BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 April, 2008, 18:26 GMT 23:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خواب لے لو خواب۔۔۔۔

غربت
’ نئی مخلوط حکومت لوگوں کو انیس سو ستر میں لے آئی ہے‘
پاکستان میں پیپلزپارٹی سمیت موجودہ مخلوط حکومت اور کچھ ڈلیور کرے نہ کرے لیکن جو بات وہ بہت ہی خوبصورت انداز سے ڈلیور کر رہی ہے اور کر سکتی ہے وہ ہے خوابوں کی ڈلیوری- بلکل نون میم راشد کی اس نظم کی طرح:
’خواب لے لو خواب
صبح ہوتے ہی چوک میں جاکر لگاتا ہوں صدا
’خواب اصلی ہیں کہ نقلی‘
یوں پرکھتے ہیں کہ جیسے ان سے بڑھ کر
خواب داں کوئی نہ ہو !
خواب گر میں بھی نہیں
صورت گر ثانی ہوں بس
ہاں مگر میری معیشت کا سہارا خواب ہیں
خواب لے لو خواب۔۔۔‘

اور یہی کچھ نو منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی اس تقریر میں سو دن کے اندر موجودہ حکومت کی طرف سے کیے جانے والے خوشگمیں،دلفریب وعدوں کا تانا بانا ہے جن کے بی بی سی پر پی پی پی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری سے پوچھے جانے والے اس سوال پر کہ یہ خواب کہاں دیکھے گۓ تو انہوں نے کہا یہ خواب جیل کی تاریک راتوں میں میں (زرداری ) نے اور یوسف رضا گیلانی نے جیل کی کوٹھریوں میں پاکستان کے عوام کے لیے دیکھے تھے۔

خواب شاعروں، عاشقوں، قیدیوں اوربقول شخصے، بھکاریوں سے زیادہ خوشنما کون بن سکتا ہے بھلا!

گیا وقت تو کسی اوراقلیم کا قصہ معلوم ہوتا ہے لیکن ذوالفقار علی بھٹو کی بھی حکومت میں آنے سے پہلے اور بعد میں جو بڑی قوت تھی وہ ان کی عوام کے آگے ان کے لیے خواب بُن کر دکھانے کی بے پناہ صلاحیت تھی۔ لیکن بھٹو اور عوام کا تو عاشق معشوق والا رشتہ تھا جس کی بنیاد ہوتی ہی’وہ وعدہ کیا جو وفا ہوا‘ پر ہے۔ اسی لیے ان کے پاکستان کے بے زمین کسانوں سے کیے گئے وعدے پر سندھی حبیب جالب ابراہیم منشی نے کہا تھا ’ہاری کو سولہ ایکڑ زمیں ملے گي چاند پر‘۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے قومی اسمبلی سے ایوان کا ووٹ لینے کے بعد ان کے خطاب میں کیے گئے کئي وعدوں میں صرف دو ہی وعدوں کو لے لیں: طلبہ اور مزدور یونینوں پر سے پابندیاں ہٹانا اور ان کی سرگرمیاں بحال کرنا، ججوں کی بحالی اور ہر خاندان کے ایک فرد کو روزگار اور مزدور کی تنخواہ کم از کم چھ ہزار روپے مقرر کرنا۔

انیس سو چھہتر میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مذہبی اور اس وقت کے بائيں بازو کے انتخابی اتحاد پی این اے نے روزمرہ کی اشیائے خورد و نوش کے نرخ انیس سو ستر کی شرح پر لے جانے کے دعوے کیے تھے جبکہ تب کی مزدور تنظیمیں مزدور کی تنخواہ کم از کم دو تولہ سونے کی قیمت کے برابر کرنے کا مطالبہ کیا کرتی تھیں۔

یہ دو ہزار آٹھ ہے لیکن خواب دکھانے میں پاکستان پیپلز پارٹی سمیت نئی مخلوط حکومت لوگوں کو انیس سو ستر میں لے آئی ہے۔ موجودہ مخلوط حکومت اور نام نہاد اپوزیشن میں کم از کم دو نسلیں ایسے اراکین اور رہنماؤں کی ہیں جو ماضی میں طلبہ یونینوں اور ان کی سرگرمیوں کی پیداوار ہیں۔ ان میں جاوید ہاشمی (اسلامی جمعیت طلبہ، پنجاب یونیورسٹی) ، سید خورشید شاہ ( سندھ پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن، اسلامیہ کالج سکھر) ، منظور وسان ( سندھ پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن لاء کالج خیرپور میرس) ، حسین حقانی ( اسلامی جمعیت طلبہ کراچی یونیورسٹی) اور ڈاکٹر فارق ستار (اے پی ایم ایس او) بہت سوں میں فقط چند نام ہیں۔

 ہر غریب خاندان کے ایک فرد کو نوکری اور مزدور کی تنخواہ چھ ہزار روپے کا وقت جب تک آئے ہی آئے فی الحال تو نوکریوں کے زیادہ مستحقین رحمان ملک، حسین حقانی اور سلمان فاروقی ہی تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے دنوں تک طلبہ تنظمیوں کو سیاسی پارٹیوں اور کن حالات میں ان سے بھی زیادہ مقبولیت اور پذیرائي حاصل ہوا کرتی تھی، جیسے بلوچ سٹوڈنٹس فیڈریشن بلوچستان کے اندر اور باہر کی سیاست میں بلوچ قوم پرست رہنماؤں اور سرداروں سے زیادہ اثرونفوذ رکھتی تھی جبکہ اندرونِ سندھ کے کئی تعلیمی اداروں میں جیے سندھ سٹوڈنٹس فیڈریشن کا تسلط ہوا کرتا تھا۔

مجھے یاد ہے جب انیس سو تہتر کے انتخابات میں جیے سندھ کے طلبہ رہنماؤں کی ایک بڑی اکثریت جیلوں میں بند تھی تب سرکاری حمایت سے سندھ پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر اور غالباً سیکرٹری جنرل کامیاب ہو کر آئے تھے لیکن اسی یونین میں جوائنٹ سیکرٹری زاہد مخدوم (سندھ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن) جنرل سی آر رفیق کھوسو (بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن) جب وزیراعلٰی غلام مصطفی جتوئی کے ہاتھوں حلف اٹھانے آئے تو حلف کی بجائے انہوں نے سندھ میں طلبہ تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن پر احتجاجاً اپنے استعفے دے دیے تھے۔

رفیق کھوسو آج کل پاکستانی فوج کے ہاتھوں مقتول بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کی پارٹی جمہوری وطن پارٹی میں ہیں لیکن ان کے بارے میں چند ماہ قبل تک اطلاعات یہ تھیں کہ وہ پاکستان کی خفیہ ایجینسیوں کے ہاتھوں گرفتار کر کےگم کر دیے گئے ہیں۔

یہ سب لوگ خوابوں کا تعاقب کرتے لوگ تھے جو شکاریوں کے ہتھے چڑھے۔میں نے سوچا ایک وہ شاگرد پیشہ لوگ تھے جو سٹوڈنٹس یونین کے عہدوں کو اصولوں کی خاطر چھوڑ رہے تھے اور یہ مخلوط حکومت کے وزیر تھے جو آدھے تیتر آدھے بٹیر ہوکر فوجی آمر کے ہاتھوں حلف اٹھا رہے تھے۔’چھٹے اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا‘۔

 خواب شاعروں، عاشقوں، قیدیوں اوربقول شخصے، بھکاریوں سے زیادہ خوشنما کون بن سکتا ہے بھلا!

لیکن جنرل ضیا ء الحق نے ملک میں مارشل لاء نافذ ہوتے ہی جو کام کیا وہ نہ فقط طلبہ یونینوں پر پابندی عائد کر دی بلکہ اپنے اتحادیوں کی بغل بچہ طلبہ تنظیموں کو ریاستی اور خفیہ اییجینسیوں کی حمایت دلوا کر تعلیمی اداروں سے حزب مخالف کی حامی طلبہ تنظیموں اور ان کے کئي رہنماؤں اور کارکنوں کو موت کی گھاٹ اتروا دیا، کسی صحت مند اور جمہوری طلبہ سرگرمیوں کی جگہ کلاشنکوف کلچر اور کیمپس تشدد کو متعارف کروایا۔

دوسری جانب ان کے مارشل لاء نافذ کرنے کے چند ہفتوں بعد کالونی ٹیکسٹائل ملز ملتان میں اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتالی مزدوروں پر فوج اور پولیس نے فائرنگ کی جس میں غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق سو کے قریب مزدور ہلاک ہوئے۔ کہتے ہیں مبینہ طور یہ مل ایک مشہور ترقی پسند کی تھی!

’بابا ہم آٹا نہیں مانگیں گے تم واپس آ جاؤ‘۔ ملک میں اخبارات پر سنسر شپ کے باوجود ملتان کالونی مل فائرنگ میں ایک مقتول مزدور کے بچے کی اپنے باپ کی لاش پر کیا ہوا یہ بین پورے ملک میں سنا گیا تھا۔ اس کے بعد پھر مزدور یونینیں اٹھ نہ سکیں۔

بینظیر بھٹو کو تو حکومت کے جہیز میں غلام اسحاق خان ملے تھے لیکن مجھے شک ہے کہ نظر بٹو کے طور پر مشرف پانے والی یہ مخلوط نئی حکومت لوگوں کو خوابوں کے لالی پاپ سے زیادہ کچھ دے سکے گي۔

ہر غریب خاندان کے ایک فرد کو نوکری اور مزدور کی تنخواہ چھ ہزار روپے کا وقت جب تک آئے ہی آئے فی الحال تو نوکریوں کے زیادہ مستحقین رحمان ملک، حسین حقانی اور سلمان فاروقی ہی تھے۔

پیپلزپارٹی ہو کہ پاکستان مسلم لیگ ان کی حکومتیں آئيں کہ جائيں پاکستان کے غریب عوام کی حالت تو بس فیض کے ان مصرعوں جیسی ہے:

خزاں کے ہاتھوں گلوں پر نہ جانے کیا گزری
چمن سے آج صبا بار بارگزری ہے
تلاش میں ہے سحر بار بارگزری ہے

مشرفمشرف مشینری لیور
زرداری،مشرف مشینری اور مفاہمت
ذوالفقار علی بھٹوبھٹو نہ چھوڑے
’جن چھوڑے بھوت چھوڑے بھٹو نہ چھوڑے‘
جی ایم سیدجی ایم سید
’مسلم لیگ میں نہ جاتے تو سندھی گاندھی ہوتے‘
اسی بارے میں
غریب کی ٹیبل
30 March, 2008 | قلم اور کالم
یوسف، برادرانِ یوسف اور زلیخا
23 March, 2008 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد