سندھ کیوں جل رہا ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہو سکتا ہے کہ یہ سب کچھ چند مشتعل سندھیوں کا عارضی جذباتی ردِعمل ہو۔ اگر ایسا ہے تو حکومت ہنگاموں کی بگڑتی صورت حال پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے کسی حد تک قابو پا لے گی، لیکن سندھی نفسیات پر بینظیر بھٹو کے قتل کے گہرے اور دوُر رس اثرات بھی نکل سکتے ہیں۔ راولپنڈی سے بھیجی گئی ایک اور بھٹو کی لاش کو دھرتی کے حوالے کرتے ہوئے وفاقِ پاکستان پر یقین رکھنے والا سندھی آج بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہے۔ سندھی یوں محسوس کر رہا ہے جیسے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی طرح بینظیر بھٹو کے قتل نے ایک بار پھر اُسے پاکستان سے دوُر کردیا ہے۔
سندھی نے جب جب صوبائی خودمختاری کی بات کی، پانی اور وسائل کی تقسیم میں اپنا حق مانگا، اپنی محرومیوں پر بات کی، تو اُسے شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ سندھی قوم پرستوں کو علحیدگی پسند غدار کہا گیا اور پھر فوجی سٹیبلشمنٹ نے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے انہیں بھی بےضرر بنا دیا۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو سندھیوں کو قومی دھارے میں لائے اور وفاقِ پاکستان کی سیاست میں سندھیوں کی جگہ بنا کر دکھائی۔ سندھی ووٹر کی اکثریت کو جب جب بھی موقع دیا گیا، اُس نے نہ قوم پرستوں کو ووٹ دیا نہ مذہبی انتہا پسندوں کو۔ وہ سندھ کے وڈیروں، پیروں اور جاگیرداروں کے مقابلے میں بھی وفاقِ پاکستان میں یقین رکھنے والی ایک قومی جماعت کو ووٹ دیتا گیا۔ پاکستان میں یقین رکھنے والے اسی سندھی کی وجہ سے سندھ پیپلز پارٹی کا گڑھ بنا جسے انتخابی سیاست میں بینظیر بھٹو کے ہاتھ میں ’سندھ کارڈ‘ کہا گیا۔ جواب میں پیپلز پارٹی نے سندھیوں کو پاکستان پر اپنے حق اور اِس میں حصے داری کا احساس دیا۔ جب جب پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی ایک عام سندھی کی اسلام آباد کے ایوانوں تک رسائی ممکن ہوئی اور پاکستان کے دارالحکومت میں روایتی ٹوپی اور اجرک پہنا سندھی بھی کہیں کہیں نظر آنے لگا۔ قومی سوچ رکھنے والا سندھی خود کو اس بات پر قائل کرنے کی بڑی کوشش کرتا رہا ہے کہ پاکستان پر اُس کا بھی حق ہے۔ سندھ آج یہ پوچھ رہا ہے کہ اُس نے پاکستان کو عالمی سطح کے دو ایسے وزرائے اعظم دیے جن کی جڑیں عوام میں تھیں لیکن راولپنڈی سے اُن کی لاشیں ہی کیوں واپس آئیں؟ |
اسی بارے میں سندھ: ہنگامے، فوج الرٹ28 December, 2007 | پاکستان قمبر، لاڑکانہ میں فوج تعینات 28 December, 2007 | پاکستان زرداری سے مشرف کی تعزیت29 December, 2007 | پاکستان محترمہ کو روکنا ناممکن تھا: مخدوم29 December, 2007 | پاکستان بینظیر قتل: عالمی تحقیقات کا مطالبہ29 December, 2007 | پاکستان پاکستان کے لیے اب کیا؟28 December, 2007 | پاکستان اب یہ علم کون اٹھائےگا؟28 December, 2007 | پاکستان بھٹو کے قتل پرامریکہ میں ہلچل 28 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||