یوسف، برادرانِ یوسف اور زلیخا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوسف رضا گیلانی کو جو ملک ٹھیک کرنے کے لیے دیا جا رہا ہے اس کا حال حضرت یوسف علیہ سلام کے مصر سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ جہاں ایک برس فصلیں لہلہاتی تھیں تو دوسرے برس لوگ دانے دانے کو ترس جاتے تھے۔ تیسرے برس وبائیں پھوٹ پڑتی تھیں تو چوتھے برس حملہ آور لوٹ مار کرکے چلتے بنتے تھے اور پانچویں برس موسلا دھار بارش ہوتی تھی تو چھٹے برس آنکھوں کا پانی بھی خشک ہوجاتا تھا اور ساتویں برس ملک سیلاب میں ڈوب جاتا تھا۔ آج وہ دور نہیں ہے جب یوسف رضا گیلانی کے جدِ امجد حضرت شیخ عبدالقادر گیلانی کو ڈاکوؤوں نے دورانِ سفر لوٹنے کی کوشش کی اور کچھ ہاتھ نہ آیا تو جنابِ شیخ نے ازخود ڈاکوؤں کو بتا دیا کہ انکی صدری میں والدہ نے چالیس دینار سی دئیے ہیں۔یہ سچ سننے پر ڈاکو اتنے متاثر ہوئے کہ شیخ کے قدموں پر گر گئے اور اپنے پیشے سے تائب ہوگئے۔ لیکن آج کے ڈاکو پہلے تو یوسف رضا کو اپنے گروہ میں شمولیت کی ترغیب دیں گے اور اگر وہ آمادہ نہ ہوئے تو ایسا ماحول بنانے کی کوشش کریں گے کہ جنابِ گیلانی صدری سمیت ڈاکوؤوں کے قدموں پر گر پڑیں۔ پچیس مارچ کو یوسف رضا گیلانی ایک ایسے ماحول میں وزارتِ عظمی کا حلف اٹھائیں گے جب اٹھاون ٹو بی کی توپ ان سے چند گز کے فاصلے پر چمک رہی ہوگی۔ ہو سکتا ہے کہ عین اس وقت کوئی امریکی ڈرون طیارہ پاکستانی حدود میں منڈلا رہا ہو۔ کسی ڈرائنگ روم میں گندم، چینی، پٹرول اور کنسٹرکشن کی مافیا اپنی اگلی حکمتِ عملی طے کر رہی ہو۔ ججوں کی تیس دن میں بحالی کی راہ میں کیلیں بکھیرنے کا کام شروع ہوچکا ہو۔ ایک ایسی زیرِ زمین سرنگ کی کھدائی کا آغاز ہوگیا ہو جس کا ایک دہانہ ایوانِ صدر میں تو دوسرا پارلیمنٹ ہاؤس میں کھلتا ہو۔ ان حالات میں اگر یوسف رضا گیلانی نےگڈ بوائے بننا سیکھ لیا تو نہ صرف برادرانِ یوسف ان سے راضی رہیں گے بلکہ جنابِ یوسف وزیرِاعظم ہاؤس میں ہر شب میٹھی نیند بھی سو پائیں گے لیکن اگر انہوں نے الیکشن کمیشن کو بھارت کی طرز پر خودمختاری دینے، صدر اور وزیرِ اعظم کے اختیارات متوازن کرنے ، ایجنسیوں کے سیاسی کردار کو محدود کرنے، امریکی لغت کے اعتبار سے جو لوگ دہشت گرد ہیں ان سے بات چیت کرنے اور گندم، چینی، پٹرول، سٹاک ایکسچینج اور کنسٹرکشن مافیا کو نتھ ڈالنے کی کوشش کی تو پھر ہر رات انہیں اپنے بیڈ روم کے باہر ڈراؤنی چیخیں سنائی دیں گی، خواب گاہ کے پردے ، فانوس اور مسہری زور زور سے ہلتے محسوس ہوں گے۔لال آنکھوں والے بھیڑیے اپنی طرف لپکتے نظر آئیں گے اور پائنتی پر کتے کا کٹا ہوا سر پیروں سے ٹکراتا محسوس ہوگا۔ ایسے ڈراؤنے خوابوں سے بچنے کے لیے یوسف رضا گیلانی کے جدِ امجد شیخ عبدلقادر گیلانی سورہ الناس پڑھ کر کروٹ بدل لیتےتھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یوسف رضا کیا کریں گے۔ ایک اور بات ! جب تک جنابِ یوسف وزارتِ عظمی کے امانت دار ہیں۔انہیں عوام کو زلیخا سمجھنا پڑے گا۔اگر عوام نے کچھ عرصے انتظار کے بعد بھی خود کو پہلے کی طرح نظرانداز جانا تو پھر قیمتِ عشقِ زلیخا نہیں معلوم مگر | اسی بارے میں تیس برس کا سیاسی سفر22 March, 2008 | پاکستان ’نئی حکومت سے تعاون کروں گا‘23 March, 2008 | پاکستان گیلانی وزارتِ عظمٰی کے لیے نامزد22 March, 2008 | پاکستان ’جب تک پارٹی چاہے تب تک وزیراعظم‘23 March, 2008 | پاکستان ’مجھ سے پارٹی کو نقصان نہیں ہو گا‘22 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||