BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 December, 2007, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر کے جانشینوں کو درپیش چیلنج

بلاول زرداری
درحقیقت پیپلز پارٹی کی سربراہی آصف زرداری کے پاس ہے
پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی قتل ہونے والی رہنماء بینظیر بھٹو کے انیس سالہ بیٹے بلاول بھٹو زردادی کو اپنا نیا چیئرمین مقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی نے آئندہ عام انتخابات میں بھی حصہ لینے کا اعلان کیا۔

لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی مجلس عاملہ کے پہلے فیصلے کا مقصد پارٹی کو اندرونی تقسیم سے بچانا ہے جبکہ دوسرے فیصلے کا مقصد گزشتہ جمعرات کو بینظیر بھٹو کے قتل سے پیدا ہونے والی ہمدردی کی لہر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انتخابات میں زیادہ سے زیادہ نشستیں جیتنا ہے۔

لیکن حقیقت میں جب تک بلاول اپنی تعلیم مکمل کر کے پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے قابل نہیں ہو جاتے، پیپلز پارٹی کی باگ ڈور آصف علی زرداری کے ہاتھ میں ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام نظریں فی الحال آصف علی زرداری پر ہیں کہ وہ انتخابات کے لیے پارٹی کی رہنمائی کیسے کرتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی دوسری تاسیس
اور زرداری نے جس چابکدستی سے بینظیر بھٹو کی جانشینی کے معاملے کو سنبھالا ہے اس سے لگتا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے لیے ان سے معاملات طے کرنا شاید اتنا ہی مشکل ہو جائے جتنا زردادری کی مقتول اہلیہ کے ساتھ ہوا تھا۔

بینظیر بھٹو پاکستان پر انیس سو ستّر کی دہائی میں حکمرانی کرنے والے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی جانشین بنی تھیں۔ اور وہ والد سے بہت مماثلت رکھتی تھیں، وہی پرکشش شخصیت اور عوامی سیاست کا انداز۔ حتٰی کہ ان کی موت بھی اپنے والد کی موت جیسی ہوئی۔

فوج نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جس کے بعد انیس سو نواسی میں ایک متنازعہ مقدمے میں انہیں پھانسی دیدی گئی۔ اور اب گزشتہ جمعرات کو ایک انتخابی جلسے کے بعد بینظیر بھٹو کا قتل پیپلز پارٹی کے حامیوں کو اسی موڑ پر لے آیا جہاں وہ ان کے والد کی موت پر کھڑی تھی۔

تقسیم سے بچاؤ
 آصف زردادی نے اس بات کو جانتے ہوئے کہ اگر پیپلز پارٹی کی قیادت بھٹو خاندان سے باہر جاتی ہے تو اس سے پارٹی تقسیم ہو سکتی ہے، قیادت اپنے بیٹے کو دیدی جس نے اپنا نام تبدیل کر کے ’بلاول بھٹو زردادی‘ کر لیا ہے۔

تاہم اِس مرتبہ جانشینی کا مسئلہ ہاتھ سے لکھی اس وصیت نے حل کر دیا جس کے بارے میں پیپلز پارٹی کی پچپن رکنی مجلس عاملہ کا کہنا ہے کہ اس میں بینظیر بھٹو نے اپنا جانشین اپنے شوہر آصف علی زرداری کو مقرر کیا تھا۔

آصف زردادی نے اس بات کو جانتے ہوئے کہ اگر پیپلز پارٹی کی قیادت بھٹو خاندان سے باہر جاتی ہے تو اس سے پارٹی تقسیم ہو سکتی ہے، قیادت اپنے بیٹے کو دیدی جس نے اپنا نام تبدیل کر کے ’بلاول بھٹو زردادی‘ کر لیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ آصف زردادری نے پیپلز پارٹی کی اس ’تاسیسِ ثانی‘ کے موقع پر بینظیر بھٹو کی جگہ سنبھال کر جارحانہ اسٹیبلشمنٹ کے روایتی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

’جلد سیکھنے والا شخص‘

لیکن سوال یہ ہے کہ آصف زرداری ان چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟

پیپلز پارٹی کے کرکن بینظیر کے قتل کا ذمہ دار حکومت کو سمجھتے ہیں

اپنی کشش اور طویل سیاسی تجربے کی بدولت بینظیر بھٹو نے موثر سیاسی مذاکرات کی مہارت حاصل کر لی تھی اور موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بات کرنے کا ڈھنگ آ گیا تھا۔

سیاسی مبصرین اس بات کی داد دیتے ہیں کہ بینظیر آٹھ سال کی جلاوطنی کے بعد مذاکرات کے راستے پاکستان واپس پہنچنے اور فوجی حکمرانوں کی ضرورت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک قابل رشک سیاسی مہم چلانے میں کامیاب ہو چکی تھیں۔

