تیس برس کا سیاسی سفر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل ضیاء الحق کی آمریت میں عملی سیاست کا آغاز کرنےوالے یوسف رضا گیلانی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور صدارت میں پاکستان کی وزارت عظمیْ کے لیے نامزد کر دیے گئے ہیں۔ وہ بلخ شیر مزاری کے بعد سرائیکی بیلٹ سے نامزد ہونے والے دوسرے وزیراعظم ہیں۔ بلخ شیر مزاری نگراں وزیر اعظم بنے تھے جب کہ یوسف رضا گیلانی اب تک کی اطلاعات کے مطابق وزارتِ عظمٰی کی مکمل مدت کے لیے امیدوار نامزد کیے گئے ہیں اور جیسا کے امکان ہے کہ وہ منتخب ہو جائیں گے تو سرائیکی علاقوں سے منتخب ہونے والے وہ پہلے وزیراعظم ہوں گے۔ یوسف رضا گیلانی فروری سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں ملتان سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پانچویں مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ اگرچہ ابتداء میں یوسف رضا گیلانی کو وزارتِ عظمٰی کے لیے مضبوط امیدوار گردانا نہیں جا رہا تھا اور پنجاب سے ممکنہ امیدوار کے طور پر احمد مختار کا نام خبروں میں تھا لیکن سیاست میں کچھ بھی حرفِ آخر نہیں ہوتا۔ مخدوم یوسف رضا گیلانی نو جون سنہ انیس سو باون کو جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان کے ایک ایسے بااثر جاگیردار پیرگھرانے میں پیدا ہوئے جو پچھلی کئی نسلوں سے سیاست میں مضبوطی سے قدم جمائے ہوئے ہے۔ ملتان کی درگاہ حضرت موسی پاک کا گدی نشین ہونے کی بناء پر ان کا خاندان مریدین یا روحانی پیروکاروں کا بھی وسیع حلقہ رکھتا ہے۔ ان کے دادا سید محمد رضا شاہ گیلانی تحریک پاکستان کے رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں اور ان کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے کبھی کسی انتخاب میں شکست نہیں کھائی۔ ان کے والد کا نام سید علمدار حسین گیلانی ہے جبکہ معروف سیاست دان حامد رضا گیلانی ان کے چچا تھے۔ یوسف رضا گیلانی کی مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ اور نامور بزرگ سیاست پیر پگاڑا سے بھی قریبی نسبتی عزیز داری بھی ہے اور پیر پگاڑا کی پوتی یوسف رضا گیلانی کی بہو ہیں۔ یوسف رضا گیلانی نے انیس سو ستر میں گریجویشن اور انیس سو چھہتر میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کیا۔ انہوں نے اپنی عملی سیاست کا آغاز سنہ انیس سو اٹھہتر میں اس وقت کیا جب انہیں مسلم لیگ کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا رکن چنا گیا اور سنہ انیس سو بیاسی میں وہ وفاقی کونسل کے رکن بن گئے۔ یوسف رضا گیلانی نے انیس سو تراسی میں ضلع کونسل کے انتخابات میں حصہ لیا اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے موجودہ رہنما سید فخر امام کو شکست دیکر چیئرمین ضلع کونسل ملتان منتخب ہوئے۔ سنہ 1985 میں انہوں نے صدر جنرل ضیاء الحق کے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیااور وزیراعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر ہاوسنگ و تعمیرات اور بعد ازاں وزیرِ ریلوے بنائے گئے۔ انیس سو اٹھاسی میں وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور اسی برس ہونے والے عام انتخابات میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا اور اپنے مدمقابل نواز شریف کو شکست دی جو قومی اسمبلی کی چار نشستوں پر امیدوار تھے۔ان انتخابات میں کامیابی کے بعد یوسف رضا گیلانی ایک مرتبہ پھر وفاقی کابینہ کے رکن بننے اور اس مرتبہ انہیں بینظیر بھٹو کی کابینہ میں سیاحت اور ہاؤسنگ و تعمیرات کی وزارت ملی۔ یوسف رضا گیلانی نوے کے انتخاب میں تیسری مرتبہ رکن اسمبلی بننے اور انیس سو ترانوے میں صدر غلام اسحاق خان کی طرف سے اسمبلی کی تحلیل کے بعد نگران وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کی نگران کابینہ میں انہیں بلدیات کا قلم دان سونپاگیا۔ انیس سوترانوے کے انتخابات میں یوسف رضا گیلانی چوتھی مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں قومی اسمبلی کے سپیکر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ انہوں نے اپنی سپیکر شپ کے دوران قائم مقام صدر کے فرائص بھی سرانجام دیے۔ ماضی میں انتخابات میں کامیابی کے باوجود یوسف رضا گیلانی فروری ستانوے میں ہونے والے انتخابات میں ناکام رہے۔ سنہ انیس سو اٹھانوے میں انہیں پیپلز پارٹی کا وائس چیئرمین نامزد کر دیا گیا لیکن دسمبر 2002ء میں انہوں نے اپنے بھانجے اور رکن قومی اسمبلی اسد مرتضیٰ گیلانی کی جانب سے پیپلز پارٹی میں بننے والے فارورڈ بلاک میں شامل ہونے پر پارٹی کے عہدے سے استعفی دیدیا۔ سیاسی کیرئر کے دوران یوسف رضا گیلانی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں نیب نے ریفرنس دائر کیا اور راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے ستمبر سنہ دو ہزار چار میں یوسف رضا گیلانی کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تین سو ملازمین غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے کے الزام میں دس سال قید با مشقت کی سزا سنائی تاہم سنہ دو ہزار چھ میں یوسف رضا گیلانی کو عدالتی حکم پر رہائی مل گئی ۔ یوسف رضا گیلانی نے اڈیالہ جیل میں اسیری کے دوران اپنی یاداشتوں پر مبنی پر ایک کتاب’چاہ یوسف سے صدا‘ بھی لکھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||