لاڑکانہ، جنسی زیادتی کا واقعہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں لاڑکانہ کے قریب مبینہ اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی تین خواتین نے زمیندار کا گھر چھوڑ کر تنبو میں رہائش اختیار کرلی ہے۔ اس واقعے کے چھ ملزمان کو ابھی بھی گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے۔ لاڑکانہ کے نواحی علاقے گوٹھ غلام علی کے رہائشی شیرو باگڑی نے تعلقہ تھانے پر مقدمہ درج کروایا تھا کہ آٹھ افراد نے کمرے میں داخل ہوکر ان کی چالیس سالہ بیوی نصیباں، بہو سوناری اور بیوی کی بھانجی صاحبی کو اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے ایف آئی آر میں نامزد دو ملزموں کوگرفتار کیا ہے تاہم چھ اب بھی آزاد ہیں۔ شیرو باگڑی کا خاندان تربوز کی کاشت میں مہارت رکہتا ہے، جس وجہ سے زمیندار عاشق کھاوڑ انہیں ان کے گاؤں علی آباد تحصیل ڈوکری سے لے کر آئے تھے اور کھیتوں میں ہی واقع اپنی ایک رہائش گاہ فراہم کی تھی۔ واقعے کے بعد شیرو باگڑی کے خاندان نے اس حویلی کو چھوڑ دیا اور تنبو میں رہائش اختیار کی ہے۔ ان کا کہنا ہے ان کو اس جگہ سے اب خوف محسوس ہوتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک میڈیکل رپورٹ نہیں آئی ہے جس سے واقعے کی صداقت کے بارے میں پتہ چلےگا۔ پولیس کو ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کے ناموں کے بارے میں بھی شک و شبہات ہیں۔ معاملے کی تفتیش کرنے والے ایس پی نثار چنہ نے بتایا کہ ایف آئی آر میں تین نام ایسے درج ہیں جن کی متاثرہ خواتین شناخت نہیں کرسکتیں حالانکہ اس وقت کمرے میں بلب جل رہا تھا اور ملزمان نے چہرے بھی نہیں چھپائے تھے۔ ایس پی چنہ کے مطابق فریادی شیرو باگڑی نے بتایا کہ انہوں نے زمیندار کے کہنے پر یہ نام ایف آئی آر میں دیے ہیں جبکہ زمیندار کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملزمان کے پیروں کے نشانات کا پیچھا کیاہے اور گاؤں کے لوگوں نے ان کی نشاندہی کی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سومر جاگیرانی اور راشد جاگیرانی نے الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ زمیندار سے ان کی پرانی دشمنی ہے اس وجہ سے اس نے ان کے نام ایف آئی آر میں دیے ہیں۔ سٹیزن ایکشن کمیٹی فار وومین رائٹز لاڑکانہ کے کوآرڈینیٹر جاوید شاہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان خوف زدہ ہے اور بدنامی کے ڈر سے بھی کسی سے بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ لوگ غریب اور ہندو اقلیتی طبقے کے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہیں انصاف ملنے کے بجائے الٹا دشمنی بڑھ جائے گی، اسی وجہ سے کمیونٹی کی سطح پر معاملہ حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دوسری جانب خواتین کے لیے کام کرنے والی تنظیم عورت فاؤنڈیشن کے مطابق گزشتہ دو ماہ میں سندھ میں تیرہ خواتین کواجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ واقعات صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کر تے ہیں۔ ان میں گھوٹکی میں نسیمہ لبانو، نسیمہ گرگیچ، نو شہرو فیروز میں مختار کھوکھر اور دادو میں کائنات سومروں کے واقعات شامل ہیں۔ عورت فاؤنڈیشن کے جوائنٹ کوآرڈینیٹر حسن پٹھان کا کہنا کہ سندھ میں صرف دو ماہ میں سترہ زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے تیرہ سے اجتماعی زیادتی کی گئی ہے۔ گیارہ خواتین پر جنسی حملے کیے گئے ہیں۔ گزشتہ سال جنوری فروری میں زیادتی کےگیارہ واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جن میں سے صرف پانچ اجتماعی زیادتی کے واقعات تھے۔ | اسی بارے میں پولیس: ملزم بہنوں سے جنسی زیادتی16 June, 2006 | پاکستان خطا کاالزام چچا پر اور سزا بھتیجی کو24 September, 2006 | پاکستان ’میں تو زندہ ہی مر گئی‘: نسیمہ لبانو01 February, 2007 | پاکستان اجتماعی زیادتی کے ملزمان کی شناخت07 February, 2007 | پاکستان اجتماعی زیادتی، سندھ میں احتجاج 08 February, 2007 | پاکستان ’تصفیے کے لیے نسیمہ پر دباؤ‘09 February, 2007 | پاکستان نسیمہ اوراہلِخانہ کراچی منتقل 14 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||