BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 December, 2007, 12:57 GMT 17:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یہ خون خرابہ کب بند ہوگا؟

بینظیر نے ایک سرکاری ہسپتال میں دم توڑا
یہ شاید راولپنڈی سے زیادہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ اس شہر میں تین وزراء اعظم کے نصیب میں غیرفطری موت آئی۔ لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور اب بےنظیر۔

ان میں سے دو نے جانیں شہر کےمشہور لیاقت باغ میں دیں جبکہ تیسرے نےقریب ہی واقع پرانی اڈیالہ جیل میں۔

بھٹو کی بیٹی، ہارورڈ اور آکسفورڈ کی تعلیم یافتہ، دو مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم بنے والی بےنظیر بھٹو نے دم توڑا تو اور کہیں نہیں ملک کے انتہائی غریب طبقے کے سرکاری ہسپتال میں۔

ہسپتالوں کی حالت زار
 بھٹو خاندان کی آخری چشم و چراغ، ہارورڈ اور آکسفورڈ کی تعلیم یافتہ، دو مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم بنے والی بےنظیر بھٹو نے دم توڑا تو اور کہیں نہیں ملک کے انتہائی غریب طبقے کے سرکاری ہسپتال می

جنرل ہسپتال لیاقت باغ سے چند کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ یہ پنڈی کے غریب اور متوسط طبقے کا ہسپتال قرار دیا جاتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت پر زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ ایک ایسا ہسپتال جو غرباء کو تو شاید ریلیف فراہم کرتا ہے لیکن محترمہ بےنظیر بھٹو جیسی شخصیت کو بچانے میں ناکام رہا۔

ان کی حالت ایسی تھی کہ شاید ملک کا بہترین ہسپتال بھی انہیں نہ بچا پاتا۔ لیکن اس سانحے کے بعد ایک خواہش تو کی جاسکتی ہے۔ شاید۔۔۔

حملے کے بعد تو جیسے مشتعل مظاہرین نے سڑکوں پر قبضہ کر لیا۔ مصروف ترین مری روڈ دیکھتے ہی دیکھتے میدان کارساز بن گیا۔ پولیس کا کہیں بھی نام و نشان نہیں تھا۔

مظاہرین صرف پیپلز پارٹی سے نہیں بلکہ ہر طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں لاٹھیاں، دل میں غم و غصہ اور زباں پر گالیاں۔ پہلے کبھی سرکار کے خلاف نفرت کی زبان اتنی تلخ اور گندی نہیں تھی جتنی جمعرات کی رات۔ اور تو اور ہسپتال میں بعض مشتعل افراد اپنے جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے خواتین کی موجودگی میں گالیاں دینا شروع کردیتے۔

غصے بھرے جذبات اپنی جگہ لیکن ہر ایک شخص کو اس تشویش میں بھی مبتلا پایا کہ آخر اس ملک کا بنے گا کیا۔ کب یہ ظلم بند ہوگا، کب حقیقی امن آئے گا اور کب خون بہنا بند ہوگا؟

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ انتہائی مہنگی انتخابی مہم، اشتہارات اور بھاگ دوڑ کی کیا ضرورت ہے جب ایک خودکش حملہ آور حریف کو ہمیشہ کے لیے مٹا سکتا ہے۔

سدا نہ باغ وچ بلبل بولے، سدا نہ رہن بہاراں
دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے سجناں وی ٹُر جانا

اخبارات’بینظیر بھٹو شہید‘
بینظیر کو اخبارات کا بعد از موت خراج عقیدت
بینظیربینظیر کا قتل
امریکیوں کو بھی اس پرگہری تشویش ہے
بینظیر کے بعد کون؟
پیپلز پارٹی کی باگ ڈور اب کون سنبھالے گا
اسی بارے میں
سندھ: ہنگامے، فوج الرٹ
28 December, 2007 | پاکستان
اب یہ علم کون اٹھائےگا؟
28 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد