’بیت اللہ محسود ذمہ دار ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ بینظیر بھٹو کی خودکش حملے میں ہلاکت کے ذمہ دار قبائلی علاقوں میں طالبان کے کمانڈر یبت اللہ محسود ہیں۔ تاہم محض چوبیس گھنٹوں میں تیسری مرتبہ اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے حکومت کا کہنا تھا کہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت گولی یا خودکش حملے سے نہیں ہوئی بلکہ ان کا سر بہت شدت کے ساتھ گاڑی کی چھت کے ایک کنڈے سے ٹکرایا تھا۔ لیکن پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نےحکومت کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ حملے کے لیے بیت اللہ محسود ذمہ دار تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کراچی کے واقعات کی ذمہ داری بھی بیت اللہ محسود اور ان کے ساتھیوں پر ڈالی تھی لیکن خود بیت اللہ نےاس سے انکار کیا تھا۔ اسلام آباد میں رات گئے ایک اخباری کانفرنس میں متحرمہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت سے متعلق ابتدائی تفصیل بیان کرتے ہوئے وزارت داخلہ کے ترجمان برگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے الزام لگایا کہ کراچی کے بم دھماکوں سمیت اب تک کے اکثر دہشت گردی کے واقعات میں بھی بیت اللہ محسود ملوث ہیں۔ انہوں نے ثبوت کے طور پر بیت اللہ محسود اور ان کے ایک مولوی نامی ساتھی کے درمیان مبینہ بات چیت کا متن بھی پڑھ کر سنایا۔ جمعہ کی صبح سوا نو بجے ہونے والی اس گفتگو میں نا تو بےنظیر کا نام لیا گیا ہے اور نہ ہی کسی تاریخ/دن کا جس سے اندازہ ہوکہ یہ اسی واقعے کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ بات چیت کے متن کی کاپی صحافیوں کو بھی فراہم کی گئی۔ بیت اللہ کی پشتو میں گفتگو کی یہ ریکارڈنگ تاہم حزب وعدہ صحافیوں کو بعد میں نہیں سنائی گئی۔ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کے بارے میں جاوید اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ یہ گاڑی کی چھت کی کھڑکی یا سن روف کی کنڈی سے دھماکے کے بعد سر کے زور سے ٹکرانے سے ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس زخم کے علاوہ ان کے جسم پر اور کوئی زخم نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں نہ تو گولی لگی اور نہ ہی خودکش حملہ آور کے بم کا کوئی ٹکڑا۔ یہ حکومت کے موقف میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں تیسری تبدیلی ہے۔ پہلے وزارت داخلہ نے ہلاکت کی وجہ گولی اور بعد میں بم کا ٹکڑا قرار دیا تھا۔ صحافیوں کو محترمہ بےنظیر بھٹو کے سر کے ایکسرے، مبینہ خودکش حملہ آور کے چہرے کی تصویر اور میڈیکل رپورٹ کی کاپی بھی فراہم کی گئیں۔ ایک ویڈیو کے ذریعے صحافیوں کو بتایا گیا کہ بےنظیر بھٹو جلسہ گاہ سے نکلتے وقت گاڑی کی چھت سے کارکنوں کے نعروں کا جواب دینے کے لیے نکلیں تو پہلے تین گولیاں چلیں جس کے چند سیکنڈ بعد زوردار دھماکہ ہوا۔ جاوید اقبال چیمہ کے بقول دھماکہ گاڑی کی بائیں جانب ہوا جبکہ بےنظیر کو سر میں چوٹ دائیں جانب لگی۔ انہوں نے صحافیوں کو چھت کی کھڑکی کی کنڈی کی خون آلود تصاویر بھی فراہم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے زور اور بےنظیر بھٹو کے گرنے سے ان کا سر فریکچر ہوگیا۔ ترجمان نے امید کا اظہار کیا کہ آج کے بعد اس حادثے کے بارے میں تمام شکوک و شہبات ختم ہو جائیں گے۔ |
اسی بارے میں ’امن معاہدے میں شامل نہیں ہیں‘09 February, 2005 | پاکستان ’ہم انتقامی کارروائی کریں گے‘17 January, 2007 | پاکستان خودکش حملوں میں ملوث نہیں: محسود08 February, 2007 | پاکستان حکومت رہائی میں سنجیدہ نہیں: طالبان ترجمان11 October, 2007 | پاکستان بھٹو کے قتل پرامریکہ میں ہلچل 28 December, 2007 | پاکستان پاکستان کے لیے اب کیا؟28 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||