’تصفیے کے لیے نسیمہ پر دباؤ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اوباوڑو میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی نسیمہ لبانو کے خاندان پر مقدمہ واپس لینے اور برادری میں فیصلہ کرنے کے لیئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ نسیمہ لبانو کے ماموں اصغر لبانو نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی برادری کے وڈیرے اور مقامی سردار دباؤ ڈال رہے ہیں کہ مقدمہ واپس لیا جائے اور اس معاملے کا سرداروں سے فیصلہ کروایا جائے۔ اصغر نے بتایا کہ دو روز قبل ملزمان کی کچھ خواتین پاک کتاب لیکر معافی کے لیے آئیں تھیں، انہوں نے مانا تھا کہ ملزماں سے غلطی ہوگئی ہے اور وہ جرمانہ ادا کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس کا عدالت سے باہر فیصلہ کروایا جائے۔ اصغر لبانو کا کہنا ہے کہ ان کی لڑکی کی عزت تو لٹ گئی، اب وہ واپس تو نہیں آسکتی لیکن وہ کسی صورت میں تصفیہ کرنا نہیں چاہتے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تمام ملزمان گرفتار ہوں اور انہیں سزائیں ملیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اوباوڑو میں عدم تحفظ کا شکار ہوگئے تھے اس لیے لڑکی کو کسی دوسری جگہ پر منتقل کردیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں اجتماعی زیادتی، سندھ میں احتجاج 08 February, 2007 | پاکستان ’میں تو زندہ ہی مر گئی‘: نسیمہ لبانو01 February, 2007 | پاکستان اجتماعی زیادتی، سندھ میں مظاہرے07 February, 2007 | پاکستان مظفرآباد: طالبہ اغوا، مظاہرے09 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||