BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز لیگ کے انتخابی کیمپ سے

شہباز شریف
شہباز شریف ایک سیاسی رہنما سے زیادہ بیوروکریٹ لگتے ہیں
میاں نواز شریف اور شہباز شریف کو انتخابات میں نااہل قرار دیئے جانے کے بعد پاکستان کے انتخابی میدان میں اس خاندان کے واحد رکن شہباز شریف کے نوجوان صاحبزادے حمزہ شہباز ہیں۔

حمزہ شہباز پر شریف خاندان کی سعودی عرب میں جلاوطنی کے دوران پاکستان میں خاندان کے کاروباری معاملات سنبھالنے کی ذمہ داری تھی۔ اب پہلی بار انہیں لاھور سے انتخابی سیاست میں اتارا جا رہا ہے ۔کامیابی کا صورت میں پارلیمان میں وہی شریف خاندان کی نمائندگی کریں گے۔

حمزہ شہباز اور شہباز شریف کی انتخابی سرگرمیوں کا مرکز لاھور میں شریف خاندان کی ماڈل ٹاؤن والی رہائش گاہ ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جس پر شریف خاندان کی جلاوطنی کے دوران مشرف حکومت نے قبضہ کرکے اسے ضیعف افراد کے لئے پناہ گاہ ’اولڈ پیپلز ہوم‘ قرار دے دیا تھا۔ آٹھ سال کے وقفے کے بعد یہاں اب ایک بار پھر سیاسی ریل پیل ہے اور ہر طرف مسلم لیگ نواز کے پرچم، بینر اور پوسٹر نظر آ رہے ہیں۔

منگل کی صبح جب ہم میاں شہباز شریف سے ملاقات کے لئے پہنچے تو وہاں کارکنوں کی کوئی بہت بڑی تعداد نظر نہیں آئی۔ بتایا گیا کہ زیادہ تر لوگ حلقوں میں اپنے اپنے کام سے لگے ہوئے ہیں۔ سفید کلف والی شلوار قمیض پر کالے رنگ کا سوئیٹر پہنے حمزہ شہباز زیادہ تر اپنے موبائل فون پر اِدھر سے اُدھر بات کرتے نظر آئے۔

پھر شہباز شریف کی آمد ہوئی۔ وہاں آئے ہوئے لوگوں سے وہ عزت سے ملے لیکن ان کے ملنے جلنے میں وہ گرمجوشی یا عوام کے ساتھ وہ میل جول نظر نہیں آیا جو عمومًا ووٹ مانگنے والوں کا ہوتا ہے۔ شہباز شریف کے ذاتی اسٹائل کے بارے میں لاھور کے لوگوں میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ ایک سیاسی رہنما سے زیادہ ایک بہتر ایڈمنسٹریٹر یا بیوروکریٹ لگتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی جماعت میں ساری عوامی اپیل میاں نواز شریف کی ہے جبکہ شہباز شریف پارٹی کے انتظامی معاملات اور جوڑ توڑ میں زیادہ کارآمد سمجھے جاتے ہیں۔

حمزہ شریف
کامیابی کا صورت میں حمزہ شریف ہی پارلیمان میں شریف خاندان کی نمائندگی کریں گے
ہمارے سامنے جو کچھ کارکنان شہباز شریف سے ملنے آتے گئے وہ اُن سے مختصر بات کرتے اور چند منٹوں کے اندر انہیں جھٹ پٹ فارغ کرتے چلے گئے۔ شہباز شریف وقتاً فوقتاً ملازمین پر ڈانٹ ڈپٹ بھی کرتے رہے کہ ’مہمانوں کے لئے چائے بسکٹ جلدی جلدی کیوں نہیں پیش کئے جا رہے۔‘

پھر اعلان ہوا کہ میاں صاحب لاھور سے باہر کسی جگہ انتخابی جلسے سے خطاب کے نکلنے لگے ہیں اور گاڑیاں لگوائی جائیں۔ بی بی سی کے ساتھ شہباز شریف کے انٹرویو کے لئے طے پایا کہ کیوں نہ میں ان کے ساتھ گاڑی میں سوار ہوجاؤں اور راستے میں بات کر لی جائے۔سو میں ان کی سفید رنگ کی بلٹ پروف لینڈ کروزر میں ان کے ساتھ سوار ہوگیا۔

راستے میں ہم نے کئی موضوعات پر گفتگو، کچھ آن ریکارڈ کچھ آف دی ریکارڈ۔ شہباز شریف سے بات چیت کا لبِ لباب یہ نکلا کہ ان کی پارٹی اِن انتخابات میں اقتدار یا کرسی کے لئے حصہ نہیں لے رہی بلکہ عدلیہ کی بحالی اور آزادی کے نقطے پر الیکشن میں جا رہی ہے۔ شہباز شریف آٹھ جنوری کے انتخابات کو قاف لیگ کو جتوانے کے لئے ڈھونگ اور ڈرامہ قرار دیتے ہیں۔ اُن کی پارٹی کی نظریں دراصل اس کے بعد والے انتخابات پر ہیں۔ نواز لیگ کی قیادت کے خیال میں جوڑ توڑ کے نتیجے میں آنے والی نئی حکومت کمزور ہوگی اور زیادہ عرصہ نہیں چلے گی۔

وہ سمجھتے ہیں کہ ان انتخابات میں مشرف حکومت نواز لیگ کی عددی حیثیت کم سے کم رکھنے کی کوشش کرے گی جبکہ اُنہیں اپنا پورا زور، تمام تر سرکاری کوششوں کے باوجود، خود کو ایک خاطر خواہ قوت کے طور پر منوانا ہے۔

میاں شہباز شریف کے ساتھ گزارے اس وقت کے دوران وہ مجھے کچھ بے چین سے نظر آئے۔ بڑے عرصے بعد دوبارہ تقاریر کرکے ان کا گلہ بیٹھا ہوا تھا اور تھکاوٹ عیاں تھی۔ چہرے پر تاثرات ایسے جیسے ذہن میں بیک وقت بہت ساری سوچیں ایک ساتھ چل رہی ہوں۔ اور ہو بھی کیوں نہ کیونکہ ان کے پاس وقت بہت کم ہے اور مقابلہ سخت!

اِن چند ہفتوں کے مختصر عرصے کے دوران اُنہیں پارٹی چھوڑ جانے والے کارکنوں کی واپسی اور اپنے حامیوں کو دوبارہ اکھٹا کرنا ہے۔ انتخابات میں پارٹیاں بدلنے والے ڈھیر سارے امیدواروں سے نمٹنا ہے۔ اپنے موقف کی تشہیر کے لئے میڈیا کو سنبھالنا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انتخابی دھاندلیوں کے خدشات کے پیشِ نظر مخالفین کے مقابلہ کے لئے اپنی تبدیل ہوتی حکمتِ عملی کی بھی نگرانی کرنی ہے۔

قاضی حسین احمدسرحد کے نئے اتحاد
جماعت کے بائیکاٹ سے صوبہ سرحد میں نئی ہلچل
واجہ کریم دادپی پی پی کے باغی
لیاری میں پیپلز پارٹی کو باغی کارکنوں کا سامنا
مسلم لیگنون لیگ کی کشش
گجرات کے چودھریوں کے خواب چکنا چور؟
 فائل فوٹوسوات کی خواتین
شورش زدہ ضلع میں ’بہادر‘خواتین امیدوار
’لاڑکانہ میرا گھر‘
حلقہ دو سو چار بینظیر کا گھر نہیں: غنویٰ بھٹو
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد