’عام آدمی کا مسئلہ سپریم کورٹ نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات کے چودھری پرویز الہیٰ تین دہائیوں سے انتخابی سیاست میں سرگرم رہے ہیں اور اس بار اپنا دسواں الیکشن لڑ رہے ہیں۔ پچھلے پانچ برس میں وہ پاکستان کے فوجی صدر پرویز مشرف کے زیرِشفقت پنجاب کے طاقتور وزیر اعلیٰ رہے۔ آٹھ جنوری کے انتخابات میں پرویز الہیٰ مسلم لیگ (ق) کی طرف سے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہیں۔ لاہور میں اُن کے والد کے نام سے منسوب چودھری ظہور الہیٰ روڈ پر ان کی بڑی سی کوٹھی واقع ہے۔ حال ہی میں جب ہم ملاقات کے لئے وہاں پہنچے تو سکیورٹی پروٹوکول ایسا نظر آیا جیسے وہ اب بھی پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ ہوں۔ اندر داخل ہوئے تو ایک سے بڑھ کر ایک مہنگی ترین گاڑیاں قطار سے کھڑی نظر آئیں جن میں ان کی کالے رنگ کی بُلیٹ پروف بی ایم ڈبلیو شامل تھی۔ (پتہ نہیں یہ محض اتفاق ہے یا حادثہ کہ مسلم لیگ قاف کا انتخابی نشان غریب آدمی کی سواری سائیکل ہے جس کے بینر اور پوسٹر لاہور بھر کے سرکاری کھمبوں پر نمایاں ہیں۔) چودھری پرویز الہی کی جماعت نے ان کی انتخابی مصروفیات کی قومی میڈیا پر تشہیر کا زبردست انتظام کیا ہوا ہے۔ اخبارات اور ٹی وی پر اشتہارات پر خرچے کے اعتبار سے وہ سب سے آگے نظر آتے ہیں۔ ساتھ ہی کہا جا رہا ہے کہ صحافیوں اور اداروں کو راضی رکھنے کے لئے بھی چودھری برادران اپنی روایتی ’سخاوت‘ کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔ چودھری پرویز الہی وزارتِ عظمیٰ کے سرکاری امیدوار سمجھے جانے کی وجہ سے عالمی ذرائع ابلاغ کی بھی توجہ کا خاص مرکز ہیں۔ ہم ان سے بات چیت کے لئے اُن کے شاہانہ ڈرائننگ روم میں داخل ہوئے تو وہ اُس وقت یورپی صحافیوں کی ایک ٹیم کے ساتھ فوٹوشوٹ میں مصروف تھے۔ خاتون فوٹوگرافر کبھی انُہیں بٹھا کر کبھی کھڑا کر کے مختلف زاویوں سے اُن کی ڈھیروں تصویریں بناتی چلی جا رہی تھی۔ اس دوران پرویز الہٰی وقتاً فوقتا مسکراتے رہے اور بڑے پُرسکون نظر آئے، جیسے انہیں پورا اطمینان ہو کہ آنے والے وزیراعظم وہی ہیں۔
لیکن جب ان کی توجہ صدر مشرف کے متنازعہ ترین اقدامات کی طرف دلائیں یا اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ ان کے سلوک پر سوال اٹھائیں تو وہ اسے یہ کہ کر مسترد کر دیتے ہیں کہ ’عام آدمی کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ سپریم کورٹ کا جج کون ہے یا کیوں فارغ کر دیا گیا۔‘ پرویز الہی کے بقول عام ووٹر کے لئے روزگار کی فراہمی اور ترقیاتی کاموں کی رفتار زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے ہمارے سوالات کے جوابات کچھ یوں دیے: سوال: تو کیا انصاف کا حصول ایک عام آدمی کا مسئلہ نہیں؟ کیا اس کے لئے ایک آزاد عدلیہ کا وجود ضروری نہیں؟ جواب: آپ صرف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی بات نہ کریں۔ جس عدلیہ سے عام آدمی کا واسطہ پڑتا ہے، مقامی اور ضلعی سطح پر وہ اپنی جگہ قائم ہے۔ سیشن ججز کام کر رہے ہیں، عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں۔ سوال: لیکن سپریم کورٹ بھی تو پہلی بار عام آدمی کے مسائل کا نوٹس لے کر اس کی مدد کو آ رہی تھی، لیکن جنرل مشرف نے اسے ہی فارغ کردیا۔ جواب: دیکھیں، ہمارے ملک کے مخصوص حالات ہیں۔ آپ جو لوگ میڈیا والے، بی بی سی والے باہر سے یہاں آتے ہیں، تو اپنے انگلینڈ کے ماحول کے حساب سے سوچتے ہیں۔۔۔‘ سوال: نہیں، لیکن کیا پاکستانیوں کا حق نہیں کہ باقی ملکوں کی طرح یہاں بھی قانون اور آئین کی حکمرانی ہو؟ جواب: آپ سُن تو لیں۔ بات تو ختم کر لینے دیں۔ میں یہ پوچھتا ہوں کہ عدلیہ کو کب کسی نے یہ حق دیا کہ وہ حکومتی معاملات میں مداخلت کرے؟ پولیس کو کام نہ کرنے دے، اور انتظامیہ کو مفلوج کرکے رکھ دے؟ یہاں عدلیہ کی دخل اندازی اتنی بڑھ چکی تھی کہ اس حوالے سے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑا، تب جا کر معاملات ٹھیک ہوئے۔ اب وہ سب سہی ہوا یا نہیں؟ آج قوم الیکشن میں جانے کی تیاری کر رہی ہے۔ آٹھ جنوری کو لوگ اپنا فیصلہ دیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے موقف کی حمایت ہوگی۔ سوال: چلیں الیکشن کی بات کر تے ہیں۔ اکثر تجزیہ نگار آئندہ پارلیمنٹ کو ایک معلق پارلیمنٹ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ غیرواضح عوامی مینڈیٹ کی صورت میں آپ کی حکمتِ عملی کیا ہے؟ جواب: پہلی بات تو یہ کہ میں معلق پارلیمان کی باتوں سے اختلاف کرتا ہوں۔ ایسے اندازے بے بنیاد ہیں۔ یہ دونوں لیڈر، بینظیر اور نواز شریف، دس سال بعد پاکستان واپس آئے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اب بھی وہیں کھڑا ہے۔ اس دوران پاکستان میں دو بلدیاتی انتخابات ہوچکے ہیں۔ ایک نئی سیاسی قیادت ابھر کر سامنے آئی ہے۔ یہ لوگ تو اس نئی لیڈرشپ سے تو واقف تک نہیں۔ نواز شریف لاہور کی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن اُن کو یہاں کے کسی کونسلر کا یا یو سی ناظم کا نام تک معلوم نہیں ہوگا۔ بینظیر کو تو ماشاء اللہ پہلے بھی لوگوں کے نام نہیں آتے تھے۔ تو اِن لیڈریوں کو چاہیئے کہ وہ پاکستان کے نئے زمینی حقائق کو سمجھیں۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اکثریت ہماری آئے گی اور یہ معلق پارلیمان کی باتیں بے بنیاد ہیں۔ سوال: آپ پر دھاندلی کروانے کے بڑے الزامات لگ رہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ انتظامیہ، پولیس، ناظمین آپ کے اپنے ہیں۔ وہ آپ کی انتخابی مہم کا خرچہ اٹھا رہے ہیں، آپ کے جھنڈے بینر لگاتے پھر رہے ہیں۔ اگر ان الزامات میں صداقت ہے، تو ایسا الیکشن کون مانے گا؟ جواب: باالکل سب مانیں گے۔ میں خود اپوزیشن میں رہا ہوں۔ سارے اپوزیشن میں رہ کر ایسے ہی الزام لگاتے ہیں۔ ہم بھی لگاتے تھے اور یہ ہم کوئی پہلا الیکشن نہیں لڑ رہے۔ پینتیس سال سے تو خود میں سیاست میں رہا ہوں اور یہ میرا کوئی دسواں الیکشن ہے۔ تو دھاندلی کی قطعی کوئی بات نہیں۔ لوگ ویسے بھی پاکستان مسلم لیگ کے ساتھ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||