بائیکاٹ سے صورتحال تبدیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ جنوری کو ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں صوبہ سرحد میں سیاسی جماعتوں کے درمیان انتخابی اتحاد بنانے کے حوالے سے رابطے شروع ہوگئے ہیں تاہم جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے اعلان نے صوبے کے مستقبل کے انتخابی نقشے کو بہت حد تک بدل دیا ہے۔ جماعت اسلامی نے بائیکاٹ کے حوالے سے اپنے مؤقف کی ترویج اور بائیکاٹ کو کامیاب بنانے کے لیے صوبہ بھر میں عوامی مہم کا آغاز کردیا ہے ۔ اس حوالے سے پشاور اور دیگر اہم شہروں میں بائیکاٹ کی حمایت میں کالے بینر اور جماعتِ اسلامی کے انتخابی عمل سے دستبردار ہونے والے امیدواروں کی جانب سے بڑے بڑے بورڈ شہر کے مختلف علاقوں کی سڑکوں اور چوکوں پر آویزاں کیے گئے ہیں۔ جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے اہم رہنما مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ پندرہ دسمبر کو جماعت اسلامی کے امیدوار اپنے اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس لیں گے جس کے بعد جماعت اسلامی ایک باقاعدہ مہم کا آغاز کیا جائے گا جس میں ووٹروں سے رابطہ کیا جائے تاکہ اور اُنہیں اس بات پر آمادہ کیا جائے گا کہ وہ آئندہ ’فراڈ’ انتخابات میں ووٹ نہ ڈال کے اس ’انتخابی ڈرامے’ پر عدم اعتماد کریں۔ دوسری جانب اے پی ڈی ایم اور متحدہ مجلس عمل کی جانب سےانتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کے حوالے سے ایک واضح صورتحال کے سامنے آنے کے بعد صوبہ سرحد میں انتخابی سرگرمیوں میں اب قدرے تیزی آگئی ہے ۔ قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے علاوہ زیادہ تر جماعتوں نے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسمنٹ کے لیےایک دوسرے کے ساتھ رابطے شروع کردیے ہیں۔
تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ کل تک ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی اور الزام تراشیوں میں مصروف جماعتیں آج آپس میں اتحاد کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آرہی ہیں۔ مثلاً تقریباً پانچ سال تک ایم ایم اے میں شامل جمیعت علماء اسلام (ف) پیپلز پارٹی شیر پاؤ کے سربراہ اور سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ کو امریکہ کا حواری قرار دیتی رہی اور جواب میں آفتاب شیر پاؤ کی جماعت ایم ایم اے کو اسلام کے نام نہاد ٹھیکیدار کہہ کر اسے تنقید کا نشانہ بناتی رہی۔ اسکے علاوہ پیپلز پارلیمنٹیرینز نے بالآخر آفتاب احمد خان شیر پاؤ کی جماعت کے ساتھ چارسدہ کے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشتستوں پر انتخابی اتحاد کر لیاہے۔ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت نے ڈیرہ اسماعیل خان میں جے یوآئی (ف) چارسدہ میں پی پی پی پارلیمنٹیرئنز اور صوابی اور سوات میں مسلم لیگ (ق) کے ساتھ سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسمنٹ کی ہے جبکہ مزید انتخابی اتحاد ہونے کی بھی توقع ہے۔
جماعت اسلامی کے انتخابات سے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے کسی بھی جماعت سے انتخابی اتحاد نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اے این پی کےمرکزی سیکریٹری اطلاعات زاہد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک کسی بھی سیاسی پارٹی نے انکے ساتھ رابطہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی اے این پی اس وقت کسی کے ساتھ انتخابی اتحاد بنانے کے موڈ میں ہے۔ انکے بقول ’ ایم ایم اے نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں کسی قسم کی کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھائی اس لیے ہمیں یقین ہے کہ اس دفعہ ہماری جماعت بھاری اکثریت سے جیتی گی۔ہمارے کارکنوں کا خیال ہے کہ اس مرتبہ صوبہ سرحد میں حکومت بنانے کی باری اے این پی کی ہے۔‘ صوبہ سرحد کے شورش زدہ ملاکنڈ ڈویژن کے پانچ اضلاع میں، جنہیں جماعت اسلامی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، اس دفعہ جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے بعد اے این پی اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے ۔ اس میں بظاہر اے این کا پلہ بھاری نظر آ رہا ہے۔اس طرح اے این پی ضلع پشاور میں بھی جماعت اسلامی کے بائیکاٹ سے فائدہ اٹھاسکتی ہے۔
جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد ایم ایم اے میں شامل مولانا فضل الرحمن کی جماعت جمیعت علماء اسلام نے اپنی سابقہ ساکھ بچانے کے لیے ان جماعتوں سے انتخابی اتحاد کرنے کے لیے دوڑ دھوپ شروع کردی ہے جس سے جے یو آئی کے سربراہ اور دیگر قائدین ہدف تنقید بنتے آ رہے ہیں۔ جے یو آئی نے ابتدائی طور پر اے این پی اور پیپلز پارٹی پالیمنٹرینز کے ساتھ رابطے کیے ہیں تاہم اس سے تاحال دونوں جماعتوں کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا ہے۔جے یو آئی کے صوبائی ترجمان اور پشاور سے قومی اسمبلی کے امیدوار جلیل جان نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اے این پی اور پی پی پی پی سے رابطہ کیا گیا ہے لیکن اس سلسلے میں بات آگے نہیں بڑھی ہے۔ جلیل جان نے مؤقف اختیار کیا کہ جماعت اسلامی کے بائیکاٹ سے انکی انتخابی کارکردگی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔انکے بقول’ بائیکاٹ کا نقصان جماعت اسلامی کو زیادہ اور جے یو آئی کو کم ہوگا کیونکہ صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع میں جے یو آئی کا ؤوٹ بینک زیادہ ہے جبکہ لوئر اور اپر دیر جماعت اسلامی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے جہاں پر ہمیں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے ووٹ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ لیکن جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے امیر سراج الحق کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔انکا کہنا ہے کہ انکی ایک منظم جماعت ہے اور کو ئی بھی کارکن انتخابات میں حصہ نہیں لے گا۔ جے یو آئی کا نام لیے بغیر انکا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے بائیکاٹ سے انتخابا ت میں ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کو نقصان ہوسکتا ہےاور اسی لیے ہمارا مؤقف یہی تھا کہ سب ملکر انتخابات میں حصہ نہ لینے کا متفقہ فیصلہ کرلیں۔
مبصرین کا خیال ہے کہ صوبہ سرحد میں آٹھ جنوری کے انتخابات میں اے این پی، جمیعت علماء اسلام فضل الرحمن او پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے درمیان اصل مقابلے کی توقع ہے تاہم مسلم ق، پیپلز پارٹی شیرپاؤ اور مسلم لیگ ن کو بھی اتنی نشستوں کے ملنے کی امید ہے جس سے وہ مستقبل میں ہونے والی حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرنے کے پوزیشن میں آجائیں گے۔ جماعتِ اسلامی نے پندرہ دسمبر کے دن کو ، جب اُس کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی متعدد نشستوں کے لیے نامزد امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی واپس لیں گے ، اہتمام کے ساتھ منانے کے لیے تیاریاں کی ہیں اور کاغذات نامزدگی واپس لینے والے امیدواروں کو جلوسوں کی شکل میں متعلقہ ریٹرننگ افسروں کے دفاتر لیجایا جائےگا۔ اس حوالے سے سب سے اہم جلوس صوبہ سرحد کے ضلع نوشہرہ میں نکالا جائے گا جہاں جماعتِ اسلامی کے امیر اور متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد اپنے کاغذات نامزدگی واپس لیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||