حزب مخالف کی جماعتوں کی جانب سے متفقہ طور پر انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے لیے ابتدا میں سب سے زیادہ زور مسلم لیگ نواز کا ہی تھا۔ لیکن اس بارے میں اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی جانب سے ’ووٹ مانگنے کے لیے آنے والوں کو ڈنڈے مارنے‘ کے بیان کی ابھی سیاہی ہی خشک نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کردیا۔

میاں نواز شریف کی اس سیاسی قلابازی یا اپنے ہم خیالوں سے بے وفائی کی بات اپنی جگہ لیکن اکثر سیاسی تجزیہ کار ان کے الیکشن میں حصہ لینے کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہیں۔

بیشتر تجزیہ کار اس بات پر بھی متفق دکھائی دیتے ہیں کہ اگر مسلم لیگ نواز انتخابات کا بائیکاٹ کرتی تو وہ اپنی جماعت کا ’بیس کیمپ‘ یعنی صوبہ پنجاب صدر پرویز مشرف کی حامی مسلم لیگ کو بطور تحفہ دینے کے برابر تھا۔

اس صورت میں خود پیپلز پارٹی الزام لگا رہی تھی کہ صدر پرویز مشرف ’خفیہ الیکشن انجنیئرز‘ کی مدد سے مسلم لیگ (ق) جہاں پنجاب کی صوبائی حکومت اکیلے طور پر بنانے کی پوزیشن میں آسکتی تھی وہاں قومی اسمبلی کی صوبہ پنجاب میں ایک سو اڑتالیس نشستوں میں سے بڑا حصہ بھی حاصل کرسکتی تھی۔

نواز شریف
نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے
مسلم لیگ نواز کے انتخابات میں حصہ لینے سے اب جہاں مسلم لیگ (ق) کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ پیدا ہوگی وہاں اس کا فائدہ پیپلز پارٹی کو بھی ہوگا کیونکہ پنجاب میں کئی حلقے ایسے ہیں جہاں نواز لیگ کی موجودگی کی وجہ سے پی پی پی مخالف ووٹ تقسیم ہوسکتا ہے۔

گزشتہ چند روز میں مسلم لیگ (ق) کے رانا نذیر، زاہد حامد، حنا ربانی کھر اور فاروق اعظم ملک سمیت ایک درجن کے قریب سرکردہ شخصیات جو پانچ سالہ اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز میں شامل ہوچکی ہیں اور اطلاعات کے مطابق آئندہ دنوں میں کچھ اور بھی شخصیات ایسا کرتے ہوئے مسلم لیگ (ق) کو سیاسی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

بعض سیاسی تبصرہ کار کہتے ہیں کہ پنجاب میں اب ویسی ہی صورتحال ہے جیسے انیس سو ستانوے کے انتخابات میں صوبہ سندھ میں ہوا تھا۔ سن ستانوے میں بینظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی اور ان کے مقتول بھائی مرتضیٰ بھٹو کی پیپلز پارٹی کے درمیاں ووٹ تقسیم ہوگئے تھے، جس کا فائدہ مسلم لیگ نواز کو ہوا تھا اور پہلی بار ان کی جماعت کے قابل ذکر تعداد میں اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سندھ سے منتخب ہوئے تھے۔

اب کی بار پنجاب میں مسلم لیگ کے ووٹ کی تقسیم کا فائدہ پیپلز پارٹی کو عددی اعتبار سے شاید مسلم لیگ نواز کو سندھ میں ہونے والے فائدے سے کچھ زیادہ ہی ہوگا کیونکہ پنجاب میں نشستیں سندھ کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ق) کے مضبوط امیدواروں کے پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کی رفتار سے جہاں پرویز مشرف کی پریشانی میں اضافہ ہوگا وہاں پرویز الہیٰ کا وزیراعظم بننے کا خواب بھی چکنا چور ہوسکتا ہے۔

انتخابی مہم پھیکی
عام انتخابات سر پر لیکن انتخابی مہم میں زور نہیں
انتخابی سرگرمیاں؟
انتخابی سرگرمیاں کہیں نظر نہیں آرہیں
نواز شریف اور بینظیر بھٹوبائیکاٹ، نو بائیکاٹ
انتخابات: اپوزیشن میں اتفاق رائے کا فقدان
فضل الرحمانقاضی فضل اختلافات
کیا متحدہ مجلس عمل کے خاتمے کا وقت آ گیا ؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد