بینظیر قتل، الیکشن اور مشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
محترمہ بینظیر کے قتل کی اطلاع ملنے کے بعد سے میں اس ادھیڑ بن میں لگا ہوا ہوں کہ قاتل کا مقصد کیا ہوسکتا ہے، لیکن تمامتر کوشش کے باوجود اب تک کوئی بات سمجھ میں نہیں آئی، نہ مقصد سمجھ میں آیا نہ یہ سمجھ میں آیا کہ قاتل کا تعلق کس گروہ یا ادارے سے ہے۔ صرف ایک بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس نےاپنی اس واردات سے صدر مشرف سمیت پاکستانی سیاست سے وابستہ ہر سیاسی جماعت اور سیاسی شخصیت کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ مثلاً صدر مشرف پہلے یہ دعائیں مانگ رہے ہونگے کہ انتخابات کے نتیجے میں کسی بھی پارٹی یا سیاسی گروہ کو فیصلہ کن اکثریت حاصل نہیں ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنے مطلب کی حکومت بنوا سکیں، اب وہ یہ سوچ رہے ہونگے کہ اس اندوہناک واقعہ سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نکلا کیسے جائے۔ اسطرح کی خبروں کے باوجود کہ القاعدہ نے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور قاتل کا تعلق قبائلی علاقے سے ہے لوگوں کے شکوک و شبہات دور کرنا بہت مشکل ہوگا۔ اگر وہ (صدر مشرف) پروگرام کے مطابق انتخابات 8 جنوری کو کراتے ہیں توان پر الزام عائد ہوگا وہ بینظیر کے سیاسی عزائم سے پہلے ہی خوفزدہ تھے اور اب ان کے قتل کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کو درپیش مشکلات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ اگر وہ انتخابات ملتوی کرتے ہیں تو ان پر الزام عائد کیا جائے گا کہ وہ پہلے بھی انتخابات کرانے میں سنجیدہ نہیں تھے اور اب ان کو یہ موقع مل گیا۔ ادھرمسلم لیگ (ق) والوں کا خیال تھا کہ وہ پنجاب میں کسی طرح اکثریت حاصل کر لیں تو مولانا فضل الرحمٰن کی جمیعت العلماءاسلام اور ایم کیو ایم کی مدد سے مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
چونکہ محترمہ بینظیر کی مقولیت اپنی امریکہ نوازی کی وجہ سے پنجاب میں خاصی متاثر ہوئی تھی اور مسلم لیگ (ن) کو حقیقی معنوں میں اپنے آپ کو منظم کرنے کا موقع نہیں ملا تھا، اس لیے سیاسی حلقوں کا خیال تھا کہ مسلم لیگ (ق) پنجاب میں اچھی خاصی نشستیں لینے میں کامیاب ہوجائے گی۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ق) نے اپنے دور حکومت میں خاصا ترقیاتی کام کیا ہے اور اس ارادے سے کیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں انہیں حصہ لینا ہے پھر مقامی ناظموں کی اکثریت بھی ان کے ساتھ ہے، اس لیے یہ عین ممکن تھا کہ وہ اپنے اس منصوبے میں کامیاب ہوجاتے۔ لیکن اب اگر انتخابات ہوئے تو عین ممکن ہے کہ پیپلز پارٹی کو ہمدردی کے ووٹ اتنے مل جائیں کہ ان کا یہ منصوبہ ناکام ہوجائے۔ ادھر مسلم لیگ (ن) کے رہنماء جناب نواز شریف نے انتخابات کے سلسلے میں جتنی قلا بازیاں کھائی ہیں اس سے ان کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے، پہلے وہ انتخابات کے اتنے مخالف تھے کہ انہوں نے اپنے حامیوں کو ہدائت کی تھی کہ اگر کوئی ووٹ مانگنے آئے تو اس کو ڈنڈے مار کر بھگا دو، پھر پیپلز پارٹی کو انتخابات میں حصہ لینے سے بعض رکھنے میں ناکام ہوئے تو خود بھی تیار ہوگئے۔ بعد میں محترمہ بینظیر کے قتل کی تصدیق ہوتے ہی میاں صاحب پھر پلٹ گئے اور اعلان کر دیا کہ ان کی پارٹی انتحابات میں حصہ نہیں لے گی جبکہ پیپلز پارٹی اب تک گومگو کے عالم میں ہے۔ جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے اس کا فوری مسئلہ انتخابات سے زیادہ قیادت کا ہے۔ ذاتی طور پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ فوری طور پر تو مخدوم امین فہیم کو قائم مقام کے طور پر شائد تسلیم کرلیا جائے لیکن آصف علی زرداری بھی نچلے بیٹھنے والے نہیں ہیں اور جب بات مستقل قیادت کی آئے گی تو پارٹی کو دو گروہوں میں تقسیم ہونے سے بچانا بہت مشکل ہوجائے گا۔ اس لیے پارٹی کو انتخابات سے متعلق فیصلہ کرنے سے پہلے قیادت کا مسئلہ طے کرنا پڑے گا۔ عین ممکن ہے کہ تیسرے امیدوار کے طور پر اعتزاز احسن بھی میدان میں آجائیں اس لیے کہ حالیہ دنوں میں پارٹی کے نوجوان حامیوں میں ان کی مقبولیت بہت بڑھی ہے۔
اس صورتحال میں یہ بات تو طے ہے کہ 8 جنوری کو انتخابات کرانا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ صدر مشرف ملک میں تو پہلے ہی غیرمقبولیت سے دوچار تھے اس واقعہ سے بیرون ملک بھی ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور اب انہیں ان تمام اختیارات کو استعمال کرنے میں دقت پیش آئے گی جو انہوں نے ایمرجنسی اٹھانے سے پہلے مختلف آرڈیننسوں کے ذریعے حاصل کرلیے تھے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ انتخابات کی نئی تاریخ طے کرنے سے پہلے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت عدلیہ کے تمام معزول ججوں کو بحال کیا جائے تاکہ لوگوں کو یہ اعتماد پیدا ہو کہ انتخابات میں اگر دھاندلی وغیرہ ہوئی تو وہ داد رسی کے لیے کسی کے پاس جاسکتے ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جو بھی فیصلہ کیا جائے وہ انتخابات کی مخالف اور موافق تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیکر کیا جائے اور اس کوصدر سمیت کوئی بھی انا کا مسئلہ نہ بنائے ورنہ اس کے بڑے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں جس کی سب کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑیگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||