گڑھی خدا بخش سے براہ راست۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس وقت بینظیر بھٹو کی نمازِ جنازہ ادا ہو چکی ہے اور ایمبولینس گاڑی ذوالفقار علی بھٹو کے مزار کے احاطے کے اندر کھڑی ہیں۔ بینظیر بھٹو کا تابوت پاکستان پیپلز پارٹی کے پرچم میں لپیٹا گیا ہے۔ پارٹی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد وہاں پر موجود ہے اور بینظیر بھٹو کا آخری دیدار کو ترس رہی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں کارکنوں کے مزار کے احاطے میں موجودگی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی دھکم پیل کی وجہ سے مزار کا مرکزی دروازہ ٹوٹ گیا ہے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے مجھے مزار کے احاطے میں بینظیر کی پولیٹیکل سیکریٹری ناہید خان روتی ہوئی نظر آئیں۔ ابھی ابھی پنجاب پی پی پی کے سابق صدر قاسم ضیا ایک اور پارٹی رہنما سے بغلگیر ہو کر روتے ہوئے نظر آئے اور مجھے صرف اتنا سنائی دیا ’ہمارا سب کچھ اجڑ گیا۔‘ پارٹی کارکنوں میں بہت زیادہ غصہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اس غصے کا سب سے بڑا ٹارگٹ پنجاب ہے۔ ہر طرف سے یہی آواز آ رہی ہے ’پاکستان ختم ہو گیا، نہیں چاہیے ایسا پاکستان۔‘ لیاری سے آئی ہوئی ایک خاتون نے چند گھنٹے پہلے مجھے یہیں کہیں کھڑے ہو کر کہا تھا ’پاکستان ختم، پی پی پی ختم، ہمارے سب کچھ ختم۔‘ مجھے یہاں رینجرز یا پولیس کا کوئی اہلکار نظر نہیں آیا اور نہ ہی جانثاران بینظیر دستے کا کوئی رکن۔ ایک جانثار نے مجھے بتایا کہ میں نے اپنی وردی ابھی کہیں پھاڑ کر پھینک دی ہے۔ ’جب بینظیر ہی نہیں رہی تو جانثاروں کے مطلب‘۔ اس سے پہلے پاکستان کی سیاست کےاہم کردار ’لاڑکانہ کے بھٹوز‘ کے آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش میں جب میں جمعہ کی صبح پانچ بجے پہنچا تو پندرہ کے قریب افراد سنگ مرمر کے فرش کو توڑنے اور بینظیر بھٹو کے لیے لحد بنانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ گڑھی خدا بخش میں ابھی اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ لوگ ابھی سڑکوں پر نکلنے شروع ہی ہوئے تھے مگر قبرستان میں ایک اور بھٹو کی لحد تیار کی جا رہی تھی۔ گڑھی خدابخش کے لوگوں سے جب بات ہوئی تو انہوں نے راولپنڈی کے حاکموں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور کہنے لگے پہلے بھی ہمیں راولپنڈی سے بڑے بھٹو صاحب کی لاش ملی تھی اب دوسری لاش بھی راولپنڈی سے بھیجی جا رہی ہے۔ گڑھی خدابخش بھٹو کے بڑے، بزرگوں کا کہنا تھا کہ انہیں وہ اندھیری رات بھی یاد ہے جب چار اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کی لاش فوجی پہرے میں دفنائی گئی تھی اور مقامی لوگوں کو نماز جنازہ ادا کرنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ ایک بزرگ نور محمد نےبتایا کے بھٹو صاحب کی میت پہنچنے پر پورا علاقہ فوج کی تحویل میں تھا اور شناخت کے بعد گاؤں کے چند افراد کو نماز جنازہ ادا کرنےکی اجازت دی گئی تھی۔
جنازہ گاہ میں موجود پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید نوید قمر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیشہ سندھ سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کو راولپنڈی میں ہی کیوں قتل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاید یہی وجہ ہے کہ رنجشیں نعروں میں بدل رہی ہیں۔ نوڈیرو میں سوگ کا عالم ہے اور ملک کے مختلف شہروں سے پی پی کارکنان کے قافلوں کی آمد جاری ہے۔ نوڈیرو کے لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کے شہر کے بھٹو داستانوں کے شہزادوں اور شہزادیوں کی طرح سیاست میں مقبول رہنماء بنتے ہیں اور بعد میں وہ غیرفطری موت میں جاں بحق ہونے کے بعد بھی ہمیشہ کےلیے امر ہوجاتے ہیں۔ |
اسی بارے میں سندھ: ہنگامے، فوج الرٹ28 December, 2007 | پاکستان ’ توجہ ہٹانے کے لیے القاعدہ کا نام ‘ 28 December, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی28 December, 2007 | پاکستان سندھ: ہنگامے، املاک نذر آتش 27 December, 2007 | پاکستان بینظیر قتل: عدالتی تحقیقات کاحکم27 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||