قمبر، لاڑکانہ میں فوج تعینات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی اور اندرونِ سندھ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد پھوٹنے والے ہنگاموں پر قابو پانے کے لئے سندھ حکومت کراچی سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں کرفیو لگانے کے بارے میں غور کررہی ہے جبکہ قمبر اور لاڑکانہ میں فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ سندھ کے نگراں وزیرِداخلہ بریگیڈیر ریٹائرڈ اختر ضامن نے جمعہ کو بی بی سی کو بتایا کہ گورنر ہاؤس میں ایک اعلٰی سطحی اجلاس ہورہا ہے جس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائےگا کہ سندھ اور کراچی کے کن علاقوں میں کرفیو لگایا جائے اور کن علاقوں میں فوج بھی تعینات کی جائے۔ کرفیو بے نظیر بھٹو کی تدفین کے بعد لگانے کا امکان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ کے علاقوں قنبر اور لاڑکانہ میں حالات کو قابو رکھنے کے لئے پہلے ہی فوج تعینات کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں کرفیو لگایا جائے گا ان علاقوں میں فوج بھی تعینات کی جائے گی۔ اخترضامن نے کہا کہ شرپسند عناصر لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ہم حالات کو فوج کے بغیر قابو کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اگر ضرورت محسوس کی گئی تو فوج کو ضرور تعینات کیا جائے گا۔ کراچی میں بدھ کی رات سے جمعرات کی سہ پہر تک ڈیڑھ سو سے زائدگاڑیاں نذرِ آتش کردی گئی ہیں جبکہ شرپسند عناصر نے سرکاری اور نجی املاک کو بھی نقصان پہنچایا ہے جن میں بینک، پٹرول پمپس، دکانیں، اور دفاتر بھی شامل ہیں۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں ان ہنگاموں کے دوران دس افراد بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہے جبکہ نجی گاڑیاں انتہائی کم تعداد میں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ شہر میں کاروبارِ زندگی مکمل طور پر معطل ہے اور تقریباً تمام پٹرول پمپس بھی بند ہیں جس کے باعث چھیپا ایمبولنس سروس نے پٹرول کی عدم دستیابی پر ایمبولنس سروس عارضی طور پر بند کردی ہے۔ | اسی بارے میں پنجاب میں نماز جنازہ اور احتجاج28 December, 2007 | پاکستان پنجاب، سرحد اور کشمیر میں احتجاج28 December, 2007 | پاکستان سندھ: ہنگامے، فوج الرٹ28 December, 2007 | پاکستان بھٹو کے قتل پرامریکہ میں ہلچل 28 December, 2007 | پاکستان اب یہ علم کون اٹھائےگا؟28 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||