سندھ: ہنگامے، املاک نذر آتش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بینظیر بھٹو کی ہلاکت پر ان کے آبائی صوبہ سندھ میں آگ سی لگ گئی ہے۔ دارالحکومت کراچی سمیت صوبے بھر سے شدید ہنگامہ آرائی کی اطلاعات ہیں، جس میں دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور تین نے خودسوزی کی کوشش کی ہے جبکہ لاتعداد گاڑیوں، بینکوں اور سرکاری املاک کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کی اطلاع پہنچتے ہی کراچی میں تمام بازار اور دوکانیں بند ہوگئیں اور رات دیر تک کھلے رہنے والے بازاروں میں اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ پورے شہر میں خوف و دہشت کی فضاء ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔ لیاری، کھارادر، سلاوٹ پاڑے، گرومندر، ڈیفنس، کلفٹن، گلشن اقبال اور گلشن حدید سمیت دیگر کئی علاقوں میں ہوائی فائرنگ ہورہی ہے۔ مشتعل لوگوں کے ہجوم سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں جو دیوانہ وار نعرے لگارہے ہیں۔ پتھراؤ کر رہے ہیں اور ٹائروں کو آگ لگا رہے ہیں۔ ناظم آباد میں فائرنگ کے دوران دو افراد عبدالقادر اور محمد علی ہلاک ہوگئے ہیں۔ شاہراہ نورجہاں کے علاقے میں ایک شخص غلام اکبر اور لیاری میں ایک نامعلوم شخص ہلاگ ہوگیا ہے۔
سب سے زیادہ جذباتی منظر لیاری میں ہے جو جہاں خواتین بھی سڑکوں پر نکل کر سینہ کوبی اور بین کررہی ہیں۔ شہر میں ہنگامہ آرائی کے دوران ایک سو سے زائد گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ یہ گاڑیاں ناظم آباد، لیاقت آباد، کیماڑی، اسٹیل ٹاؤن، راشد منہاس روڈ سہراب گوٹھ پل ، گلشن حدید، اسٹیل ٹاؤن ، گھگھر پھاٹک پر جلائی گئی ہیں۔ ملیر سے لیکر گھگھر پھاٹک تک قومی شاہراہ پر لاتعداد بسوں، ٹرالروں اور دیگر گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا ہے۔ وہاں سے ایک شخص خدا ڈنو شاھ نے بتایا ہے کہ ہر طرف آگ ہی آگ ہے لوگ سڑک پر کھڑے ہیں۔ گلستان جوہر تھانے پر فائرنگ اور بغدادی تھانے پر کریکر سے حملے کی بھی اطلاعات ہیں۔ بینظیر بھٹو کے گھر بلاول ہاؤس میں سوگ کی فضا ہے شہر بھر سے آنے والے کارکن دہاڑیں مار مار کر رو رہے ہیں۔ بلاول ہاؤس کے قریب واقع بلاول چورنگی پر مشتعل افراد نے دو بینکوں کو نذر آتش کیا ہے۔ جبکہ ایک سرکاری گاڑی میں سوار کچھ افراد کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گاڑی کو آگ لگادی گئی ، گیس سلینڈر پھٹنے سے ایک زوردار دھماکہ ہوا۔
لاڑکانہ لاڑکانہ سے صحافی ایم بی کلہوڑو نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹوکی ہلاکت کی خبر کے فوراً بعد مشتعل افراد گروہوں کی شکل میں باہر نکل آئے اور توڑ پھوڑ کرنے لگے جو کہ اس وقت بھی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بینکوں کو نقصان پہنچا ہے اور نوڈیرو سے یہ اطلاعات آ رہی تھیں کہ وہاں شاہنواز بھٹو ریلوے سٹیشن پر ایک ٹرین خوشحال خان خٹک کی بوگیوں کو آگ لگا دی۔ اس کے علاوہ شہداد کوٹ میں نیشنل بینک کی برانچ اور کچھ اور بینکوں کی برانچوں کو آگ لگا دی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صورتحال بہت کشیدہ ہے اور اس وقت پولیس اور رینجرز کی دستے سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں۔ فوج کو ابھی طلب نہیں کیا گیا لیکن اطلاعات کے مطابق ضلعی حکومت اور پولیس اس بارے میں سوچ رہے ہیں کہ اگر صورتحال زیادہ خراب ہونے کی صورت میں فوج کو طلب کر لیا جائے۔ گھوٹکی
اسی سڑک کے راستے بند ہیں جہاں مظاہرین نے آگ لگا کر بند کر دیا ہے۔ شہر میں ایک سوگ کا سماں ہے اور یہاں لوگوں نے فائرنگ بھی کی ہے اور سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ لوگ سڑکوں پر دھاڑیں مار کر روتے ہوئے نظر آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ یتیم ہو گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ کی قیادت کو تباہ کیا گیا ہے، ختم کر دیا گیا ہے۔ کئی جگہوں سے یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ ریلوے کے ٹریک کو اکھاڑ دیا گیا ہے۔ یہاں گھوٹکی ریلوے سٹیشن سے ٹریک کو اکھاڑا گیا ہے۔ یہاں (ق) لیگ کے امیدوار کے بینر اور پوسٹر کو آگ لگا دی ہے۔ سکھر اندرون سندھ میں پانچ ریلوے سٹیشنوں کو جن میں پنوں عاقل، لاڑکانہ، سکھر، شکارپور اور خیرپور شامل ہیں نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے علاوہ اطلاعات کے مطابق اندرون سندھ شہروں میں تقریباً تمام بینکوں کو آگ لگا دی۔ پولیس اور رینجرز نے حالات کو قابو کرنے کے لیے گشت شروع کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعلٰی لیاقت جتوئی کے گھر کو بھی مشتعل افراد نے آگ لگا دی اور ضلع ناظم سکھر سید ناصر حسین شاہ کے گھر کو بھی نقصان پہنچایا۔ انہوں نے بتایا کہ لاڑکانہ میں نادرا کے دفتر کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ سپنا ہوٹل کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے علاوہ دادو، سکھر، گھوٹکی اور دیگر شہروں میں جی پی او اور واپڈا کے دفاتر کو بھی آگ لگا دی گئی۔ خیرپور ٹنڈوالہیار میں ہزاروں کے تعداد میں مشتعل افراد نے سڑکوں پر نکل کر مارچ کیا اور ٹائر جلائے۔ جس دوران فائرنگ میں ایک شخص ہلاک ہوگیا، اس دوران ایک شخص نے خود سوزی کی بھی کوشش کی۔ ٹنڈو جام میں مہران ایکسپریس سے مسافروں کو اتاکر آگ لگا دی جس سے کچھ بوگیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ خیرپور میں سینکڑوں لوگوں نے جلوس نکال کر مارچ کیا اور شھر بھر کے بینکوں کو نذر آتش کردیا۔ پولیس کی فائرنگ میں دو افراد حفیظ اور حبیب ہلاک ہوگئے ہیں۔ ٹھٹہ نوابشاہ نوشہروفیروز میں سینکڑوں لوگ اللہ والا چوک پر جمع ہوگئے جو اپنی قائد کو یاد کرتے ہوئے دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ حبیب چوک پر کئی دکانیں اور بینک بھی نذر آتش کی گئی ہے ۔ مورو میں لوگوں نے پولیس تھانے پر حملے کیا اور اہلکاروں کو محصور کردیا ہے۔ اس دوران قومی شاہراہ پر کئی تعداد میں گاڑیاں جلائی گئی ہیں۔بھریا میں ایم کیو ایم کے دفتر سے فرنچر نکال کر اسے نذر آتش کیا گیا ہے۔ دادو میں مشتعل افراد نے دو بینکوں اور سابق وزیر لیاقت جتوئی کی املاک کو نذر آتش کیا ہے۔ اور شہر میں آویزاں لیاقت جتوئی کے بینر پھاڑ دیئے گئے ہیں۔ مٹیاری میں پولیس اسٹیشن ڈی پی او دفتر، تحصیل کاؤنسل کے دفاتر پولیس موبائیلوں کو نذر آتش کیا ہے۔ ٹنڈو محمد خان میں مشتعل لوگوں نے ناظم سیکریٹریٹ، ٹاؤن آفس، دو پیٹرول پمپ اور ایک فائربرگیڈ گاڑی کو بھی جلا ڈالا ہے۔ ڈگھڑی میں احتجاجی جلوس نکالا گیا، جس دوران ایک شخص نے خود کو جلتے ہوئے ٹائروں میں دھکیل دیا جس میں وہ معمول زخمی ہوگیا ہے۔ کوٹ غلام محمد میں مشتعل افراد نے تھانے پر حملہ کیا۔ پولیس نے شییلنگ کر کے خود کو بچایا۔ اس طرح ہنگورجا میں حاتم جوکیو نے خودسوزی کی کوشش کی مگر لوگوں نے اس پکڑ لیا۔ |
اسی بارے میں اہم شخصیات پر حملوں کی تاریخ19 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی میت لاڑکانہ کے لیے روانہ27 December, 2007 | پاکستان سیاسی واقعات: کب کیا ہوا27 December, 2007 | پاکستان انتخابی ریلی پر خودکش حملہ، بینظیر زخمی، کم سے کم پندرہ افراد ہلاک27 December, 2007 | پاکستان ہنگامے، توڑ پھوڑ، غم و غصے کی لہر27 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||