BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 March, 2008, 16:50 GMT 21:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہمیں آمریت کو دفن کرنا ہوگا‘
جاوید ہاشمی (فائل فوٹو)
مشرف حکومت نے جاوید ہاشمی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کیا تھا
پاکستان کے ایوان زیریں یا قومی اسمبلی میں سپیکر کے انتخاب کے بعد حزب اقتدار میں شامل پاکستان مسلم لیگ نواز کے راہنما جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ موجودہ اسمبلی ربر سٹیمپ یا کٹھ پتلی ایوان کی طرح ایک آمر کے اقدامات کی توثیق نہیں کرے گی۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ان کا اشارہ گزشتہ نومبر میں جنرل مشرف کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کی جانب تھا۔ ان کی تقریر سے ظاہر ہو رہا تھا کہ صدر جنرل ریٹائرڈ مشرف کو آنے والے دنوں میں مشکلات درپیش ہوں گی۔

جاوید ہاشمی نے تکرار کے ساتھ کہا: ’ہمیں آمریت کو دفن کرنا ہوگا، دفن کرنا ہوگا، دفن کرنا ہوگا۔‘

انہوں نے مطالبہ کیا کہ دفاعی بجٹ کو بھی جانچ پڑتال کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے بطور سپیکر انتخاب اور حلف برداری کے بعد فہمیدہ مرزا نے ایوان میں قائد حزب اختلاف چوہدری پرویز الہی کو خطاب کی دعوت دی۔

پرویز الہی نے اپنی جماعت پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے ایوان کو مکمل تعاون کا یقین دلایا۔خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پرویز الہی نے بظاہر ایوان پر زور دیا کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے اختیارات کو کم کرنے سے اجتناب بہتر ہوگا۔

مخلوط حکومت میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے ایوان کو احتیاط سے کام لینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا: ’پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر ہے، اگر خدانخواستہ اس مرحلے پر ایوان کوئی غلط فیصلہ کرتا ہے تو اس کے نتائج ہمارے اور ہمارے بچوں کے لیے تباہ کن ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایوان کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئروائس چیئرمین مخدوم امین فہیم نے کہا کہ اب ملک جمہوریت کی راہ پر واپس آچکا ہے۔ انہوں نے سپیکر کے لیے فمہیدہ مرزا کی نامزدگی پر پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دوستوں کے دوست ہیں اور اپنا وعدہ نبھانا جانتے ہیں۔

چوہدری پرویز الہی
پرویز الہی نے ریاستی اداروں میں تصادم سے خبردار کیا
انہوں نے کہا: ’مجھے امید ہے کہ ہم سب بہت کچھ سیکھ چکے ہیں اور یہ کہ زیادہ اختیارات کے لیے اداروں کے مابین تصادم سے گریز کریں گے۔ اور ریاستی ادارے اپنے دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔‘

مبصرین کے مطابق ان کا اشارہ صدر کے اس آئینی اختیار کی طرف تھا جس کے تحت وہ اسمبلیوں کو ختم کرسکتے ہیں۔ حزب اقتدار میں شامل جماعتیں آئین کی ’شق اٹھاون دو بی‘ کے خلاف ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد