لاڑکانہ: غیرت کے نام پر دوہرا قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاڑکانہ کے علاقے وگن میں غیرت کے نام پر ایک مرد اور عورت کو قتل کیا گیا ہے جبکہ مقتولہ کے شوہر نے تھانے پہنچ کر گرفتاری پیش کی ہے۔ وگن کے قصبے صوبدار میں پیر کی رات پینتیس سالہ شیرل جتوئی اور تیس سالہ مسمات سہتاں کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے۔ وگن پولیس کا کہنا ہے کہ علی حیدر مغیری نامی شخص نے تھانے پہنچ کے گرفتاری پیش کر کے اقرار کیا کہ ان دونوں کو اس نے قتل کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ’علی حیدر مغیری کی بیوی اور شیرل جتوئی کے ناجائز تعلقات تھے اور علی حیدر نے دونوں کو ناجائز حالت میں پا کر قتل کر دیا۔‘ دوسری جانب مقتول شیرل جتوئی کے چچا حیدر علی جتوئی نے ملزم علی حیدر مغیری سمیت پانچ افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ دائر کروایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب دس بجے کے قریب وہ اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ محمد حسن نامی ایک شخص آ کر شیرل کو ساتھ لے گیا، رات کو تین بجے انہوں نے شیرل کی آواز سنی کہ مجھے مار دیں گے۔ فریادی کے مطابق جب وہ وہاں پہنچے تو چار افراد کے ہاتھوں میں اسلحہ تھا۔ اس موقع پر علی حیدر مغیری نے شیرل جتوئی پر گولی چلا کر میرے بھتیجے کو قتل کردیا۔ مسمات سہتاں اور شیرل کا مقامی ہسپتالوں سے پوسٹ مارٹم کرایا گیا ہے تاہم اس کی رپورٹ ابھی آنا ہے۔ وہ دونوں شادی شدہ تھے۔ پولیس کا کہنا ہے اصل حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد معلوم ہوں گے۔ | اسی بارے میں ایک عورت سمیت تین افراد کا قتل14 March, 2007 | پاکستان ’قتل سازش کا نتیجہ، غیرت نہیں‘31 January, 2007 | پاکستان دیر: غیرت کے نام پر قتل میں اضافہ18 July, 2006 | پاکستان غیرت کےنام پرقتل، پاکستانیوں کو سزا29 June, 2006 | پاکستان پاکستان: 2006 کا پہلا ’غیرت قتل‘04 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||