پاکستان میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ آصف زرداری ماضی میں ثابت کر چکے ہیں کہ وہ کم وقت میں سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اب فوری طور پر انتخابات میں حصہ لینے کے چیلنج کا سامنا کرنے کے بعد انکی اس صلاحیت میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ جب انیس سونوّے کی دھائی میں بینظیر بھٹو دو مرتبہ وزیراعظم رہیں تو آصف زرداری کو انکے غیر سرکاری مشیر کی حیثیت سے بھی کام کرنے کا تجربہ ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی میں ان کو ایک ایسے شخص کے طور بھی دیکھا جاتا ہے جس نے بینظیر بھٹو کی سیاسی حیثیت سے فائدہ اٹھایا۔ اسی بنیاد پر بعد میں انہیں ملک میں بیرون ملک بدعنوانی کے مقدمات بھی قائم ہوئے۔

زرداری کے فیصلے
 پیپلز پارٹی کی جانب سے چالیس دن کے سوگ کے اعلان کے باوجود آصف زرداری کا انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ حکومت کو انتخابات مؤخر کرنے کا کوئی بہانہ نہیں دینا چاہتے۔نہ صرف یہ بلکہ آصف زرداری نے صدر پرویز مشرف پر براہ راست تنقید کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے
مبصرین

آصف زردادری کا کہنا ہے کہ وہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے تھے اور گزشتہ دس سال میں انہیں کسی مقدمے میں بھی سزا نہیں ہوئی۔اسکے علاوہ انہوں نے آٹھ سال جیل کاٹی لیکن فوجی حکومت سے لین دین نہیں کیا۔ ان باتوں کے پیش نظر انکے بارے میں پیپلز پارٹی کے کچھ حامیوں کے شکوک رفع ہو گئے ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے چالیس دن کے سوگ کے اعلان کے باوجود آصف زرداری کا انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ حکومت کو انتخابات موخر کرنے کا کوئی بہانہ نہیں دینا چاہتے۔

نہ صرف یہ بلکہ آصف زرداری نے صدر پرویز مشرف پر براہ راست تنقید کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو نے امریکہ میں اپنے دوست کو دو ماہ قبل ای میل میں واضح طور پر لکھا تھا اگر انہیں ہلاک کیا جاتا ہے تو اسکے ذمہ دار مشرف ہونگے۔

ادھورا کام

مبصرین کا کہنا یہ بھی ہے کہ بینظر بھٹو کے قتل کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں میں جوش پیدا ہو چکا ہے اور وہ اس وقت خاصے برھم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے لیے اس وقت ہمدردی کے ووٹ لینا بھی آسان ہے، ایسے ووٹر عام حالات میں شاید ووٹ کا استعمال ہی نہ کرتے یا دوسری جماعتوں کو ووٹ دیتے۔

دریں اثناء پیپلز پارٹی کے حامیوں کے مظاہروں کی وجہ سے ملک بھر میں ہڑتالوں اور شٹر ڈاؤن سے حکمران مسلم لیگ کی رہی سہی حمایت کو بھی چپ لگ گئی ہے۔

ان حالات میں پیپلز پارٹی کو اس کام کو بھی پوارا کرنے کا موقع مل جائے گا جو بینظیر بھٹو کے قتل کی وجہ سے ادھورا رہ گیا، یعنی حکومت کو منصفانہ انتخابات پر مجبور کرنا۔

اس کام کے لیے کئی سمتوں میں مذاکرات کی ضرورت ہوگی، جیسے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے انتخابی امیدواروں کی جانب سے سرکاری وسائل کے استعمال کو رکوانا اور خفیہ اداروں کو روکنا کہ وہ انتخابی نتائج میں گڑ بڑ نہ کر سکیں۔

جہاں تک انتخابات کے بعد کی بات ہے تو اس میں صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات میں موجود فرق اور آئین میں دیگر ’غیر مناسب‘ تبدیلیوں کو درست کرنے جیسے مسائل پر بھی مذاکرات ہوں گے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی پیپلز پارٹی اور آصف زرداری ان مراحل کے دوران کس مہارت کا مظاہرے کرتے ہیں۔

فائل فوٹواحتجاج اور ہنگامے
سندھ میں حکومت حامی افراد کی املاک پر حملے
بینظیر آخری لمحات’آخری لمحات‘
محترمہ کو باہر نکلنے سے روکنا ناممکن تھا: مخدوم
بینظیر بھٹو قتلبینظیر بھٹو قتل
غصے کی آگ میں سندھ زیادہ کیوں جل رہا ہے؟
اخبارات’بینظیر بھٹو شہید‘
بینظیر کو اخبارات کا بعد از موت خراج عقیدت
مشرف’الیکشن، نو الیکشن‘
بے نظیر بھٹو کا قتل اور صدر مشرف کی مشکلات
بینظیر بھٹوغم اور غصہ
بےنظیر کی ہلاکت، ملک گیر احتجاج
’انتظامات نہیں ہیں‘
مخلف تنطیموں کا آئندہ انتخابات پر عدم اطمینان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد