BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بیت اللہ محسود ذمہ دار ہیں‘

بیت اللہ محسود نے حکومت کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا
حکومت پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ بینظیر بھٹو کی خودکش حملے میں ہلاکت کے ذمہ دار قبائلی علاقوں میں طالبان کے کمانڈر یبت اللہ محسود ہیں۔

تاہم محض چوبیس گھنٹوں میں تیسری مرتبہ اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے حکومت کا کہنا تھا کہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت گولی یا خودکش حملے سے نہیں ہوئی بلکہ ان کا سر بہت شدت کے ساتھ گاڑی کی چھت کے ایک کنڈے سے ٹکرایا تھا۔

لیکن پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نےحکومت کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ حملے کے لیے بیت اللہ محسود ذمہ دار تھے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کراچی کے واقعات کی ذمہ داری بھی بیت اللہ محسود اور ان کے ساتھیوں پر ڈالی تھی لیکن خود بیت اللہ نےاس سے انکار کیا تھا۔

اسلام آباد میں رات گئے ایک اخباری کانفرنس میں متحرمہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت سے متعلق ابتدائی تفصیل بیان کرتے ہوئے وزارت داخلہ کے ترجمان برگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے الزام لگایا کہ کراچی کے بم دھماکوں سمیت اب تک کے اکثر دہشت گردی کے واقعات میں بھی بیت اللہ محسود ملوث ہیں۔

انہوں نے ثبوت کے طور پر بیت اللہ محسود اور ان کے ایک مولوی نامی ساتھی کے درمیان مبینہ بات چیت کا متن بھی پڑھ کر سنایا۔ جمعہ کی صبح سوا نو بجے ہونے والی اس گفتگو میں نا تو بےنظیر کا نام لیا گیا ہے اور نہ ہی کسی تاریخ/دن کا جس سے اندازہ ہوکہ یہ اسی واقعے کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔

 بینظیر کی موت گاڑی کی چھت کی کھڑکی یا سن روف کی کنڈی سے دھماکے کے بعد سر کے زور سے ٹکرانے سے ہوئی

بات چیت کے متن کی کاپی صحافیوں کو بھی فراہم کی گئی۔
’مولوی صاحب: السلام علیکم
امیر صاحب (بیت اللہ محسود): وعلیکم السلام
مولوی صاحب: امیر صاحب کیا حال ہے؟
امیر صاحب (بیت اللہ محسود): ٹھیک ہے
مولوی صاحب: مبارک ہو؟ میں تو ابھی رات کو پہنچا ہوں
امیر صاحب (بیت اللہ محسود): تمہیں بھی مبارک ہو ہمارے بندے تھے
مولوی صاحب: وہاں ہمارے والے تھے؟
امیر صاحب (بیت اللہ محسود): کون کون تھے؟
مولوی صاحب: سعید تھا دوسرا بدر والا بلال تھا اور اکرام اللہ بھی تھا
امیر صاحب (بیت اللہ محسود): تینوں نے کیا ہے؟
مولوی صاحب: اکرام اللہ اور بلال نے کیا ہے
امیر صاحب (بیت اللہ محسود): پھر تو خیر مبارک
مولوی صاحب: کہاں ہو؟ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں
امیر صاحب (بیت اللہ محسود): مکین میں ہوں۔ آجاؤ۔ میں انور شاہ کے گھر میں ہوں۔
مولوی صاحب: ٹھیک ہے میں آتا ہوں۔
امیر صاحب (بیت اللہ محسود): فی الحال ان کے گھر میں اطلاع نہیں دینا۔
مولوی صاحب: ٹھیک ہے۔
امیر صاحب (بیت اللہ محسود): زبردست کاروائی کی ہے بڑے دلیر لڑکے تھے جنھوں نے اس ماری ہے۔
مولوی صاحب: ماشا اللہ۔ جب میں آجاؤں تو تمہیں تفصیل سے آگاہ کردوں گا۔
امیر صاحب (بیت اللہ محسود): میں آپ کا انتظار کروں گا۔ مبارک ہو ایک دفعہ پھر مبارک۔
مولوی صاحب: خیر مبارک
امیر صاحب (بیت اللہ محسود): کوئی خدمت
مولوی صاحب: بڑی مہربانی
امیر صاحب (بیت اللہ محسود): السلام علیکم
مولوی صاحب: وعلیکم السلام‘

بیت اللہ کی پشتو میں گفتگو کی یہ ریکارڈنگ تاہم حزب وعدہ صحافیوں کو بعد میں نہیں سنائی گئی۔

بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کے بارے میں جاوید اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ یہ گاڑی کی چھت کی کھڑکی یا سن روف کی کنڈی سے دھماکے کے بعد سر کے زور سے ٹکرانے سے ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس زخم کے علاوہ ان کے جسم پر اور کوئی زخم نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں نہ تو گولی لگی اور نہ ہی خودکش حملہ آور کے بم کا کوئی ٹکڑا۔

یہ حکومت کے موقف میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں تیسری تبدیلی ہے۔ پہلے وزارت داخلہ نے ہلاکت کی وجہ گولی اور بعد میں بم کا ٹکڑا قرار دیا تھا۔

صحافیوں کو محترمہ بےنظیر بھٹو کے سر کے ایکسرے، مبینہ خودکش حملہ آور کے چہرے کی تصویر اور میڈیکل رپورٹ کی کاپی بھی فراہم کی گئیں۔

ایک ویڈیو کے ذریعے صحافیوں کو بتایا گیا کہ بےنظیر بھٹو جلسہ گاہ سے نکلتے وقت گاڑی کی چھت سے کارکنوں کے نعروں کا جواب دینے کے لیے نکلیں تو پہلے تین گولیاں چلیں جس کے چند سیکنڈ بعد زوردار دھماکہ ہوا۔

جاوید اقبال چیمہ کے بقول دھماکہ گاڑی کی بائیں جانب ہوا جبکہ بےنظیر کو سر میں چوٹ دائیں جانب لگی۔ انہوں نے صحافیوں کو چھت کی کھڑکی کی کنڈی کی خون آلود تصاویر بھی فراہم کی۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے زور اور بےنظیر بھٹو کے گرنے سے ان کا سر فریکچر ہوگیا۔
جاوید اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ بےنظیر بھٹو کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی مناسب اور کسی بھی سابق وزیر اعظم کے لیے غیرمعمولی تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کاش وہ چھت سے باہر نہ آئی ہوتیں تو وہ بچ جاتیں کیونکہ ان کی گاڑی ناصرف بلٹ بلکہ بلاسٹ پروف بھی تھی۔

ترجمان نے امید کا اظہار کیا کہ آج کے بعد اس حادثے کے بارے میں تمام شکوک و شہبات ختم ہو جائیں گے۔

بیت اللہ محسود’میں ملوث نہیں‘
بیت اللہ کا خود کش حملوں سے اعلان لاتعلقی
عبداللہ محسودمیڈیا فرینڈلی کمانڈر
عبداللہ محسود کو میڈیا سے بات کرنے کا شوق تھا
 اسلحہ حکومتی خریداری
محسود قبائل کا حکومت کو اسلحہ بیچنے کا فیصلہ
اسی بارے میں
پاکستان کے لیے اب کیا؟
28 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد