ایس ایم ایس سے انتخابی مہم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جس طرح ہر الیکشن کے موقع ہر نئے نئے تشہیری ذرائع سامنے آتے ہیں اِسی طرح آٹھ جنوری کو ہونے والے انتخابات سے پہلے ایس ایم ایس ایک موثر ذریعے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ایک جانب تو موبائل فون روز مرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن گیا ہے جسے سیاسی جماعتوں نے اپنی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں خوب فائدہ اُٹھایا ہے۔ اُمیدوار انڑنیٹ کے ذریعےووٹر کے موبائل فون پر ایس ایم ایس یعنی مختصر پیغام بھیجتے ہیں جس میں پہلے عید کی مبارک باد دی جاتی ہے اور ساتھ ہی ووٹر کو اپنا ووٹ دینے کی درخواست کی جاتی ہے۔ پیغام کے جواب میں لوگ امیدوار کو ووٹ دینے یا نہ دینے کے بارے میں جوابی پیغام بھی بھیجتے ہیں۔ راولپنڈی اسلام آباد کے جڑواں شہروں میں اسی طرح کی انتخابی مہم کا آغاز مسلم لیگ ق کے امیدوار اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کیا ہے جنہوں نے عید کے موقع کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے حلقے کے ووٹروں کے موبائل پر ایس ایم ایس کے ذریعے عید مبارک کے پیغامات اوراس کے ساتھ ہی ان سے ووٹ دینے کی درخواست کی ہے۔ شیخ رشید احمد موبائل فون پر پیغام رسانی کو موثر اور موجودہ دور میں سب سے سستا ذریعہ سمجھتے ہیں کیونکہ صرف ایک آدمی انٹرنیٹ کے ذریعے پیغام بھیجنے اور موصول کرنے کا کام سرانجام دیتا ہے۔ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ وہ پہلے بھی جلسوں کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے یہ طریقہ استعمال کر چکے ہیں جس کا ان کو کافی فائدہ ہوتا رہا ہے۔ شیخ رشید احمد نے بتایا کہ کئی لوگ ووٹ دینے کے لیے انکار کرتے ہیں اور بعض نمبر ان کے حلقے کے نہیں ہوتے ہیں لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ ان کی تعداد بہت کم ہوتی ہے جبکہ ایک دن میں دو سو سے زائد لوگ ووٹ دینے کے لیے جوابی پیغام بھیجتے ہیں جو انتہائی کم وقت اور کم قیمت میں ایک اچھی کامیابی ہے۔ شیخ رشید کے انتخابی حلقہ کے ووٹر ارشد زمان نے بی بی سی کو بتایا کہ جب ان کو عید مبارک کا پیغام ملا تو پہلے ان کو اس بات حیرت ہوئی کہ ان کا نمبر شیخ رشید تک کیسے پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ وہ شیخ رشید کو ووٹ تو نہیں دیں گے لیکن ووٹ مانگنے کےاس منفرد انداز سے متاثر ضرور ہوئے ہیں۔ موجودہ دور میں موبائل فون نے ایک دوسرے سے رابطے کو انتہائی آسان بنا دیا ہے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ ہو یا انتخابی مہم موبائل فون کے زریعے ایس ایم ایس کی وجہ اطلاعات کی ترسیل کم وقت میں بہت زیادہ لوگوں تک ممکن ہو جاتی ہے۔ ملک میں تین نومبر کو ایمرجسنی کے نفاذ کے بعد جب تمام نجی ٹی وی چینل بند ہوگئے تھے تو جہاں لوگوں نے اپنے آپ کو باخبر رکھنے کے لیے ڈش انٹینا اور ڈی کوڈر اور ریڈیو کا سہارا لیا، وہاں موبائل فون کے ذریعے ایس ایم ایس کا تانتا بندھ گیاتھا۔ ایس ایم ایس کا زیادہ استعمال انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایمرجنسی کے خلاف مظاہروں کے لیے کیا تھا جو اس وقت کافی موثر ثابت ہوا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||