BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 December, 2007, 17:47 GMT 22:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر بھٹو کی میت لاڑکانہ پہنچ گئی

بینظیر بھٹو کی میت
ہسپتال کے ایک اہلکار کے مطابق بینظیر بھٹو کو مردہ حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا

راولپنڈی میں جمعرات کو قاتلانہ حملے میں ہلاک ہونے والی سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کو آج (جمعہ کو) لاڑکانہ میں ان کے آبائی گاؤں گڑھی خدا بخش میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

گڑھی خدا بخش میں پیپلز پارٹی کے کارکن ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو چکے ہیں جبکہ پورے پاکستان سے کارکنوں کے قافلے اپنی رہنماء کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے لاڑکانہ پہنچ رہے ہیں۔

بینظیر بھٹو کا جسد خاکی پاکستان ایئرفورس کے ایک 130-C طیارے کے ذریعے راولپنڈی سے سکھر اور پھر وہاں سے ہیلی کاپٹر پر ان کے آبائی شہر لاڑکانہ کے موہنجوداڑو ایئرپورٹ پہنچایا گیا تھا۔


بینظیر بھٹو کی میت پاکستانی وقت کے مطابق رات ایک بجکر بیس منٹ پر راولپنڈی کی چکلالہ ائیربیس سے سکھر کے لیے روانہ کی گئی تھی۔ طیارے میں ان کے شوہر آصف علی زداری اور بچے بلاول، بختاور اور آصفہ بھی موجود تھے۔

آصف علی زرداری اور ان کے بچے خصوصی طیارے کے ذریعے دبئی سے اسلام آباد پہنچےتھے۔

موہنجوداڑو ایئرپورٹ سے بینظیر بھٹو کی میت لاڑکانہ میں ’نوڈیرو ہاؤس‘ پہنچی تو موقع پر موجود سینکڑوں کارکن زار و قطار رونے لگے۔ ان میں سے کئی نے سینہ کوبی شروع کر دی۔

لاڑکانہ بذریعہ سڑک
 بے نظیر بھٹو کی میت راولپنڈی جنرل ہسپتال سے چکلالہ ایئربیس لے جائے جانے سے پہلے پیپلز پارٹی کے ایک رہنماء کا کہنا تھا کہ وہ میت کو سڑک کے راستے ہی ان کے آبائی قصبے لاڑکانہ لے جائیں گے

آصف زرداری نے جذباتی کارکنوں کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے راستہ دینے کی گزارش کی۔ جب میت کو گھر کے اندرونی حصے میں منتقل کیا جا رہا تھا تو آصف زرداری نے ہاتھ جوڑ کر لوگوں باہر رہنےکی اپیل کی۔

میت کے ساتھ ان کے پیپلز پارٹی رہنماء مخدوم امین فہیم، راجہ پرویز اشرف، شیریں رحمان اور دیگر شامل تھے۔ پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تدفین کا وقت بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد طے کریں گے۔

بینظیر بھٹو کو گڑھی خدا بخش میں ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کے پہلو میں دائیں جانب دفن کیا جائے گا۔

اس سے قبل پاکستان کے نگران وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد نواز نے اعلان کیا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی میت جمعرات کی رات ہی لاڑکانہ بھجوا دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی میت ان کے شوہر آصف زرداری کے حوالے کی جائے گی۔

اسلام آباد سے نامہ نگاروں ہارون رشید اور شہزاد ملک کے مطابق بے نظیر بھٹو کی میت راولپنڈی جنرل ہسپتال سے چکلالہ ایئر بیس لے جائے جانے سے پہلے پیپلز پارٹی کے ایک رہنماء کا کہنا تھا کہ وہ میت کو سڑک کے راستے ہی ان کے آبائی قصبے لاڑکانہ لے جائیں گے۔

بے نظیر بھٹو کی میت جب ہسپتال سے باہر لائی گئی تو سینکڑوں کی تعداد میں غصے سے بھرے پیپلز پارٹی کے کارکن دھاڑے مار مار کر رو رہے تھے اور صدر پرویز مشرف کے خلاف نعرے بازی کر کے اپنے غصے کا اظہار کر رہے تھے۔

ہسپتال کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بے نظیر بھٹو کو جب ہسپتال لایا گیا تو وہ دم توڑ چکی تھیں۔ پروفیسر مصدق خان نے کہا کہ انہیں اوپن ہارٹ مساج کے ذریعے انہیں دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش بھی ناکام رہی۔

ڈاکٹروں نے یہ بھی بتایا کہ ایک گولی ان کی شہ رگ میں لگ کر سر سے نکلی ہے، جس سے دماغ کا پچھلا حصہ اڑ گیا۔ تاہم ڈاکٹروں کی ایک اور رائے یہ بھی ہے کہ یہ زخم دو الگ الگ گولیوں کی وجہ سے آئے۔ ابھی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔

بینظیر بھٹو دو مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم بنیں

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے بھی ہسپتال کا دورہ کر کے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے تعزیت کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر کی جنگ اب وہ لڑیں گے۔

دھماکے کے چند عینی شاہدوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آور ایک نوجوان شخص تھا جو ایک گاڑی سے اتر کر بینظیر بھٹو کی گاڑی کے قریب آیا اور ان پر فائر کھول دیا۔

جب اسے پکڑنے کی کوشش کی گئی تو اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔ جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشیں ہسپتال سے جلوس کی شکل میں لے جائی جا رہی ہیں اور ان کے ہمراہ غمزدہ کارکن شدید نعرے بازی کر رہے ہیں۔ ہسپتال میں ماحول خاصا سوگوار ہے۔

بےنظیر بھٹو خود کش حملے میں ہلاکبےنظیر بھٹو
خود کش حملے میں ہلاک
بینظیر بھٹوغم اور غصہ
بےنظیر کی ہلاکت، ملک گیر احتجاج
منفرد شخصیت
بی بی دو دہائیوں تک سیاست پر چھائی رہیں
2007ء کیسا رہا
اس سال خود کش حملے معمول بن گئے
اسی بارے میں
یہ ٹارگٹ کلنگ ہے: بابر اعوان
27 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد