تجزیہ: وسعت اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
| | پارٹی قیادت کو بھٹو کی سیاسی میراث کے نام پر دھڑے بندی کے وائرس سے محفوظ رکھنا ہے |
جس روز ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر پر پیپلز پارٹی کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا اس دن سے آج تک پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان لازم و ملزوم ہیں۔اور یہ لازمی پن ضیا الحق کا مارشل لا بھی کمزور کرنے میں ناکام رھا۔ چاہے وہ مرحوم کوثر نیازی تھے یا غلام مصطفی جتوئی یا مصطفی کھر یا فاروق لغاری یا پھر مرتضی بھٹو۔جس جس نے بھی پارٹی کی مرکزی قیادت کے دھارے سے کٹ کر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد تیار کرنے کی کوشش کی وہ پھر سیاسی طور پر کہیں کا نہ رھا۔ پیپلز پارٹی تاحیات چیرمین یا چیرپرسن کی عادی ہونے کے باوجود جمہوریت اور عوامی جدوجہد کا سمبل ہے۔کچھ لوگ اگر اسے جمہوری رویے کا تضاد سمجھتے ہیں تو بہت سے لوگ اسے آمرانہ جمہوریت کی ایک خوبصورت مقبول شکل بھی کہتے ہیں۔ لیکن آج پہلی مرتبہ ملک کی یہ سب سے بڑی قومی جماعت اسی دوراہے پر ہے جہاں سولہ برس قبل خاندانی سیاست کی عادی انڈین نیشنل کانگریس راجیو گاندھی کے قتل کے بعد کھڑی تھی۔اور کسی کی سمجھ میں نہیں آ رھا تھا کہ نہرو خاندان کے بغیر کانگریس کیسے آگے بڑھے گی۔لیکن نہرو خاندان کی قیادت کے خلا کو کانگریس کی تجربہ کار قیادت نے اس خاندان کی نظریاتی وراثت کے سیمنٹ سے نہ صرف پر کرنے کی کوشش کی بلکہ آٹھ برس کے وقفے سے سونیا گاندھی کو یہ وراثت سنبھالنے کے لیے آمادہ کرلیا۔تو کیا پیپلز پارٹی بھی وقتی طور پر بھٹو خاندان کے بغیر سیاسی سفر طے کرسکے گی تاوقتیکہ بلاول، بختاور یا اس خاندان کا کوئی اور فرد نہ صرف سیاسی وراثت سنبھالنے کے قابل اور آمادہ ہوسکے۔بلکہ وہ ذوالفقار علی بھٹو یا بے نظیر جیسی سیاسی کرشمہ سازی بھی دکھا سکے۔ اور فوری طور پر اس سے بھی اہم چیلنج یہ ہے کہ انتخابات چاہے آٹھ جنوری کو ہوں یاجب بھی ہوں۔کیا پیپلز پارٹی کی نئی قیادت بھٹو خاندان کے لئے اٹھنے والی ہمدردی کی لہر کو چابکدستی کے ساتھ انتخابی فتح کے لئے منظم کر سکے گی اور مشرف حکومت کی شطرنجی بساط الٹ سکے گی۔ ان سوالات کا جواب اس لئے ضروری ہے کیونکہ آج پیپلز پارٹی پر اس سے بھی زیادہ کڑا وقت ہے جو چار اپریل انیس سو اناسی کو بھٹو کی پھانسی کے وقت تھا۔کیونکہ اس وقت ایک بھٹو کی جگہ دوسرے بھٹو نے لے لی تھی اور آج کی طرح قیادت کا تسلسل ٹوٹنے نہیں پایا تھا۔ آج کی صورتحال میں فوری طور پر پیپلز پارٹی کے کارکن اور ووٹر کو یہ حقیقت قبول کرنے میں خاصی نفسیاتی مشکل کا سامنا ہوگا کہ پیپلز پارٹی بھٹو خاندان کے بغیر بھی ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر اپنا سفر جاری رکھ سکتی ہے۔اور یہ کہ اس المیے نے پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کو یہ موقع بھی فراہم کیا ہے کہ پارٹی کے اندرونی ڈھانچے کو ازسرِ نو مضبوط نظریاتی بنیاد پر استوار کرکے بھٹو خاندان کے جسمانی نقصان کا ازالہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ چاہے پیپلز پارٹی بھٹو خاندان کے کسی وارث کی راہ دیکھے یا ازخود آگے بڑھنے کی عادت ڈالے ۔ان میں سے جو بھی راستہ اپنایاجائے گا وہ نادیدہ خطرات سے بھرپور ہوگا۔ پارٹی کی نئی قیادت کو اسوقت نہ صرف خود کو اندرونی ٹوٹ پھوٹ اور بھٹو کی سیاسی میراث کے نام پر دھڑے بندی کے وائرس سے محفوظ رکھنا ہے بلکہ لبرل اور قومی سیاست کی سوچ پر ڈاکہ ڈالنے والے ان گدھوں سے بھی ہوشیار رہنا ہے جو سوگ کا عرصہ ختم ہوتے ہی پیپلز پارٹی کے جسم پر منڈلانا شروع کردیں گے۔ |