نسیمہ اوراہلِخانہ کراچی منتقل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اوباوڑو میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا شکار نسیمہ لبانو کو خاندان سمیت سکھر سے کراچی منتقل کردیا گیا ہے۔ انہیں بدھ کی شب سکھر سے ہوائی جہاز کے ذریعے ماں ، باپ اور مامو ں سمیت کراچی منتقل کیا گیا ، جہاں وہ سول ہسپتال کے گائنی وارڈ میں زیر علاج ہیں ۔ نسیمہ لبانو سے غیر متعقلہ افراد کی ملاقات پر پابندی عائد کی گئی ہے اور ان کی حفاظت کے لئے ہسپتال میں پولیس اہلکار بھی تعینات کئے گئے ہیں۔ نسیمہ لبانو کے ماموں اصغر لبانو نے بی بی سی کو بتایا کہ گورنر سندھ کے حکم پر انہیں سکھر سے کراچی منتقل کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نسیمہ کی طبعیت بہتر ہے صرف نیند میں دشواری ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ حقوق نسواں کی تنظیموں نے دو روز تک گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا دیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ نسیمہ لبانو کا علاج کسی شہر کے بڑے ہسپتال میں کروایا جائے۔ پولیس نے نسیمہ لبانو کی جانب سے دائر کروائی گئی ایف آئی آر میں نامزد ملزموں میں سے پانچ کو گرفتار کیا ہے جبکہ چھ تاحال مفرور ہیں۔ تفتیشی پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملزماں کسی اور صوبے کی طرف فرار ہوگئے ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔ تفتیشی افسر آفتاب فاروقی کے مطابق مقدمے کا چالان آئندہ روز عدالت میں پیش کردیا جائے گا۔ | اسی بارے میں اجتماعی زیادتی پر عوامی احتجاج31 January, 2007 | پاکستان ’میں تو زندہ ہی مر گئی‘: نسیمہ لبانو01 February, 2007 | پاکستان اجتماعی زیادتی کے ملزمان کی شناخت07 February, 2007 | پاکستان اجتماعی زیادتی، سندھ میں مظاہرے07 February, 2007 | پاکستان اجتماعی زیادتی، سندھ میں احتجاج 08 February, 2007 | پاکستان ’تصفیے کے لیے نسیمہ پر دباؤ‘09 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||