BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 December, 2007, 06:52 GMT 11:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ: ہنگامے، فوج الرٹ

بینظیر بھٹو
جمعہ کی صبح کراچی کا ایک منظر، سندھ میں جمعہ کو بھی تشدد جاری رہا

بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد صوبہ سندھ میں دوسرے روز بھی ہنگامہ آرائی جاری ہے، قومی شاہراہ، انڈس ہائی وے سمیت اندرون سندھ جانے والی تمام سڑکیں بند ہیں۔ جبکہ مشتعل افراد کی جانب سے ریلوے اسٹیشنوں اور پٹڑیوں پر حملے کے باعث ریلوے سروس بھی جمعرات کی شب سے معطل ہے۔

فوج کو الرٹ کردیا گیا ہے اور بوقت ضرورت اسے طلب کرلیا جائیگا۔ محکمۂ داخلہ کے صوبائی وزیر اختر ضامن نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی، لاڑکانہ اور قمبر شھدادکوٹ میں فوج کو الرٹ رہنے کے متنبہ کردیا گیا ہے تاکہ کسی ناگزیر صورتحال میں انہیں طلب کرلیا جائیگا۔

 کراچی اور اندرونِ سندھ ہونے والے ہنگاموں پر قابو پانے کے لیے سندھ حکومت کراچی سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں کرفیو لگانے کے بارے میں غور کررہی ہے
اختر ضامن
رینجرز کو لوٹ مار اور ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو دیکھتے ہیں گولی مارنے کے اختیارات دے دیے گئے ہیں۔ رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لوگوں کی املا ک کو نقصان پہنچایا جارہا تھا اور لوٹ مار کی جارہی ہے جس کے بعد امن امان کی صورتحال ضابطے میں لانے کے لیے صوبائی حکومت نے رینجرز کو یہ اختیارات دیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی سمیت سندھ بھر کے شہروں میں رینجرز گشت کر رہی ہے۔

نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق کراچی اور اندرونِ سندھ ہونے والے ہنگاموں پر قابو پانے کے لیے سندھ حکومت کراچی سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں کرفیو لگانے کے بارے میں غور کررہی ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ کے مطابق گورنر ہاؤس میں ایک اعلٰی سطحی اجلاس ہورہا ہے جس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائیگا کہ سندھ اور کراچی کے کن علاقوں میں کرفیو لگایا جائے اور کن علاقوں میں فوج تعینات کی جائے۔ کرفیو بے نظیر بھٹو کی تدفین کے بعد لگانے کا امکان ہے۔

جمعہ کو کراچی کی سڑکیں صبح سے ویران ہیں، حکومت نے تین روز تک تعلیمی ادارے اور دفاتر بند رکھنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ تاجر تنظیموں نے بھی چار روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ راستوں پر پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہے اور لوگ گھروں تک محدود ہوگئے ہیں۔

نوابشاہ میں جمعہ کے روز بھی ہنگامہ آرائی جاری ہے، مشتعل افراد نے تحصیل آفس اور ایک بینک کو نذر آتش کردیا ہے۔ دوڑ ریلوے اسٹیشن پر مشتعل افراد نے شاھ رکن عالم ایکسپریس کو آگ لگا دی، جس کے باعث چار بوگیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

اس طرح سرہاڑی میں ہزار ایکسپریس کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ سکرنڈ میں کچھ لوگوں نے سب جیل پر حملہ کیا ہے، جس کے باعث سات قیدی فرار ہوگئے ہیں۔

کوٹڑی ریلوے اسیشٹن پر دو دھامکوں کی آواز سنی گئی ہے، جس کے بعد وہاں کھڑے مال گاڑی کے دس سے زائد ڈبوں کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس دوران دو پیٹرول پمپوں اور دو کالیجوں کو بھی آگ لگا دی گئی ہے۔

پیپلز پارٹی کے جیالوں کے گڑھ لیاری میں ٹائروں کو نذر آتش کیا گیا ہے، جبکہ نیا آباد کے علاقے میں فائرنگ کے دوران ایک سپاہی ہلاک ہوگیا ہے۔ کراچی سمیت اندرون سندھ سے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نوڈیرو روانہ ہوگئی ہے۔

اس سے قبل بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد دارالحکومت کراچی سمیت صوبے بھر سے شدید ہنگامہ آرائی ہوئی جس میں دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور تین نے خودسوزی کی کوشش کی ہے جبکہ لاتعداد گاڑیوں، بینکوں اور سرکاری املاک کو نذر آتش کیا گیا ہے۔

بینک نذر آتش
 ہمارے نامہ نگار نثار کھوکھر نے سکھر سے بتایا کہ مشتعل افراد نے خیرپور میں بینک کو آگ لگا دی جس میں اس بینک کے اندر چھ افراد ہلاک ہوگئے۔ اندرون سندھ میں پانچ ریلوے سٹیشنوں کو جن میں پنوں عاقل، لاڑکانہ، سکھر، شکارپور اور خیرپور شامل ہیں نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے علاوہ اطلاعات کے مطابق اندرون سندھ شہروں میں تقریباً تمام بینکوں کو آگ لگا دی۔
بینظیر بھٹو کے قتل کی اطلاع پہنچتے ہی کراچی میں تمام بازار اور دکانیں بند ہوگئیں اور رات دیر تک کھلے رہنے والے بازاروں میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ پورے شہر میں خوف و دہشت کی فضاء ہے۔

شہر کے کئی علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔ لیاری، کھارادر، سلاوٹ پاڑے، گرومندر، ڈیفنس، کلفٹن، گلشن اقبال اور گلشن حدید سمیت دیگر کئی علاقوں میں ہوائی فائرنگ ہو رہی ہے۔ مشتعل لوگوں کے ہجوم سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں جو دیوانہ وار نعرے لگارہے ہیں۔ پتھراؤ کر رہے ہیں اور ٹائروں کو آگ لگا رہے ہیں۔

ناظم آباد میں فائرنگ کے دوران دو افراد عبدالقادر اور محمد علی ہلاک ہوگئے ہیں۔ شاہراہ نورجہاں کے علاقے میں ایک شخص غلام اکبر اور لیاری میں ایک نامعلوم شخص ہلاگ ہوگیا ہے۔ سب سے زیادہ جذباتی منظر لیاری میں ہے جو جہاں خواتین بھی سڑکوں پر نکل کر سینہ کوبی اور بین کر رہی ہیں۔

شہر میں ہنگامہ آرائی کے دوران ایک سو سے زائد گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ یہ گاڑیاں ناظم آباد، لیاقت آباد، کیماڑی، اسٹیل ٹاؤن، راشد منہاس روڈ سہراب گوٹھ پل، گلشن حدید، اسٹیل ٹاؤن، گھگھر پھاٹک پر جلائی گئی ہیں۔ ملیر سے لیکر گھگھر پھاٹک تک قومی شاہراہ پر لاتعداد بسوں، ٹرالروں اور دیگر گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔ وہاں سے ایک شخص خدا ڈنو شاھ نے بتایا ہے کہ ہر طرف آگ ہی آگ ہے، لوگ سڑک پر کھڑے ہیں۔

گلستان جوہر تھانے پر فائرنگ اور بغدادی تھانے پر کریکر سے حملے کی بھی اطلاعات ہیں۔

بینظیر بھٹو کے گھر بلاول ہاؤس میں سوگ کی فضا ہے، شہر بھر سے آنے والے کارکن دہاڑیں مار مار کر رو رہے ہیں۔ بلاول ہاؤس کے قریب واقع بلاول چورنگی پر مشتعل افراد نے دو بینکوں کو نذر آتش کیا ہے۔ جبکہ ایک سرکاری گاڑی میں سوار کچھ افراد کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گاڑی کو آگ لگادی گئی، گیس سلینڈر پھٹنے سے ایک زوردار دھماکہ ہوا۔

لاڑکانہ میں لوگ مشتعل، تشدد
بینظیر بھٹو کی ہلاکت کی خبر ملتے ہی ان کے آبائی شہر لاڑکانہ سمیت اندرون سندھ کے بیشتر شہروں میں فسادات پھوٹ پڑے ہیں۔ لاڑکانہ سے صحافی ایم بی کلہوڑو نے بتایا کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹوکی ہلاکت کی خبر کے فوراً بعد مشتعل افراد گروہوں کی شکل میں باہر نکل آئے اور توڑ پھوڑ کرنے لگے جو کہ جمعہ کو وقت بھی جاری ہے۔

سندھ کے تمام علاقوں میں تشدد بھڑکنے کی اطلاعات ہیں
انہوں نے بتایا کہ بینکوں کو نقصان پہنچا ہے اور نوڈیرو سے یہ اطلاعات آ رہی تھیں کہ وہاں شاہنواز بھٹو ریلوے اسٹیشن پر ایک ٹرین خوشحال خان خٹک کی بوگیوں کو آگ لگا دی۔ اس کے علاوہ شہداد کوٹ میں نیشنل بینک کی برانچ اور کچھ اور بینکوں کی برانچوں کو آگ لگا دی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صورتحال بہت کشیدہ ہے اور اس وقت پولیس اور رینجرز کے دستے سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں۔ فوج کو ابھی طلب نہیں کیا گیا ہے لیکن اطلاعات کے مطابق ضلعی حکومت اور پولیس اس بارے میں سوچ رہے ہیں کہ اگر صورتحال زیادہ خراب ہونے کی صورت میں فوج کو طلب کر لیا جائے۔

گھوٹکی - ریل راستے بند
بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر نے پنجاب کے ساتھ سندھ کے سرحدی ضلعے گھوٹکی سے بتایا کہ وہاں زمینی اور ریل کے راستے بند کر دیے گئے ہیں اور گھوٹکی کے ریلوے سٹیشن کو آگ لگا دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گھوٹکی کے ریلوے سٹیشن کے اطراف میں جو بوگیاں کھڑی تھیں ان کو آگ لگا دی گئی ہے اور ریلوے ٹریک کے اوپر لکڑیاں ڈال کر آگ لگا دی گئی ہے۔اسی طرح سڑک کے راستے بند ہیں۔ مظاہرین نے آگ لگا کر سڑکیں بند کردی ہیں۔

گھوٹکی شہر میں سوگ کا سماں ہے اور یہاں لوگوں نے فائرنگ بھی کی ہے اور سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ لوگ سڑکوں پر دہاڑیں مار کر روتے ہوئے نظر آئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ سندھ یتیم ہو گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ کی قیادت کو تباہ کیا گیا ہے، ختم کر دیا گیا ہے۔

کئی جگہوں سے یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ ریلوے کے ٹریک کو اکھاڑ دیا گیا ہے۔ یہاں گھوٹکی ریلوے سٹیشن سے ٹریک کو اکھاڑا گیا ہے۔ یہاں (ق) لیگ کے امیدوار کے بینر اور پوسٹر کو آگ لگا دی گئی ہے۔

سکھر - بینکیں نذر آتش
ہمارے نامہ نگار نثار کھوکھر نے سکھر سے بتایا کہ مشتعل افراد نے خیرپور میں بینک کو آگ لگا دی جس میں اس بینک کے اندر چھ افراد ہلاک ہوگئے۔
اندرون سندھ میں پانچ ریلوے سٹیشنوں کو جن میں پنوں عاقل، لاڑکانہ، سکھر، شکارپور اور خیرپور شامل ہیں نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے علاوہ اطلاعات کے مطابق اندرون سندھ شہروں میں تقریباً تمام بینکوں کو آگ لگا دی۔

پولیس تھانے پر حملے
 نوشہرو فیروز میں سینکڑوں لوگ اللہ والا چوک پر جمع ہوگئے جو اپنی قائد کو یاد کرتے ہوئے دہاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ حبیب چوک پر کئی دکانیں اور بینک بھی نذر آتش کیے گئے ہیں۔ مورو میں لوگوں نے پولیس تھانے پر حملے کیا اور اہلکاروں کو محصور کر دیا ہے۔ اس کے دوران قومی شاہراہ پر کئی تعداد میں گاڑیاں جلائی گئی ہیں۔ بھریا میں ایم کیو ایم کے دفتر سے فرنیچر نکال کر اسے نذر آتش کیا گیا ہے۔
پولیس اور رینجرز نے حالات کو قابو کرنے کے لیے گشت شروع کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ لیاقت جتوئی کے گھر کو بھی مشتعل افراد نے آگ لگا دی اور ضلع ناظم سکھر سید ناصر حسین شاہ کے گھر کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاڑکانہ میں نادرا کے دفتر کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ سپنا ہوٹل کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

اس کے علاوہ دادو، سکھر، گھوٹکی اور دیگر شہروں میں جی پی او اور واپڈا کے دفاتر کو بھی آگ لگا دی گئی ہے۔

خیرپور میں ہلاکتیں، فائرنگ
خیرپور میں فائرنگ میں زخمی ہونے والا ایک مزید شخص ہلاک ہوگیا ہے جس کے بعد خیرپور میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہوگئی ہے۔ وارہ میں پولیس فائرنگ کے دوران ایک شخص نثار بروہی ہلاک ہوگیا۔ اس طرح سکھر میں فائرنگ سے عمران پٹھان کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔ ٹنڈوالہیار میں ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت عبدالکریم میمن کے نام سے ہوئی ہے۔

ٹنڈوالہیار میں ہزاروں کے تعداد میں مشتعل افراد نے سڑکوں پر نکل کر مارچ کیا اور ٹائر جلائے جس کے دوران فائرنگ میں ایک شخص ہلاک ہوگیا، اس دوران ایک شخص نے خود سوزی کی بھی کوشش کی۔ ٹنڈو جام میں مہران ایکسپریس سے مسافروں کو اتاکر آگ لگا دی گئی جس سے کچھ بوگیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

خیرپور میں سینکڑوں لوگوں نے جلوس نکال کر مارچ کیا اور شہر بھر کے بینکوں کو نذر آتش کر دیا۔ پولیس کی فائرنگ میں دو افراد حفیظ اور حبیب ہلاک ہوگئے ہیں۔

ٹھٹہ میں قومی شاہراہ بلاک
ٹھٹہ میں مشتعل لوگوں نے قومی شاہراہ کو بلاک کر دیا جس کے دوران ٹیلیفون ایکسچینج، پولیس چوکی، تحصیل کاؤنسل کے دفتر اور دو بینکوں سمیت کئی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ مشتعل افراد اور پولیس کے درمیان فائرنگ میں ایک سپاہی سمیت دو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

نوابشاہ -- زرداری ہاؤس
نوابشاہ میں بینظیر بھٹو کی ہلاکت کی خبر ملتے ہیں کارکنوں کی ایک بڑی تعداد زرداری ہاؤس پہنچ گئی ہے۔ کچھ مشتعل افراد نے فائرنگ کی اور ٹائرؤں کو نذر آتش کیا ہے۔

نوشہرو فیروز میں سینکڑوں لوگ اللہ والا چوک پر جمع ہوگئے جو اپنی قائد کو یاد کرتے ہوئے دہاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ حبیب چوک پر کئی دکانیں اور بینک بھی نذر آتش کیے گئے ہیں۔ مورو میں لوگوں نے پولیس تھانے پر حملے کیا اور اہلکاروں کو محصور کر دیا ہے۔ اس کے دوران قومی شاہراہ پر کئی تعداد میں گاڑیاں جلائی گئی ہیں۔ بھریا میں ایم کیو ایم کے دفتر سے فرنیچر نکال کر اسے نذر آتش کیا گیا ہے۔

دادو میں مشتعل افراد نے دو بینکوں اور سابق وزیر لیاقت جتوئی کے املاک کو نذر آتش کیا گیا ہے اور شہر میں آویزاں لیاقت جتوئی کے بینر پھاڑ دیے گئے ہیں۔ مٹیاری میں پولیس اسٹیشن ڈی پی او دفتر، تحصیل کاؤنسل کے دفاتر پولیس موبائیلوں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ ٹنڈو محمد خان میں مشتعل لوگوں نے ناظم سیکریٹریٹ، ٹاؤن آفس، دو پیٹرول پمپ اور ایک فائربرگیڈ گاڑی کو بھی جلا ڈالا ہے۔

ڈگھڑی میں احتجاجی جلوس نکالا گیا ہے جس کے دوران ایک شخص نے خود کو جلتے ہوئے ٹائروں میں دھکیل دیا جس میں وہ معمولی زخمی ہوگیا ہے۔ کوٹ غلام محمد میں مشتعل افراد نے تھانے پر حملہ کیا۔ پولیس نے شییلنگ کر کے خود کو بچایا۔ اس طرح ہنگورجا میں حاتم جوکیو نے خود سوزی کی کوشش کی مگر لوگوں نے اس پکڑ لیا۔

بینظیرآخری لمحات
راولپنڈی میں ہلاک ہونے والا دوسرا بھٹو
بینظیر بھٹوغم اور غصہ
بےنظیر کی ہلاکت، ملک گیر احتجاج
بے نظیر بھٹو’خوشیاں بھی دکھ بھی‘
پنڈی میں دونوں دیکھے: بینظیر کی آواز
بےنظیر بھٹو خود کش حملے میں ہلاکبےنظیر بھٹو
خود کش حملے میں ہلاک
اخبارات’بینظیر بھٹو شہید‘
بینظیر کو اخبارات کا بعد از موت خراج عقیدت
منفرد شخصیت
بی بی دو دہائیوں تک سیاست پر چھائی رہیں
بے نظیرلاڑکانہ کے لیے روانہ
ہسپتال میں ہمارے نمائندے نے کیا دیکھا۔۔۔
اسی بارے میں
سیاسی واقعات: کب کیا ہوا
27 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد