BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک عورت سمیت تین افراد کا قتل

فائل فوٹو
قبائلی علاقوں میں مختلف جرائم پر روایات کے تحت سزائیں مقرر ہیں (فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں شدت پسند تنظیم لشکر اسلام اور قبائلیوں نے مشترکہ طور پر ایک خاتون سمیت تین افراد کو مبینہ طور پر بدکاری کے جرم میں گولیاں مار کر قتل کردیا ہے۔

خیبر ایجنسی کی پولٹیکل انتظامیہ نے تصدیق کرکے بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کی صبح دس بجے تحصیل باڑہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع آ کاخیل کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب سینکڑوں کے تعداد میں جمع مسلح قبائلیوں نے بدکاری کے مبینہ جرم میں گرفتار خاتون سمیت تین افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ شدت پسند اسلامی تنظیم لشکر اسلام کے حامیوں نے تین دن قبل کوکی خیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو افراد الہ نور اور شہزادہ کو ایک غیر مقامی خاتون کے ساتھ مبینہ طورپر بدکاری کرتے ہوئے ایک گھر سے گرفتار کیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ تنظیم نے تینوں افراد کو تین دن تک حراست میں رکھا اور ان سے تفتیش کی جس کے بعد آ کاخیل اور دیگر قبیلوں کی مقامی کمیٹیوں کی مشاورت سے تینوں افراد کو قبائلی روایات کے تحت قتل کردیا گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان کو پہلے پھتر مارے گئے اور بعد میں ان پر کلاشنکوف کی گولیاں برسائی گئیں جس سے تینوں افراد موقع پر ہلاک ہوگئے۔

واضح رہے کہ قبائلی علاقوں میں مختلف جرائم پر قبائلی روایات کے تحت سزائیں مقرر ہیں جس میں قتل کی سزائیں بھی دی جاتی ہیں تاہم مقامی انتظامیہ عام طورپر قبائلیوں کی ان کارروائی میں مداخلت نہیں کرتی ہے۔

اسی بارے میں
خیبر ایجنسی میں ’ گے میرج‘
05 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد