BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 December, 2007, 04:08 GMT 09:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محترمہ کو روکنا ناممکن تھا: مخدوم
مخدوم امین فہیم
’انسانی ذہن ہے کبھی اس میں عقل آتی ہے کبھی نہیں آتی‘
آخری وقت بینظیر بھٹو کے ساتھ ان کی گاڑی میں موجود پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء مخدوم امین فہیم کا کہنا ہے کہ ’محترمہ جب (سن روف سے) نکل کھڑی ہوگئیں تو کسی کے بھی ذہن میں خیال نہیں آیا (کہ قاتلانہ حملہ ہو سکتا ہے)۔‘

بی بی سی اردو سروس کی نعیمہ احمد مہجور کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس جذبے سے محترمہ کارکنوں کے نعروں کا جواب دینے کے لیے اٹھیں اس وقت انہیں روکنا بھی ممکن نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پارٹی کی طرف سے بھی سکیورٹی کا انتظام تھا، لیکن جس طرح لوگ جلسے کے بعد نعرے لگاتے ہوئے نکلے تھے پیپلز پارٹی اور محترمہ کے حق میں تو وہ ان کا جواب دینا چاہتی تھیں۔ ’انہوں نے کہا چھت کھول دو تو میں نے اوپر کر دی۔‘

مخدوم امین فہیم نے بتایا کہ وہ اور ناہید خان بینظیر بھٹو کے ساتھ گاڑی کی پچھلی نشست پر تھے جبکہ ڈرائیور کے ساتھ والی نشست پر محترمہ کے

حملے کے بعد وہ جہاں کھڑی تھیں، وہیں نیچے بیٹھ گئیں اور پھر لیٹ گئیں
سکیورٹی انچارج میجر امتیاز بیٹھے ہوئے تھے۔ ’جس جذبے سے وہ اٹھی تھیں تو ہمارے دماغ میں یہ بات نہیں آئی، کسی کے بھی نہیں۔ یہی بدقسمتی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں لوگوں کے اکٹھ میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ کون پارٹی کارکن ہے اور کون نہیں۔

قاتلانہ حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دھماکہ ہوا، لیکن بتایا گیا ہے کہ پہلے فائرنگ بھی ہوئی۔ ’حملے کے بعد وہ جہاں کھڑی تھیں، وہیں نیچے بیٹھ گئیں اور پھر لیٹ گئیں۔ بس وہ ہوش میں نہیں تھیں۔‘

جس گاڑی میں وہ بیٹھی ہوئی تھیں دھماکے سے اس کے ٹائر پھٹ گئے اور کھرکیاں خراب ہوگئیں۔ وہ گاڑی تھوڑا آگے جا کر خراب ہو گئی۔ پھر ان کو ایک دوسری گاڑی میں منتقل کیا گیا۔ ’چونکہ وہ بے ہوش تھیں تو ان کو پچھلی سیٹ پر لٹانا تھا، اس لیے ہم لوگ اتر کے کھڑے ہو گئے۔‘

ان کو ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے معائنہ کیا تو انہوں نے کہا اب کوئی امید نہیں ہے۔

مخدوم امین فہیم نے بتایا کہ پشاور میں بھی ہوا کہ محترمہ کے آنے سے پہلے دو دھماکے ہوئے تھے اور اس کے بعد ان کے جلسے میں کوئی ایک آدمی آگیا تھا جو خودکش حملہ کی بیلٹ پہنے ہوئے تھا، جس کو پکڑا گیا تھا۔ ’ہمارے ورکروں نے اس کی نشاندہی کی تھی، لیکن بس انسانی ذہن ہے کبھی اس میں عقل آتی ہے کبھی نہیں آتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ غلطی سے یہ سارا کچھ ہو گیا۔‘

ہزاروں لوگوں میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ کون پارٹی کارکن ہے اور کون نہیں

ان کا کہنا تھا کہ یقیناً کوئی منصوبہ بھی ہوگا اور یقیناً کوئی دشمن ہوں گے۔ ’ایسا اچانک تو نہیں ہوتا ہے، جس کے لیے ہم چاہتے ہیں کہ ایماندارانہ، واضح اور شفاف تحقیقات ہوں۔‘

ان سے جب حکومت کی اس پیشکش کے بارے میں پوچھا گیا کہ واقعہ کی تحقیقات پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ کسی بھی جج سے کرائی جا سکتی ہیں تو مخدوم امین فہیم کا کہنا تھا کہ انہیں اس کا علم نہیں ہے۔ ’پارٹی کے چند سینئر دوست مل بیٹھیں گے اور جو بھی بات ہوگی اس کو سوچ کے بتائیں گے۔‘

انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے ذریعے سوچ سمجھ کر جذباتیت کے بغیر کیا جائے گا۔

بینظیر کے بعد کون؟
پیپلز پارٹی کی باگ ڈور اب کون سنبھالے گا
عالمی میڈیا
پاکستان میں جمہوریت کے بارے میں تشویش
اخبارات’بینظیر بھٹو شہید‘
بینظیر کو اخبارات کا بعد از موت خراج عقیدت
گڑھی خدا بخش کے سوگوار اور تدفینبےنظیر کی تدفین
گڑھی خدا بخش کے سوگوار کا حال
مشرف’الیکشن، نو الیکشن‘
بے نظیر بھٹو کا قتل اور صدر مشرف کی مشکلات
ہنگامے، احتجاج
سارا ملک ہنگاموں کی لپیٹ میں
بینظیر بھٹوبینظیر بھٹو کا قتل
پیچھےکون؟ القاعدہ، طالبان یا کوئی اور
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد