BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 December, 2007, 16:10 GMT 21:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کے لیے اب کیا؟
تمام اخبارات کے صفحہ اول پر بینظیر کی تصویر ہے
یورپ، امریکہ، مشرق وسطی اور دنیا کے دوسرے خطوں میں شاید ہی کوئی بڑا اخبار ہو جس نے بے نظیر بھٹو کے قتل کی خبر کو شہ سرخی میں شائع نہ کیا ہو۔

جتنی بڑی یہ خبر ہے اتنی ہی زیادہ اسے کوریج دی گئی ہے۔ بے نظیر کے قتل کی تفصیلی رپورٹ، تعزیتی نوٹ، ان کی موت سے پاکستان، خطے اور عالمی سیاست میں پیدا ہونے والا خلاء، پیپلزپارٹی کی قیادت اب کون سنبھالے گا، اداریے، تبصرے، تصاویر، سب ہی کچھ اخبارات نے شائع کیا ہے۔

سب ہی اخبارات نے پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

برطانوی اخبار گارڈین نے پہلے سات صفحات اسی خبر کے لیے مختص کئے۔ پہلے صفحہ پر خبر کو اس تصویر کے ساتھ شائع کیاگیا ہے جس میں بے نظیر بھٹو اپنی کار کی چھت سے نکل کر کارکنوں کے نعروں کا جواب دے رہی ہیں۔

اخبار نے ان کے مشتبہ قاتلوں کے بارے میں تبصرہ کرتے لکھا ہے کہ کئی گروہ بے نظیر کی جان کے درپے ہوسکتے ہیں مگر اصل قاتلوں کا پتہ شاید ہی چل سکے۔ اسی طرح کے شک و شبہ کا اظہار دوسرے اخباروں نے بھی کیا ہے۔

دی انڈیپنڈنٹ نے اپنے پہلے صفحے پر صرف ایک تصویر شائع کی ہے جس میں پیپلزپارٹی کے غمزدہ کارکن اپنی قائد کے تابوت کو اٹھائے ہوئے آہ و زاری کر رہے ہیں۔ سرخی ہے، پاکستان کے لیے اب کیا؟

اخبار لکھتا ہے کہ ایک موہوم سے امید تھی مگر اب وہ بھی ختم ہوگئی ہے۔ انڈیپنڈنٹ میں شائع ایک مضمون کی سرخی ہے۔۔۔ پریشان واشنگٹن ایک بار پھر ناقابل اعتبار مشرف کی گود میں آگیا۔

ڈیلی ٹیلی گراف نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں خانہ جنگی کا حقیقی خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ اسی طرح دی ٹائمز لکھتا ہےکہ بے نظیر کے قتل نے پاکستان کو بحران اور افراتفری کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔

انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹریبیون نے تبصرہ کرتے لکھا ہے کہ بے نظیر کی ہلاکت سے صدر مشرف کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ بے نظیر کے قتل سے بش انتظامیہ کی وہ کوششیں خاک میں مل گئی ہیں جو وہ پاکستان کے منقسم سیاسی دھڑوں کو یکجا کرنے کے لیے کر رہی تھی۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس سانحے سے صدر بش کی دو کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ ایک مسلم دنیا میں جمہوریت کا فروغ اور مسلم شدت پسندوں کی بیخ کنی۔

واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ پاکستان کے جمہوریت کی راہ پر آنے کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں جو امریکہ کے لیے پہلے سے زیادہ فکر کی بات ہے۔

یواے ای کے اخبار خلیج ٹائمز نے اپنے ادارے میں لکھا ہےکہ بے نظیر کے قتل کے بعد نہ صرف پاکستان میں افراتفری بڑھ گئی ہے بلکہ اس سے نفرت کی ایک نئی لہر کے جنم لینے کا بھی خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ اور قومی اور بین الاقوامی سیاست، سلامتی اور جمہوریت کا توازن بالکل بگڑ گیا ہے۔

کئی اخبارات نے بے نظیر بھٹو کی شخصیت کے بارے میں ان لوگوں کے مضامین بھی شائع کیے ہیں جو کسی نہ کسی حیثیت میں بے نظیر سے ملے تھے۔ بہت سے اخبارات نے اپنے انٹر نیٹ شماروں میں بے نظیر کے قتل اور زندگی کے بارے میں آڈیو بھی نشر کی ہیں۔

بینظیر بھٹوبینظیر بھٹو کا قتل
پیچھےکون؟ القاعدہ، طالبان یا کوئی اور
بینظیربینظیر کا قتل
امریکیوں کو بھی اس پرگہری تشویش ہے
بینظیر کے بعد کون؟
پیپلز پارٹی کی باگ ڈور اب کون سنبھالے گا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد