لاڑکانہ: ایک گھر تمام نو افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ کے ایک گھر میں آگ لگنے سے خاندان کے تمام نو افراد دم گھُٹنے سے ہلاک ہوگئے۔ یہ خاندان ایک ہندو کاروباری کا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے مرکزی علاقے آچار بازار میں واقع موتی رام کے گھر میں آگ لگنے کی اصل وجوہ تلاش کی جا رہی ہیں۔ متاثرہ خاندان کے جو لوگ ہلاک ہوئے ہیں ان میں خاندان کے سربراہ اکتالیس سالہ موتی رام، ان کی اڑتیس سالہ اہلیہ نرملا، پانچ سالہ بیٹی، سات بیٹا، سات سالہ ہریش کمار، پندرہ سالہ بیٹی آرتی، گیارہ سالہ بیٹی پریا، تیرہ سالہ انجلی، اٹھارہ سالہ بیٹا اجی کمار اور انیس سالہ بیٹی پوجا کے علاوہ ایک بچی مسکان شامل ہیں۔ پورے خاندان کے موت کی اطلاع پر بڑی تعداد میں شہر کے لوگ متاثرہ خاندان کے گھر کے باہر جمع ہوگئے۔ پولیس اور ایدھی رضاکاروں نے ورثاء کی موجودگی میں لاشوں کو چانڈکا میڈیکل ہسپتال پہنچایا اور طبی و قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد لاشیں آخری رسومات کے لیے مقامی مندر پہنچا دی گئیں۔ متاثرہ خاندان کے سربراہ موتی رام کے بڑے بھائی ارجن داس نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح نو بجے کے قریب دودھ والے نے انہیں اطلاع دی کہ آواز دینے کے باوجود گھر سے دودھ لینے کے لیے کوئی نہیں آ رہا۔
دودھ والے کی اطلاع کے بعد انہوں نے اہلِ محلہ کی مدد سے دیواریں پھلانگ کر گھر کا دروازہ توڑا اور پورے خاندان کو ایک ہی کمرے میں مردہ حالت میں پایا۔ موقع پر پہنچنے والے ایک کیمرہ مین منور بھٹو کا کہنا تھا کہ ایک خاتون کے سوا تمام لوگوں کی لاشیں بیٹھنے کی پوزیشن میں تھیں۔ کمرے میں سپلٹ ائرکنڈیشنر لگا ہوا تھا۔ کمرے میں ٹی وی سیٹ اور موبائل سیٹ کے سوا کسی فریچر کو زیادہ آگ نہیں لگی۔ لاڑکانہ پولیس کے ڈی آئی جی اختر حسن گورچانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ابہی تک صرف قیاس آرائیاں ہیں کوئی حتمی وجہ نہیں بتائی جا سکتی۔ انہوں نے دہشت گردی یا تخریب کاری کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ مرنے والوں کے رشتہ داروں نے کسی پر کوئی شبہ ظاہر نہیں کیا۔ وہ بھی اس واقعے کو ایک حادثہ سمجھ رہے ہیں۔ ڈی آئی جی کے مطابق بظاہر کسی تخریب کاری کا کوئی اندیشہ نہیں۔اس لیے پولیس نے ابھی کوئی تفتیشی ٹیم تشکیل نہیں دی۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام ابہی تک پتہ نہیں لگا سکے ہیں کہ موتی رام کے گھر کے ایک کمرے میں آگ کیسے لگی۔ پولیس انتظامیہ ہلاک ہونے والوں کے رشتے داروں کے بیانات کو حتمی سمجھ رہے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں شہر کے قریبی دریائے سندھ میں بہا دی گئی ہیں۔ متاثرہ خاندان کے رشتہ دار ارجن داس کے مطابق لاشیں آگ سے جھلس گئی تھیں اور ان کا کریا کرم ممکن نہیں تھا۔ اس لیے انہیں سنوار کے دریائے سندھ کے حوالے کردیا گیا۔ | اسی بارے میں راولپنڈی: ہسپتال میں آتشزدگی03 May, 2007 | پاکستان کراچی: آتشزدگی سےنو افراد ہلاک07 January, 2006 | پاکستان بس آتشزدگی، 40 باراتی ہلاک11 December, 2005 | پاکستان سندھ: مندر میں آتشزدگی پر احتجاج19 December, 2003 | پاکستان لاڑکانہ: غیرت کے نام پر دوہرا قتل10 April, 2007 | پاکستان لاڑکانہ، جنسی زیادتی کا واقعہ 02 March, 2007 | پاکستان لاڑکانہ : پسند کی شادی پر پانچ قتل23 August, 2006 | پاکستان ایدھی لاڑکانہ عدم تحفظ پر بند 06 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||