امین فہیم کی وفاداری پر شک کیوں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں فوجی اسٹیبلِشمنٹ کے سیاسی ایجنٹوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ لیکن سیاست کے بازار میں اب یہ بات ایک تُہمت بن گئی ہے جسے جب چاہے جس پر چاہے لگا دیں: ’او جی فلاں، وہ تو جی ایجنسیوں کا آدمی ہے‘۔ اسی طرح سیاسی جماعتوں کے اندر اپنے ہی لوگوں پر شک پڑ جائے تو پارٹی لیڈر اپنوں کو بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعےخوار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ امین فہیم کے ساتھ پیپلز پارٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے مبصرین کی نگاہ میں وہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ پہلے انتخابات سے قبل ہی مسٹر زرداری کے قریبی صلاح کار سینیٹر بابر اعوان نے شوشہ چھوڑا کہ وزیرِ اعظم کے لئے آصف زرداری سب سے موزوں شخصیت ہیں۔ لیکن مسٹر زرداری کا خود دوٹوک اصرار رہا کہ وہ اس عہدے کے امیدوار نہیں۔ پھر انتخابات کے بعد پارٹی کے کچھ لوگوں کو جیسے کسی نے اشارہ کیا ہو کہ وہ اپنے آپ کو امین فہیم کے مدِمقابل وزیرِ اعظم کے امیدوار کے لئے پیش کرنا شروع کر دیں۔ ساتھ ہی ذرائع ابلاغ میں مخدوم امین فہیم کی پارٹی سے وفاداری پر سوالات اُٹھنے لگے۔ مخدوم امین فہیم کی اہم سفیروں، انٹیلیجنس حکام اور صدر مشرف کے ساتھ مبینہ خفیہ ملاقاتوں کے قصے اخباروں میں آگئے۔ یوں چند ہفتوں کے اندر اندر وہ مخدوم امین فہیم جو کل تک بینظیر بھٹو کے ساتھ اپنی مسلسل وفاداری کی مثال تھے اب ’مشرف کے ایجنٹ‘ قرار پائے۔ تاہم مخدوم امین فہیم سیاست کے پرانے اور منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر مشرف سے ڈائیلاگ بینظیر بھٹو کی حکمتِ عملی کا حصہ تھا اور یہ کہ اسٹیبلشمنٹ کے لوگوں سے مذاکرات کے لئے وہ خود کبھی نہیں گئے بلکہ بی بی خود انہیں بھیجا کرتی تھیں۔ امین فہیم کم بولتے ہیں اور جب کچھ کہتے بھی ہیں تو بہت ناپ تول کر بولتے ہیں۔ ان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ مخدوم صاحب کو اندازہ ہے کہ اُن کے خلاف ’یہ پروپگینڈا‘ کس کے اشارے پر کیا جا رہا ہے۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ کیوں ہوا؟
امین فہیم کے قریبی ساتھیوں کا خیال ہے کہ ان کا ماتھا اُسی دن ٹھنکنا چاہیئے تھا جب انتخابات سے پہلے امریکی تھِنک ٹینک انٹرنیشنل ریپبلیکن انسٹیٹیوٹ کے سروے میں لوگوں کی سڑسٹھ فیصد اکثریت میں وہ مقبول ترین رہنما پائے گئے۔ اس سروے میں پچپن فیصد لوگ بلاول زرداری کے حق میں نظر آئے جبکہ آصف زرداری کو تیسرے نمبر پر صرف سینتیس فیصد لوگوں کی حمایت حاصل ہو سکی۔ پیپلز پارٹی کے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ آصف زرداری اپنی پارٹی میں کبھی کسی ایسے شخص کو زیادہ برداشت نہیں کر سکتے جو خود اُن سے زیادہ مقبول سمجھا جائے۔ آصف زرداری کے نقطـۂ نظر سے وہ جیلوں میں لمبا عرصہ رہے، لیکن پارٹی کارکن انُ کی بجائے سندھ ہی کی کسی اور شخصیت مخدوم امین فہیم کو چاہنے لگیں، شاید اس کا توڑ اُن کے نزدیک ناگزیر تھا۔ یوں مبصرین کے نزدیک امین فہیم کے بارے میں آصف زرداری کا احساسِ عدم تحفظ بظاہر زیادہ تر اُن کی اپنی تخلیق دکھائی دیتا ہے۔ بحیثیتِ انسان مخدوم امین فہیم میں کئی خامیاں ہوسکتی ہیں لیکن پارٹی سے ان کی وفاداری کی گواہی سب دیتے ہے۔ لیکن اگر مسٹر زرداری، امین فہیم میں فاروق لغاری کی پرچھائیں تلاش کرنے پر مُصر ہوں تو ایسے میں امین فہیم کیا کر سکتے ہیں؟ امین فہیم کا قصور یہ نظر آتا ہے کہ انہوں نے پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کی صدارت کے اپنے عہدے کو ضرورت سے زیادہ سنجیدگی سے لے لیا۔ شاید کہیں وہ اس حقیقت کو بھلا بیٹھے کہ جمہوریت کی دعویدار پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں سوائے اصل قائدین کے باقی سب عہدیدار دراصل مہمان اداکار ہی ہوتے ہیں۔ جمہوریت کا پرچار کرنے والی اس فلم میں پارٹی لیڈر ہی ڈاریکٹر، پروڈوسر، سکرپٹ رائیٹر اور اس کا ہیرو ہوتا ہے۔ نعرے جمہوریت کے لگوائے جاتے ہیں لیکن کہانی ایک ہی شخصیت یا اس کے خاندان کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ اس ون مین شو میں سب کچھ لیڈر کی منشا کے مطابق ہوتا ہے۔ وہ بااختیار ہوتا ہے۔ عقلِ کُل ہوتا ہے۔ وہ پارٹی کا چہرہ اور اس کا تھنک ٹینک ہوتا ہے۔ باقیوں کا کام اس کے ہر فیصلے کا خیرمقدم کرنا اور ان کی ہاں میں ہاں مِلانا رہ جاتا ہے۔ جو جتنا بڑھ چڑھ کر شخصیت پرستی کے اس کھیل میں اپنے جوہر دکھاتا ہے، عہدے اور وزارتیں بھی اُسی جھولی میں آتی ہیں۔ امین فہیم کے ساتھ جو سلوک ہوا ہے جس کا الزام پارٹی ہی کے بعض رکن خود آصف زرداری پر عائد کرتے ہیں، وہ پارٹی کے اندر کافی لوگوں کے لئے بےچینی کا سبب ہے۔ لیکن جن لوگوں کا خیال ہے کہ آصف زرداری، امین فہیم کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں وہ نجی طور پر امین فہیم کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کے سوا کچھ اور کرنے کی ہمت رکھتے ہیں یا نہیں، اس کے امکان کم ہی نظر آتے ہیں۔ فی الحال ہر ایک کے سامنے اپنا سیاسی فائدہ، ممکنہ عہدے اور وزارتیں ہیں۔ یوں آصف زرداری کو اقتدار کی چمک دمک کے زور پر پارٹی کو اپنے پیچھے چلانے میں زیادہ دقت نہیں ہونی چاہیئے۔ تاوقتیکہ کوئی یہ بھولنے کی گستاخی نہ کرے کہ اس فلم کے اصل ہیرو مسٹر زرداری ہیں اور باقیوں کی حیثیت امین فہیم کی طرح بظاہر کسی ڈسپوزایبل مہمان اداکار سے زیادہ نہیں۔ |
اسی بارے میں شراکتِ اقتدار کا اختیار زرداری کے پاس23 February, 2008 | پاکستان ہم بھٹو کے فرزند ہیں: زرداری 09 February, 2008 | پاکستان بینظیر کی نئی کتاب میں نئے انکشاف04 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||