BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 December, 2007, 08:17 GMT 13:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
احتجاج اور ہنگاموں کا سلسلہ جاری

بدین میں سابق صوبائی وزیر علی بخش عرف پپو شاہ اور مسلم لیگ کے رہنما شیر جمالی کے بنگلوں پر حملے کیے گئے
بینظیر بھٹو کے قتل کے خلاف سندھ بھر میں ہونے والے احتجاج، ہنگامہ آرائی اور تشدد کے واقعات کے دوران سرکاری املاک میں مواصلاتی نظام، ٹرانسپورٹ، بینکوں اور روینیو کے دفاتر کو نشانہ بنانے کے علاوہ پہلی بار حکومت کے حامی افراد یا سابقہ حکومت کے وزرائے کے گھروں اور املاک پر حملے کیے گئے یا انہیں جلایا گیا ہے۔ یوں لوگوں نے حکمرانوں کا ساتھ دینے والوں کے خلاف اپنی شدید نفرت کا اظہار کیا ہے۔

حیدر آباد میں سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کے بنگلے پر حملہ کرکے جلایا گیا۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ ارباب رحیم عمرہ ادا کرنے گئے ہیں۔ دادو میں سابق وفاقی وزیر لیاقت جتوئی کے بنگلے اور ان کے ایک سینما گھر کو نذر آتش کیا گیا۔

بدین میں سابق صوبائی وزیر علی بخش عرف پپو شاہ اور مسلم لیگ کے رہنما شیر جمالی کے بنگلوں پر حملے کیے گئے۔ ضلع ناظم انور ہالے پوتہ کے بنگلے اور وہاں کھڑی لینڈ کروزر کو نذر آتش کردیا گیا۔ میرپورخاص میں مسلم لیگ کے دو رہنماؤں قربان علی شاہ اور خیر محمد بھرگڑی کے بنگلوں پر حملے کیے گئے۔

خیرپور میں مسلم لیگ فنکشنل کے دو رہنماؤں کی اوطاقوں پر حملے کیے گئے۔ اس کے علاوہ پیر پگارا کے کنگری ہاؤس اور مسلم لیگ ہاؤس پر حملہ کیا گیا۔
نوشہروفیروز کے شہر کنڈیارو میں جتوئی ہاؤس پر مشتعل افراد نے دھاوا بول دیا۔ ٹھٹہ میں تعلقہ ناظم کے بھائی کی بیکری کو آگ لگا دی گئی۔

ٹنڈوالہیار میں سابق صوبائی وزیر عرفان گل مگسی اور ان کی ضلع ناظمہ کے بنگلے پر حملہ کیا گیا اور وہاں کھڑی ایک درجن سے زائد گاڑیوں کو جلا دیا گیا۔ خیال کیا جارہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف سخت موقف رکھنے والے سیاسی جماعتوں کے افراد کو آنے والے دنوں میں سخت صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سندھ میں بارہ مسافر ریل گاڑیوں، آٹھ ریلوے سٹیشنوں اور پانچ مال گاڑیوں کو جلایا گیا جبکہ ایک درجن کے قریب ٹیلی فون ایکسچینج نذر آتش کیے گئے۔

ان ہنگاموں کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس سے قبل احتجاج کے دوران لوٹ مار کے واقعات اکا دکا ہوتے تھے لیکن اس مرتبہ یہ واقعات بڑے پیمانے پر ہوئے ہیں۔ ٹھٹہ، جیکب آباد، میرپورخاص، نوشہرو فیروز اور دیگر شہروں بڑے پیمانے پر لوٹ مار کے واقعات ہوئے جہاں لوگوں نے پان بیڑی کی کیبن سے لے کر بڑی دکانوں، گوداموں اور بنکوں کو لوٹا ہے۔

حیدرآباد کے قریب واقع جامشورو میں ایک ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنی اور شہر میں واقع ایک ملٹی نیشنل ریسٹورنٹ کو آگ لگا دی۔

پی پی پی کے کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہوگئے جو پاکستان پیپلز پارٹی کی مخالف جماعتوں میں شامل ہیں اور وہ ہی لوٹ مار کر رہے ہیں۔

بینظیر بھٹو قتلبینظیر بھٹو قتل
غصے کی آگ میں سندھ زیادہ کیوں جل رہا ہے؟
بینظیر آخری لمحات’آخری لمحات‘
محترمہ کو باہر نکلنے سے روکنا ناممکن تھا: مخدوم
حالت زار
بینظیر نے ایک خستہ حال ہسپتال میں دم توڑا
عوام کی ملکہ
اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو!
بےنظیر بھٹو خود کش حملے میں ہلاکبےنظیر بھٹو
خود کش حملے میں ہلاک
بےنظیر بھٹو: ٹائم لائنبینظیر: ٹائم لائن
جلاوطنی، حکومت، جلاوطنی، قتل
اسی بارے میں
سندھ: ہنگامے، فوج الرٹ
28 December, 2007 | پاکستان
اب یہ علم کون اٹھائےگا؟
28 December, 2007 | پاکستان
پاکستان کے لیے اب کیا؟
28 December, 2007 | پاکستان
زرداری سے مشرف کی تعزیت
29 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد