’اے پی ڈی ایم سے الگ ہو جائینگے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ نے اپنی اتحادی جماعتوں کے خلاف ایک چارج شیٹ تیار کی ہے اورکہا ہے کہ اگر انہیں تسلی بخش جواب نہ ملا تو وہ اے پی ڈی ایم سے علیحدہ ہو جائیں گے۔ جے یو آئی کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں تیار ہونے والی چارج شیٹ میں سرحد اسمبلی سے استعفوں کے موقع پر مسلم لیگ نواز، جماعت اسلامی اور اے این پی کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ جمعیت کے ترجمان مولانا امجد خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی، مسلم لیگ نواز اور اے این پی نے آل پاکستان ڈیموکریٹک الائنس یعنی اے پی ڈی ای ایم کے فیصلوں کی خلاف ورزی کی تھی اور جے یوآئی کو اس وقت تنہا چھوڑ دیا گیا جب اس کے وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوچکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجلس عاملہ کے اجلاس میں اسمبلیوں سے استعفوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی غور کیا گیا اور کہا گیا کہ جے یو آئی نے قائد حزب اختلاف کے عہدے ، سرحد کی وزارت اعلیٰ اور سرحد اور بلوچستان کی وزارتوں سے محرومی کی صورت میں سب سے زیادہ قربانی دی لیکن بعد میں تنقید کا نشانہ بھی اسے ہی بننا پڑا۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ اگرچہ اے پی ڈی ایم ایک انتخابی اتحاد نہیں تھا لیکن اگر ان کی اتحادی پارٹیاں ان سےدھوکہ نہ کرتیں تو اس سمت جایا جاسکتا تھا۔
مولانا امجد خان نے کہا کہ جے یو آئی کے قائدین نے عمران خان کے بیانات پر بھی غم و غصہ کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایک سیٹ والی تحریک انصاف کو اس اتحاد سے نکالا جائے۔ واضح رہے کہ عمران خان نے گزشتہ دنوں بیان دیا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی موجودگی میں اے پی ڈی ایم نہیں چل سکتی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے انتیس ستمبر کی بجائے دو اکتوبر کو مستعفی ہونے کا فیصلہ درپردہ صدر مشرف کو فائدہ پہنچانے کے لیے کروایا تھا جس کے نتیجہ میں اسمبلی بروقت تحلیل نہ ہوسکی اور صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج برقرار رہا۔ صدراتی انتخابات کے موقع پر جماعت اسلامی، مسلم لیگ نون اور اے این پی کے بعض رہنماؤں نے بھی جے یو آئی کے کردار پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اے پی ڈی ایم کا قیام جلاوطن مسلم لیگی رہنما نواز شریف کی خواہش پر لندن میں اپوزیشن کے ایک اجتماع کے موقع پر ہوا تھا اور اس کے نتیجہ میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی اے آر ڈی عملی طور پر ختم ہوگیا تھا۔ مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں نے اس وقت بھی اے آر ڈی کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی پر بھی درپردہ صدر مشرف کی حمائت کرنے کا الزام لگایا تھا۔
جے یوآئی کے ترجمان مولانا امجد خان نے کہا کہ اسلام آباد میں جاری ان کی مجلس عاملہ کے اجلاس کےدوران ہی انہیں اطلاع دی گئی ہے کہ مسلم لیگ کے چئرمین راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں اے پی ڈی ایم کا ایک وفد مولانا فضل الرحمان سے مل رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اے پی ڈی ایم کی بعض اتحادی جماعتوں کے اختلافات اتنے گہرے ہوچکے ہیں کہ اس کا انتخابی اتحاد میں بدلنے کا امکان نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ نواز، جماعت اسلامی، تحریک انصاف، اے این پی اور چند دیگر قوم پرست اور مشرف مخالف جماعتوں کا اتحاد وجود میں آسکتا ہے۔ |
اسی بارے میں عمران نے ایک اور پٹیشن دائر کر دی19 September, 2007 | پاکستان باہمی اختلافات پر قابو پالیں گے:قاضی 08 October, 2007 | پاکستان ’فضل ساز باز نہیں کر سکتے‘01 October, 2007 | پاکستان نواز، فضل ملاقات تین گھنٹے تک16 September, 2007 | پاکستان ’فضل الرحمان کے پیچھے چلنے کو تیار‘21 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||