سندھ: ہنگامے، فوج الرٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد صوبہ سندھ میں دوسرے روز بھی ہنگامہ آرائی جاری ہے، قومی شاہراہ، انڈس ہائی وے سمیت اندرون سندھ جانے والی تمام سڑکیں بند ہیں۔ جبکہ مشتعل افراد کی جانب سے ریلوے اسٹیشنوں اور پٹڑیوں پر حملے کے باعث ریلوے سروس بھی جمعرات کی شب سے معطل ہے۔ فوج کو الرٹ کردیا گیا ہے اور بوقت ضرورت اسے طلب کرلیا جائیگا۔ محکمۂ داخلہ کے صوبائی وزیر اختر ضامن نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی، لاڑکانہ اور قمبر شھدادکوٹ میں فوج کو الرٹ رہنے کے متنبہ کردیا گیا ہے تاکہ کسی ناگزیر صورتحال میں انہیں طلب کرلیا جائیگا۔ نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق کراچی اور اندرونِ سندھ ہونے والے ہنگاموں پر قابو پانے کے لیے سندھ حکومت کراچی سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں کرفیو لگانے کے بارے میں غور کررہی ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ کے مطابق گورنر ہاؤس میں ایک اعلٰی سطحی اجلاس ہورہا ہے جس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائیگا کہ سندھ اور کراچی کے کن علاقوں میں کرفیو لگایا جائے اور کن علاقوں میں فوج تعینات کی جائے۔ کرفیو بے نظیر بھٹو کی تدفین کے بعد لگانے کا امکان ہے۔ جمعہ کو کراچی کی سڑکیں صبح سے ویران ہیں، حکومت نے تین روز تک تعلیمی ادارے اور دفاتر بند رکھنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ تاجر تنظیموں نے بھی چار روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ راستوں پر پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہے اور لوگ گھروں تک محدود ہوگئے ہیں۔ نوابشاہ میں جمعہ کے روز بھی ہنگامہ آرائی جاری ہے، مشتعل افراد نے تحصیل آفس اور ایک بینک کو نذر آتش کردیا ہے۔ دوڑ ریلوے اسٹیشن پر مشتعل افراد نے شاھ رکن عالم ایکسپریس کو آگ لگا دی، جس کے باعث چار بوگیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اس طرح سرہاڑی میں ہزار ایکسپریس کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ سکرنڈ میں کچھ لوگوں نے سب جیل پر حملہ کیا ہے، جس کے باعث سات قیدی فرار ہوگئے ہیں۔ کوٹڑی ریلوے اسیشٹن پر دو دھامکوں کی آواز سنی گئی ہے، جس کے بعد وہاں کھڑے مال گاڑی کے دس سے زائد ڈبوں کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس دوران دو پیٹرول پمپوں اور دو کالیجوں کو بھی آگ لگا دی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے جیالوں کے گڑھ لیاری میں ٹائروں کو نذر آتش کیا گیا ہے، جبکہ نیا آباد کے علاقے میں فائرنگ کے دوران ایک سپاہی ہلاک ہوگیا ہے۔ کراچی سمیت اندرون سندھ سے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نوڈیرو روانہ ہوگئی ہے۔ اس سے قبل بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد دارالحکومت کراچی سمیت صوبے بھر سے شدید ہنگامہ آرائی ہوئی جس میں دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور تین نے خودسوزی کی کوشش کی ہے جبکہ لاتعداد گاڑیوں، بینکوں اور سرکاری املاک کو نذر آتش کیا گیا ہے۔
شہر کے کئی علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔ لیاری، کھارادر، سلاوٹ پاڑے، گرومندر، ڈیفنس، کلفٹن، گلشن اقبال اور گلشن حدید سمیت دیگر کئی علاقوں میں ہوائی فائرنگ ہو رہی ہے۔ مشتعل لوگوں کے ہجوم سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں جو دیوانہ وار نعرے لگارہے ہیں۔ پتھراؤ کر رہے ہیں اور ٹائروں کو آگ لگا رہے ہیں۔ ناظم آباد میں فائرنگ کے دوران دو افراد عبدالقادر اور محمد علی ہلاک ہوگئے ہیں۔ شاہراہ نورجہاں کے علاقے میں ایک شخص غلام اکبر اور لیاری میں ایک نامعلوم شخص ہلاگ ہوگیا ہے۔ سب سے زیادہ جذباتی منظر لیاری میں ہے جو جہاں خواتین بھی سڑکوں پر نکل کر سینہ کوبی اور بین کر رہی ہیں۔ شہر میں ہنگامہ آرائی کے دوران ایک سو سے زائد گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ یہ گاڑیاں ناظم آباد، لیاقت آباد، کیماڑی، اسٹیل ٹاؤن، راشد منہاس روڈ سہراب گوٹھ پل، گلشن حدید، اسٹیل ٹاؤن، گھگھر پھاٹک پر جلائی گئی ہیں۔ ملیر سے لیکر گھگھر پھاٹک تک قومی شاہراہ پر لاتعداد بسوں، ٹرالروں اور دیگر گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔ وہاں سے ایک شخص خدا ڈنو شاھ نے بتایا ہے کہ ہر طرف آگ ہی آگ ہے، لوگ سڑک پر کھڑے ہیں۔ گلستان جوہر تھانے پر فائرنگ اور بغدادی تھانے پر کریکر سے حملے کی بھی اطلاعات ہیں۔ بینظیر بھٹو کے گھر بلاول ہاؤس میں سوگ کی فضا ہے، شہر بھر سے آنے والے کارکن دہاڑیں مار مار کر رو رہے ہیں۔ بلاول ہاؤس کے قریب واقع بلاول چورنگی پر مشتعل افراد نے دو بینکوں کو نذر آتش کیا ہے۔ جبکہ ایک سرکاری گاڑی میں سوار کچھ افراد کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گاڑی کو آگ لگادی گئی، گیس سلینڈر پھٹنے سے ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ لاڑکانہ میں لوگ مشتعل، تشدد
