دیر: غیرت کے نام پر قتل میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے قدامت پسند علاقے دیر میں گزشتہ چند ماہ میں نام نہاد ’غیرت’ کے نام پر قتل کی وراداتوں میں تیزی سے اضافہ ہو چکا ہے۔ اس عرصے میں غیرت کے نام پرستائیس افراد قتل کیئے جا چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین ہیں۔ مقامی غیر سرکاری تنظیموں اور دیگر ذرائع سے اکٹھے کیےگئے اعداد وشمار کے مطابق اپریل سے اب تک دیر کے دو اضلاع دیر پائین اور دیر بالہ میں غیرت کے نام پر چودہ واقعات ہوئے ہیں جن میں چودہ خواتین سمیت ستائیس افراد کو گولی مار کر یا کلہاڑی سے وار کرکے مارا گیا ہے۔ ضلع دیر پائین کی ایک غیر سرکاری تنظیم ’انجمن بہبود خواتین تالاش‘ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور خاتون کونسلر شاد بیگم نے بی بی سی کو بتایا کہ کوئی ہفتہ ایسا نہیں گزرتا کہ علاقے میں غیرت کے نام پر ایک یا دو قتل نہ ہوتے ہوں۔’اس قسم کے واقعات تو اب یہاں پر معمول بن گئے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ بہت کم کیس رپورٹ ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ ایک حساس مسئلہ ہے اور قبائلی معاشرہ بھی ہے، لوگ اس قسم کی وارداتوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
شاد بیگم کا کہنا تھا کہ ان جرائم کا نشانہ زیادہ ترخواتین کو ہی بنایا جاتا ہے اور کئی واقعات میں تو صرف خواتین ہی قتل ہوئی ہیں۔ ان واقعات میں اضافے کی کئی وجوہات بتائی جاتی ہیں تاہم اس کی ایک بڑی وجہ دیر بالہ کے دور افتادہ پہاڑی علاقے نہاگ درہ میں ایک جرگے کا انعقاد بھی ہے۔ اس جرگے میں مقامی قبائیلوں نے غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کو جائز قرار دیتے ہوئے اس کی رپورٹ درج نہ کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ سیاستدانوں، ناظمین اور علاقے کے عمائدین پر مشتمل یہ جرگہ اپریل کے مہینے میں سلطان خیل اور پائندہ خیل قبیلے کے سردار اور دیر سے جماعت اسلامی کے رکن صوبائی اسمبلی ملک حیات کے بھائی ملک فیض محمد خان کی سربراہی میں منعقد ہوا تھا ۔ نہاگ درہ کی ایک بااثر شخصیت ملک فیض محمد خان سے جب پوچھا گیا کہ جرگے کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ کسی کے قتل کرنےکا فیصلہ صادر کرے تو انہوں نے کہا: ’ یہ ہماری روایات ہیں جو سالہا سال سے رائج ہیں۔ ہم ان کو ترک نہیں کرسکتے لیکن ہم اس بات کا خاص خیال رکھ رہے ہیں کہ کوئی بےگناہ نشانہ نہ بنے اور کافی تحقیق کے بعد ہی فیصلہ ہوتاہے۔‘ ملک فیض محمد خان نے اس بات کا اقرار کیا کہ الزامات ثابت ہونے ہر قتل ہونے والے مرد اور خاتون کی رپورٹ درج نہیں کرائی جاتی اور اگر کسی نے پولیس کو اطلاع دی تو علاقے کی روایات کے مطابق وہ ’چور‘ تصور ہوگا۔ دیر کے دونوں اضلاع پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہیں۔ مقامی لوگوں کا اہم ذریعہ معاش خلیجی ممالک میں محنت مزدوری ہے جس کی وجہ سے مرد حضرات کئی کئی سال ملک سے باہر رہتے ہیں ۔ مقامی صحافی حلیم اسد کا کہنا ہے کہ غیرت کے نام پر زیادہ تر واقعات میں شادی شدہ لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ’ میں نے اب تک جتنے بھی واقعات رپورٹ کیے ہیں ان میں اکثریت شادی شدہ لوگوں کی ہے اور یہ بھی محسوس ہوا ہے کہ جو خاتون نشانہ بنتی ہے اس کا خاوند بیرونی ممالک مزدوری کرنے گیا ہوا ہوتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ان جرائم میں لوگ اسلام اور قرآن و حدیث کو نہیں دیکھتے بلکہ فرسودہ روایات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ’ شرعی لحاظ سے اسلام میں حد جاری کرنے کے لیئے جو شرائط مقرر کی گئی ہے اسے کون دیکھتا ہے ، یہ تو سب کلچرل چیزیں ہیں جو بالکل غیر اسلامی ہیں۔‘ دیر پائین کے ضلعی ناظم احمد حسن خان اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ علاقے میں غیرت کے نام پر قتل ہورہے ہیں لیکن بقول ان کے زیادہ تر واقعات دیر بالا میں ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات کی بڑی وجوہات تو تعلیم کی کمی اور قبائلی رسم ورواج ہیں تاہم ان کے مطابق وہ مایوس نہیں ہیں۔ ’ہم سب کو ان غلط رسومات اور روایات کا مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔‘
صوبہ سرحد کے اکثر علاقوں میں کم تعلیم یافتہ افراد غیرت کے نام پر ہونے والے واقعات کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے اپنے اور خاندان کے وقار کی بحالی کا جائز طریقہ تصور کرتے ہیں۔ تیمرگرہ میں جمعیت علماء اسلام (فضل الرحمان گروپ) کے سابق جنرل سیکرٹری محمد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ غیرت کے نام پر قتل کو اسلام سے جوڑنا سراسر ایک غیر اسلامی فعل ہے۔ ’ پشتو بولنے والہ پشتون ہوتا ہے ، پشتو ایک نظام تو نہیں ہے۔ نظام تو اسلام ہے جس میں ہر چیز کے لیئے ایک مخصوص طریقہ کار دیا گیا ہے۔جو لوگ اسلام کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں وہ گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں۔’ واضع رہے کہ دیر صوبہ سرحد کا وہ پہلا علاقہ ہے جہاں تمام مذہبی اور سیکولر سیاسی جماعتوں نے دو ہزار پانچ کے بلدیاتی انتخابات میں خواتین کو انتخابات میں امیدوار نہ بنانے کا معاہدہ کیا تھا۔ سخت تنازعے کے بعد مرکزی حکومت کی مداخلت سے خواتین کو انتخاب لڑنے اور ووٹ ڈالنے کا حق مل گیا تھا لیکن اس کے باوجود ضلع دیر میں خواتین کی بیس نشستوں پر انتخابات نہ ہو سکے اور یہ نشستیں تاحال خالی پڑی ہیں۔ |
اسی بارے میں سرحد: غیرت کے نام پر قتل نظر انداز29 April, 2006 | پاکستان پاکستان: 2006 کا پہلا ’غیرت قتل‘04 January, 2006 | پاکستان غیرت: قانون میں تبدیلی ضروری24 November, 2005 | پاکستان ملتان: ’غیرت کے نام پر‘ تین قتل24 September, 2005 | پاکستان لاہور: ’غیرت کے نام پر لڑکی قتل‘ 10 February, 2005 | پاکستان خانیوال، غیرت کے نام پر پانچ قتل04 January, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||