BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لیاری میں تیر جیتے گا یا فٹبال

پیپلز پارٹی کے باغی گروپ کے امیدوار واجہ کریم داد
ورکرز گروپ کے امیدوار واجہ کریم داد دس سال پیپلز پارٹی کے صدر رہے ہیں
کراچی کے قدیم علاقے لیاری میں پاکستان پیپلز پارٹی کو دشواری کا سامنا ہے، جہاں پارٹی کے نامزد امیدواروں کے سامنے باغی دھڑے نے اپنے امیدوار کھڑے کر دیئے ہیں۔

اس علاقے میں جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں کے کیمپ پر پارٹی کا ترنگا جھنڈہ لہرا رہا ہے تو مخالف امیدواروں کے کیمپ پر بھی یہ ہی صورتحال ہے۔ کیونکہ یہ مخالف کسی اور جماعت سے نہیں بلکہ پیپلز پارٹی سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔

لیاری میں قومی اسمبلی کی نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی نے سردار نبیل گبول اور صوبائی حلقے پی ایس 109 پر انجنیئر رفیق کو دوبارہ نامزد کیا ہے، جن کے خلاف پارٹی کے باغی دہڑے ورکرز گروپ نے پیپلز یوتھ کے سابق رہنما شکور شاد کو قومی اور سابق رکن صوبائی اسمبلی خالق جمعہ کے قریبی رشتہ دار رشید ہارون کو صوبائی اسمبلی کی نشست پر امیدوار نامزد کیا ہے۔

بچہ بچہ بیزار ہے
ورکرز گروپ نے پیپلز یوتھ کے سابق رہنما شکور شاد کو قومی اسمبلی کی سیٹ کے لیے نامزد کیا ہے
 لیاری میں بچہ بچہ سابق نمائندوں کے نام سے بیزار ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں انہوں نے مڑ کر نہیں دیکھا کہ یہاں کیا ہوا۔ اس دوران لیاری جلتا رہا ، گینگ وار میں کئی لوگ مارے گئے، نقل مکانی ہوئی
شکور شاد

ورکرز گروپ کو پارٹی کے سینئر کارکنوں کی بھی حمایت حاصل ہے ، جن میں دس سال تک پارٹی کے صدر رہنے والے واجہ کریم داد بھی شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پارٹی نے جو نمائندے دیئے ہیں ان کے رویے کارکنوں کے ساتھ اچھا ہے نہ ووٹروں کے ساتھ۔ ’یہ یہاں سے ووٹ لیکر گھر چلے جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جب دوبارہ واپس آئیں گے تو بینظیر کا آشیرواد ان کے ساتھ ہوگا، پیپلز پارٹی کانام ہوگا اور تیر کا نشان ہوگا تو جیت انہیں کی ہوگی پھر وہ کیوں کسی کے ساتھ اچھا رویہ رکھیں۔‘

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیاری پہلے پیپلز پارٹی کا گڑھ ہوتا تھا اب یہاں گڑھا ہوگیا ہے۔

لیاری میں پاکستان پیپلز پارٹی میں اختلافات دو ہزار پانچ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں سامنے آئے جب پارٹی نے ٹاؤن ناظم کے لیے غیر معروف امیدوار کو نامزد کیا۔ اس اقدام کی مقامی قیادت اور کارکنوں نے مخالفت کی اور ورکرز گروپ نے اپنا الگ سے امیدوار نامزد کیا جس نے کامیابی حاصل کی اور اپنا ناطہ پارٹی سے ہی جوڑا۔

قومی اسمبلی کے لیے نامزد امیدوار شکور شاد کا کہنا ہے کہ لیاری میں بچہ بچہ سابق نمائندوں کے نام سے بیزار ہے۔ ’پچھلے پانچ سالوں میں انہوں نے مڑ کر نہیں دیکھا کہ یہاں کیا ہوا۔ اس دوران لیاری جلتا رہا ، گینگ وار میں کئی لوگ مارے گئے، نقل مکانی ہوئی۔

رشید ہارون
ورکرز گروپ نے رشید ہارون کو صوبائی اسمبلی کی نشست پر امیدوار نامزد کیا ہے

’ہم نے یہ سوچا کہ بجائے اس کا رد عمل یہ ہو کہ پیپلز پارٹی کا ووٹر گھر میں بیٹھ جائے یا کسی اور پارٹی کو ووٹ دے اور یہ کہا جائے کہ پیپلز پارٹی کو لیاری سے شکست ہوگئی ہم نے میدان عمل میں آنے کا فیصلہ کیا۔‘

صوبائی حلقے سے امیدوار رشید ہارون کہتے ہیں کہ انہوں نے پارٹی ٹکٹ کے لیے رجوع کیا تھا مگر حقیقی جیالوں کو نظر انداز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ لیاری میں اس وقت ذوالفقار علی بھٹو کے چاہنے والوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے اور وہ کبھی نہیں چاہے گی کہ سابق امیدواروں کو دوبارہ ووٹ دیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار نبیل گبول ورکرز گروپ کی موجودگی کو رد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ’یہ چار لوگ ہیں جو خود الیکشن میں کھڑے ہوگئے ہیں اور ہر الیکشن میں کھڑے ہو جاتے اور بعد میں خود ہی بیٹھے جاتے ہیں۔‘

لیاری کے اس حلقے سے بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری بھی امیدوار رہے ہیں۔ یہاں کے لوگ پاکستان پیپلز پارٹی کے چاہنے والے اور فٹبال کے دیوانے ہیں اور ورکرز گروپ کا انتخابی نشان فٹبال ہی ہے۔ اب یہ لوگوں پر ہے کہ وہ تیر کا انتخاب کرتے ہیں کہ فٹبال کا۔

اسی بارے میں
بائیکاٹ سے صورتحال تبدیل
14 December, 2007 | پاکستان
قاضی، فضل: مختلف بیانات
04 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد