نگرانی کیلیے تیار لیکن مطمئن نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنہ دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات کی مانیٹرنگ یا نگرانی کرنے کے لیے جہاں بین الاقوامی تنظیمیں پاکستان پہنچ گئی ہیں وہاں قومی غیر سرکاری تنظیمیں بھی انتخابات کی نگرانی کے لیے پوری تیاری میں ہیں۔ تاہم جوں جوں انتخابات قریب آ رہے ہیں سیاسی جماعتوں سمیت غیر سرکاری تنظیمیں دھاندلی کی آواز بھی بلند کر رہی ہیں۔ بین الاقوامی تنظیموں میں امریکہ کی انٹرنیشنل ریپبلیکن انسٹیٹیوٹ اور یورپی یونین کے مبصر شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ایک اور امریکی غیر سرکاری تنظیم نیشنل ڈیموکریٹک انسٹیٹیوٹ یا این ڈی آئی انتخابات کی نگرانی تو نہیں کرے گی تاہم اس تنظیم نے پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے ایجنٹس کو انتخابات کی نگرانی میں تربیت دی ہے۔ این ڈی آئی نے اس سال مئی اور اکتوبر میں پاکستان کے دورے کیے تھے۔ ان دوروں پر مبنی رپورٹ پر این ڈی آئی کے ڈائریکٹر ٹام ڈیشل نے حال ہی میں امریکہ کی قومی سلامتی اور امور خارجہ کی کمیٹی کو بریفنگ بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہا کہ ایمرجنسی کے خاتمے اور صدر پرویز مشرف کے فوج کا عہدہ چھوڑنے کے باوجود پاکستان نے آزاد اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ ٹام ڈیشل نے مزید کہا کہ ایمرجنسی کے منفی اثرات نے پہلے سے موجود مسائل کو مزید بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے وردی اتارنے سے پہلے کے آٹھ سال کے دوران قانون کی حاکمیت اور جمہوری اداروں کو جو نقصان پہنچا ہے اس کی تلافی نہیں ہوئی۔
ڈیشل نے عدلیہ کی آزادی اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے والے ججز کی نظربندی، میڈیا پر پابندیوں اور خفیہ اداروں کی مداخلت اور سیاسی جماعتوں پر جلسے کرنے پر پابندیوں کا بھی ذکر کیا۔ این ڈی آئی کی پاکستان میں ڈائریکٹر شیلا فرومین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی انتخابات کے آزاد اور منصفانہ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں شفاف بنایا جائے۔ ’اس کا مطلب ہے کہ انتخابات کی نگرانی کے لیے آئے ہوئے اہلکاروں اور امیدواروں کے نمائندوں کو انتخابات کے تمام مراحل کی نگرانی کرنے کی اجازت دی جائے۔‘ شیلا فرومین نے کہا کہ این ڈی آئی نے انتخابات کو آزاد اور منصفانہ بنانے کے لیے چند تجاویز الیکشن کمیشن کو دی تھیں جن میں سے ایک الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں کے درمیان ملاقاتوں کے بارے میں تھی، لیکن پاکستان الیکشن کمیشن نے اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی تنظیموں پر انحصار نہیں کیا جا سکتا اور بہتر یہ ہے کہ امیدواروں کے نمائندوں کو تربیت دی جائے کیونکہ وہ زیادہ بہتر طور پر نگرانی کر سکتے ہیں۔ جہاں بین الاقوامی تنظیمیں پاکستان میں انتخابات کی نگرانی کے لیے آئی ہیں وہاں قومی تنظیمیں بھی میدان میں موجود ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سربراہ آئی اے رحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کے لوازمات موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آزاد نہیں ہے، نگران حکومت غیر جانبدار نہیں ہے اور ان لوگوں کی انتخابی مہم سرکاری وسائل سے چلائی جا رہی ہے۔ چنانچہ ہم الیکشن کے دن دیکھیں گے کہ لوگوں کو کیا کیا مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ تقریباً پچاس مقامی غیر سرکاری تنظیموں کی مشترکہ تنظیم ’فیفن‘ انتخابات کی نگرانی کے مسئلے پر کام کر رہی ہے۔ فیفن کے سیکریٹری جنرل سرور باری نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن، نگراں حکومت اور عدلیہ کا آزاد اور غیر جانبدار ہونا ضروری ہے۔ ناظمین کھلم کھلا اپنے رشتہ داروں کے حق میں مہم چلا رہے ہیں۔ یہ سب دیکھتے ہوئے بھی الیکشن کمیشن کوئی ایکشن نہیں لے رہا۔‘ |
اسی بارے میں حتمی فہرستیں: نو ہزار سے زائد امیدوار 17 December, 2007 | پاکستان شریف برادران کی درخواست مسترد17 December, 2007 | پاکستان ’معلق پارلیمان کے ساتھ ترقی ممکن‘ 20 December, 2007 | پاکستان ’عام آدمی کا مسئلہ سپریم کورٹ نہیں‘25 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||