انہوں نے مزید بتایا کہ صورتحال بہت کشیدہ ہے اور اس وقت پولیس اور رینجرز کے دستے سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں۔ فوج کو ابھی طلب نہیں کیا گیا ہے لیکن اطلاعات کے مطابق ضلعی حکومت اور پولیس اس بارے میں سوچ رہے ہیں کہ اگر صورتحال زیادہ خراب ہونے کی صورت میں فوج کو طلب کر لیا جائے۔ گھوٹکی - ریل راستے بند انہوں نے بتایا کہ گھوٹکی کے ریلوے سٹیشن کے اطراف میں جو بوگیاں کھڑی تھیں ان کو آگ لگا دی گئی ہے اور ریلوے ٹریک کے اوپر لکڑیاں ڈال کر آگ لگا دی گئی ہے۔اسی طرح سڑک کے راستے بند ہیں۔ مظاہرین نے آگ لگا کر سڑکیں بند کردی ہیں۔ گھوٹکی شہر میں سوگ کا سماں ہے اور یہاں لوگوں نے فائرنگ بھی کی ہے اور سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ لوگ سڑکوں پر دہاڑیں مار کر روتے ہوئے نظر آئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ سندھ یتیم ہو گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ کی قیادت کو تباہ کیا گیا ہے، ختم کر دیا گیا ہے۔ کئی جگہوں سے یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ ریلوے کے ٹریک کو اکھاڑ دیا گیا ہے۔ یہاں گھوٹکی ریلوے سٹیشن سے ٹریک کو اکھاڑا گیا ہے۔ یہاں (ق) لیگ کے امیدوار کے بینر اور پوسٹر کو آگ لگا دی گئی ہے۔ سکھر - بینکیں نذر آتش
اس کے علاوہ دادو، سکھر، گھوٹکی اور دیگر شہروں میں جی پی او اور واپڈا کے دفاتر کو بھی آگ لگا دی گئی ہے۔ خیرپور میں ہلاکتیں، فائرنگ ٹنڈوالہیار میں ہزاروں کے تعداد میں مشتعل افراد نے سڑکوں پر نکل کر مارچ کیا اور ٹائر جلائے جس کے دوران فائرنگ میں ایک شخص ہلاک ہوگیا، اس دوران ایک شخص نے خود سوزی کی بھی کوشش کی۔ ٹنڈو جام میں مہران ایکسپریس سے مسافروں کو اتاکر آگ لگا دی گئی جس سے کچھ بوگیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ خیرپور میں سینکڑوں لوگوں نے جلوس نکال کر مارچ کیا اور شہر بھر کے بینکوں کو نذر آتش کر دیا۔ پولیس کی فائرنگ میں دو افراد حفیظ اور حبیب ہلاک ہوگئے ہیں۔ ٹھٹہ میں قومی شاہراہ بلاک نوابشاہ -- زرداری ہاؤس نوشہرو فیروز میں سینکڑوں لوگ اللہ والا چوک پر جمع ہوگئے جو اپنی قائد کو یاد کرتے ہوئے دہاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ حبیب چوک پر کئی دکانیں اور بینک بھی نذر آتش کیے گئے ہیں۔ مورو میں لوگوں نے پولیس تھانے پر حملے کیا اور اہلکاروں کو محصور کر دیا ہے۔ اس کے دوران قومی شاہراہ پر کئی تعداد میں گاڑیاں جلائی گئی ہیں۔ بھریا میں ایم کیو ایم کے دفتر سے فرنیچر نکال کر اسے نذر آتش کیا گیا ہے۔ دادو میں مشتعل افراد نے دو بینکوں اور سابق وزیر لیاقت جتوئی کے املاک کو نذر آتش کیا گیا ہے اور شہر میں آویزاں لیاقت جتوئی کے بینر پھاڑ دیے گئے ہیں۔ مٹیاری میں پولیس اسٹیشن ڈی پی او دفتر، تحصیل کاؤنسل کے دفاتر پولیس موبائیلوں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ ٹنڈو محمد خان میں مشتعل لوگوں نے ناظم سیکریٹریٹ، ٹاؤن آفس، دو پیٹرول پمپ اور ایک فائربرگیڈ گاڑی کو بھی جلا ڈالا ہے۔ ڈگھڑی میں احتجاجی جلوس نکالا گیا ہے جس کے دوران ایک شخص نے خود کو جلتے ہوئے ٹائروں میں دھکیل دیا جس میں وہ معمولی زخمی ہوگیا ہے۔ کوٹ غلام محمد میں مشتعل افراد نے تھانے پر حملہ کیا۔ پولیس نے شییلنگ کر کے خود کو بچایا۔ اس طرح ہنگورجا میں حاتم جوکیو نے خود سوزی کی کوشش کی مگر لوگوں نے اس پکڑ لیا۔ |
اسی بارے میں اہم شخصیات پر حملوں کی تاریخ19 October, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو کی میت لاڑکانہ پہنچ گئی27 December, 2007 | پاکستان سیاسی واقعات: کب کیا ہوا27 December, 2007 | پاکستان انتخابی ریلی پر خودکش حملہ، بینظیر زخمی، کم سے کم پندرہ افراد ہلاک27 December, 2007 | پاکستان ہنگامے، توڑ پھوڑ، غم و غصے کی لہر27 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||