BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 March, 2007, 09:46 GMT 14:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاڑکانہ، جنسی زیادتی کا واقعہ

متاثرہ خواتین
اقلیتی طبقہ کی خواتین اجتماعی عصمت دری کے بعد خوفزدہ ہیں
پاکستان میں لاڑکانہ کے قریب مبینہ اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی تین خواتین نے زمیندار کا گھر چھوڑ کر تنبو میں رہائش اختیار کرلی ہے۔

اس واقعے کے چھ ملزمان کو ابھی بھی گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے۔

لاڑکانہ کے نواحی علاقے گوٹھ غلام علی کے رہائشی شیرو باگڑی نے تعلقہ تھانے پر مقدمہ درج کروایا تھا کہ آٹھ افراد نے کمرے میں داخل ہوکر ان کی چالیس سالہ بیوی نصیباں، بہو سوناری اور بیوی کی بھانجی صاحبی کو اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے ایف آئی آر میں نامزد دو ملزموں کوگرفتار کیا ہے تاہم چھ اب بھی آزاد ہیں۔

شیرو باگڑی کا خاندان تربوز کی کاشت میں مہارت رکہتا ہے، جس وجہ سے زمیندار عاشق کھاوڑ انہیں ان کے گاؤں علی آباد تحصیل ڈوکری سے لے کر آئے تھے اور کھیتوں میں ہی واقع اپنی ایک رہائش گاہ فراہم کی تھی۔

واقعے کے بعد شیرو باگڑی کے خاندان نے اس حویلی کو چھوڑ دیا اور تنبو میں رہائش اختیار کی ہے۔ ان کا کہنا ہے ان کو اس جگہ سے اب خوف محسوس ہوتا ہے۔

 سندھ میں صرف دو ماہ میں سترہ زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے تیرہ سے اجتماعی زیادتی کی گئی ہے۔ گیارہ خواتین پر جنسی حملے کیے گئے ہیں۔
عورت فاؤنڈیشن کے محسن پٹھان

پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک میڈیکل رپورٹ نہیں آئی ہے جس سے واقعے کی صداقت کے بارے میں پتہ چلےگا۔ پولیس کو ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کے ناموں کے بارے میں بھی شک و شبہات ہیں۔

معاملے کی تفتیش کرنے والے ایس پی نثار چنہ نے بتایا کہ ایف آئی آر میں تین نام ایسے درج ہیں جن کی متاثرہ خواتین شناخت نہیں کرسکتیں حالانکہ اس وقت کمرے میں بلب جل رہا تھا اور ملزمان نے چہرے بھی نہیں چھپائے تھے۔

ایس پی چنہ کے مطابق فریادی شیرو باگڑی نے بتایا کہ انہوں نے زمیندار کے کہنے پر یہ نام ایف آئی آر میں دیے ہیں جبکہ زمیندار کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملزمان کے پیروں کے نشانات کا پیچھا کیاہے اور گاؤں کے لوگوں نے ان کی نشاندہی کی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سومر جاگیرانی اور راشد جاگیرانی نے الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ زمیندار سے ان کی پرانی دشمنی ہے اس وجہ سے اس نے ان کے نام ایف آئی آر میں دیے ہیں۔

 متاثرہ خاندان خوف زدہ ہے اور بدنامی کے ڈر سے بھی کسی سے بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔یہ لوگ غریب اور ہندو اقلیتی طبقے کے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہیں انصاف ملنے کے بجائے الٹا دشمنی بڑھ جائے گی، اسی وجہ سے کمیونٹی کی سطح پر معاملہ حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
سٹیزن ایکشن کمیٹی فار وومین رائٹز کے جاوید شاہ

سٹیزن ایکشن کمیٹی فار وومین رائٹز لاڑکانہ کے کوآرڈینیٹر جاوید شاہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان خوف زدہ ہے اور بدنامی کے ڈر سے بھی کسی سے بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ لوگ غریب اور ہندو اقلیتی طبقے کے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہیں انصاف ملنے کے بجائے الٹا دشمنی بڑھ جائے گی، اسی وجہ سے کمیونٹی کی سطح پر معاملہ حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

دوسری جانب خواتین کے لیے کام کرنے والی تنظیم عورت فاؤنڈیشن کے مطابق گزشتہ دو ماہ میں سندھ میں تیرہ خواتین کواجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ واقعات صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کر تے ہیں۔

ان میں گھوٹکی میں نسیمہ لبانو، نسیمہ گرگیچ، نو شہرو فیروز میں مختار کھوکھر اور دادو میں کائنات سومروں کے واقعات شامل ہیں۔

عورت فاؤنڈیشن کے جوائنٹ کوآرڈینیٹر حسن پٹھان کا کہنا کہ سندھ میں صرف دو ماہ میں سترہ زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے تیرہ سے اجتماعی زیادتی کی گئی ہے۔ گیارہ خواتین پر جنسی حملے کیے گئے ہیں۔

گزشتہ سال جنوری فروری میں زیادتی کےگیارہ واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جن میں سے صرف پانچ اجتماعی زیادتی کے واقعات تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد