آصف علی زرداری کا سفر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیس برس قبل انیس سو ستاسی میں بینظیر بھٹو کی آصف علی زرداری کے ساتھ شادی ہوئی تھی تو کئی دنوں تک لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوال اٹھتے رہے۔ اب بےنظیر بھٹو کی وصیت کے مطابق پارٹی کے سربراہ کے طور پر ان کی نامزدگی پر بھی کچھ ویسی ہی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ نواب شاہ سے تعلق رکھنے والے آصف زرداری کا تعلق ایک درمیانہ بزنس کلاس سے ہے۔ ان کے والد حاکم علی زرداری پی پی ٹکٹ پر ستر کی دہائی میں الیکشن جیت چکے ہیں۔ بڑی مونچھیں اور مخصوص سندھی اسٹائل رکھنے والے اکیاون سالہ پر اعتماد آصف زرداری پولو اور گھڑ سواری کے شوقین ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس میں پولو گراؤنڈ تعمیرکرایا تھا۔ جس وجہ سے کئی مخالف سیاسی رہنما ان پر برہمی کا اظہار کرتے رہے اور اس حوالے سے کئی کہانیاں میڈیا میں آئیں تھیں۔ آصف زرداری بینظیر حکومت میں مختلف معاملات میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ انیس سو اٹھاسی کے عام انتخابات کے نتیجے میں جب بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی پہلی مرتبہ برسر اقتدار آئی تو پارٹی کے کئی پرانے لیڈروں اور کارکنوں کو یہ شکایت تھی کہ حکومت اور پارٹی میں کسی عہدہ دار کی نہیں چلتی۔ ہر فیصلے اور ہر معاملے پر آصف زرداری حاوی ہیں۔ پارٹی کے بعض اراکین کے تحفظات اور مختلف حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے باوجود بینظیر کے دوسرے دور حکومت میں انہوں نے سیاسی رول بھی ادا کرنا شروع کیا۔ مخالفین نے آصف زرداری کو ’مسٹر ٹین پرسنٹ‘ کا لقب دیا اور ان پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ مختلف سودوں میں کمیشن لے رہے ہیں۔ تاہم وہ اور بینظیر بھٹو آخری وقت تک ان تمام الزامات کی تردید کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان الزامات کے پیچھے مخالفین کے سیاسی مقاصد ہیں۔ کیونکہ اس حوالے سے حکومت کوئی بھی الزام ان پر ثابت نہیں کرسکی ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اگر وہ بینظیر بھٹو کے شوہر نہ ہوتے تو شاید ان کے خلاف اتنا پروپگنڈہ نہیں کیا جاتا ۔ آصف زرداری کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دوست نواز ہیں۔ جب وہ جیل میں سنگین حالات سے دوچار تھے تو ان کے والد حاکم علی زرداری نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ آصف دوستوں کی وجہ سے ہی یہ دکھ دیکھ رہا ہے۔ زرداری نے ایک مرتبہ اپنی گرفتاری پر کہا تھا کہ ان کا ایک پاؤں جیل میں اور دوسرا وزیر اعظم ہاؤس میں ہے۔ یہ بات سچ بھی ثابت ہوئی کہ ان کی شادی کے بعد جب بینظیر حکومت میں رہیں تو وہ وزیر اعظم ہاؤس میں رہے اور جب اپوزیشن میں رہیں تو وہ جیل میں یا پھر بیرون ملک۔ پانچ نومبر سن انیس سو چھیانوے کو جب ان کی جماعت کی حکومت ان ہی کے منتخب کردہ صدر فاروق احمد خان لغاری کے ہاتھوں برطرف ہونے سے لیکر دو ہزار چار تک وہ مسلسل جیل میں رہے۔ اور یوں آٹھ سال کا عرصہ انہوں نے قید میں گزارا۔ اس دوران چار حکومتیں آئیں اور گئیں، لیکن زرداری کے لیے جیل کے دروازے نہیں کھلے۔ شروع میں زرداری سے ان کی جماعت اور عام لوگوں کی شاید ہی کوئی ہمدردی رہی ہو لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ پارٹی اور عام لوگوں میں کسی حد تک ہمدردی حاصل کرتے رہے۔ جب نواز شریف ایک معاہدے کے تحت سعودی عرب چلے گئے تو لوگوں میں زرداری کے لیے جگہ پیدا ہونا شروع ہوئی کہ وہ ابھی تک جیل کاٹ رہے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے پورے دور میں حکومت نے زرداری کے مقدمات کو سیاسی آلے کے طور پر استعمال کیا اور یوں زرداری کے خلاف کرپشن کے الزامات پس منظر میں چلے گئے اور وہ سیاسی طور پر ایک مظلوم شخص کے طور پر ابھرے۔ وہ پارٹی کے موجودہ اراکین میں سب سے زیادہ جیل کاٹنے والے لیڈر بن گئے ہیں اور ان کا نام بھی قربانی دینے والوں کی فہرست میں شمار کیا جانے لگا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ ایک طاقتور سیاسی شخصیت بن کر سامنے آئے اور جنرل مشرف کی ٹیم نے بینظیر بھٹو سے ڈیل کرنے کے لیے آصف زرداری سے بات چیت کا آغاز کیا تھا۔ آصف زرداری کے بچوں نے والدین کے ساتھ کبھی بھی ایک طویل عرصہ نہیں گزارا۔ جب بلاول، بختاور اور آصفہ چھوٹے تھے تو ان کے والد زرداری کئی میل دور جیل میں تھے۔ بینظیر بھٹو سیاسی مصروفیات کے باوجود ایک ماں کے ساتھ باپ کی بھی ذمہ داری ادا کرتی رہیں۔ قید کے دوران وہ مختلف بیماریوں میں بھی مبتلا رہے۔ رہائی کے بعد انہوں نے دبئی اور امریکہ میں علاج کرایا۔ صحت کی خرابی یا الزامات کے پیش نظر بینظیر نے ان کو فی الحال باقاعدہ سیاست سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہاں تک کہ مجوزہ انتخابات میں وہ امیدوار بھی نہیں تھے۔ جب بینظیر بھٹو بیرون ملک سے وطن آئیں تو زرداری دبئی میں بچوں کے پاس چلے گئے۔ تاہم انتخابی مہم کے لیے انہیں دسمبر کے آخر میں چند روز کے لیے وطن آنا تھا۔ لیکن وہ اپنے تینوں بچوں سمیت بینظیر کی آخری رسومات کے لیے پہنچ گئے۔ بینظیر کے وصیت نامے کے مطابق آصف زرداری کو پارٹی کا سربراہ مقرر ہونا تھا لیکن انہوں نے یہ عہدہ اپنے بیٹے بلاول کو دے دیا ہے۔ انیس سالہ بلاول اکسفرڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں لہذا عملی طور پر یہ عہدہ پھر واپس آصف کے پاس آ گیا ہے۔ ماضی کے الزامات کے پیش نظر وہ خود حکومت کے اہم عہدے کے امیدوار نہیں۔ انہوں نے یہ عہدہ پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم کے لیے چھوڑا جو بینظیر بھٹو کی جلاوطنی کے دنوں میں پارٹی کو سنبھالتے رہے۔ تاہم عملی طور پر پیپلز پارٹی کا اسٹیئرنگ ابھی ان کے ہاتھوں میں ہے۔ |
اسی بارے میں وصیت جاری کرنا لازمی نہیں: زرداری31 December, 2007 | پاکستان بلاول چیئرمین، الیکشن میں شرکت31 December, 2007 | پاکستان بینظیر کے جانشینوں کو درپیش چیلنج31 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||