BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 June, 2006, 10:01 GMT 15:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو استانیاں بچوں سمیت ’قتل‘

ایک بازار کا منظر
قبائلی علاقوں میں بعض حلقے خواتین کے کام کرنے کے خلاف ہیں(فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے جمعرات کی رات نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ایک سکول کی دو استانیوں اور دو بچوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

اس حملے کی وجہ واضح نہیں ہے تاہم حکام کو شک ہے کہ یہ علاقے میں غیرسرکاری تنظیموں کے خلاف پائی جانے والی مخالفت کا تنیجہ ہوسکتا ہے۔

اورکزئی ایجنسی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ جمعرات کی رات تین بجے کے قریب پیش آیا۔ نامعلوم مسلح افراد نے اپر اورکزئی ایجنسی میں خوگہ چڑی گاؤں میں قائم گورنمٹ گرلز ہائی سکول میں گھس کر وہاں ایک رہائشی کواٹر میں سو رہی دو استانیوں سلمہ بی بی اور سیدہ جان کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

ان میں سے ایک استانی سلمہ بی بی کے دو بچے ایک لڑکا اور ایک لڑکی بھی حملے میں ہلاک ہوگئے۔ دونوں استانیوں کا تعلق قریبی ضلع کوہاٹ کے استرزئی اور لنڈئی کچئی علاقوں سے تھا جہاں انہیں بعد میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

مقامی انتظامیہ نے اس واقعے کے بعد سکول کے چوکیدار اور ایک مقامی قبائلی کو تحقیقات کے لیئے حراست میں لیا ہے۔ صوبہ سرحد کے نئےگورنر لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان اورکزئی کا تعلق بھی اسی ایجنسی سے ہے۔

 اس واقعے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
گورنر لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان
پشاور میں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور ہلاک ہونے والی استانیوں کے لواحقین کے لیئے دس لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان بھی کیا ہے۔ گورنر نے ’اس واقعے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھنے کی ہدایت’ کی ہے۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکت کی وجوہات ابھی واضح نہیں ہیں تاہم تحقیقات جاری ہیں۔ اورکزئی ایجنسی کا یہ علاقے ہمسایہ خیبر ایجنسی کے تیراہ علاقے سے ملتا ہے۔ مقامی قبائلی اہلکاروں کو شک ہے کہ یہ کارروائی علاقے میں غیرسرکاری تنظیموں کے خلاف پائی جانے والی نفرت کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔

یہ استانیاں حکومت کے زیر انتظام بارانی ڈولمپنٹ پراجیکٹ میں خواتین کو سلائی کڑھائی جیسے مختلف ہنر سیکھانے کے ایک منصوبے کے تحت ملازمت کر رہی تھیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ عام قبائلیوں میں اس منصوبے کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ بین الاقوامی غیرسرکاری تنظیموں کی مدد سے چلایا جاتا ہے جوکہ درست نہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس منصوبے میں پینسٹھ فیصد امداد ایشیائی ترقیاتی بینک، بیس فیصد صوبائی حکومت اور باقی ماندہ صرف پندرہ فیصد امدادی تنظیموں سے ملتا ہے۔

اس سے ایک روز قبل وزیرستان سے ملحق ٹانک شہر میں بھی نامعلوم افراد نے خاندانی منصوبہ بندی کے ایک دفتر کو بم سے نقصان پہنچایا تھا۔

اسی بارے میں
بلوچ استاد حراست میں ہلاک
22 April, 2006 | پاکستان
استاد کی سزا حوالات
06 November, 2003 | پاکستان
سرحد: سکول کھولنے میں مسائل
10 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد