انتخابات، جماعتیں اور منشور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جیسے تیسے انتخابی موسم چڑھ آیا ہے اس لیے اس میں حصہ لینے والوں کو اس کے بعض لوازمات بھی پورے کرنے ہیں۔ ان میں سے ایک انتہائی اہم جماعتوں کے منشور ہوتے ہیں تاہم ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں منشور کو ایک ’ فارملیٹی‘ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتیں۔ ماہرین کے مطابق عام انتخابات سے چند ہفتے قبل ان منشوروں کے سامنے آنے سے لوگوں کو انہیں پرکھنے اور ان کا تفصیلی جائزہ لینے کا موقع کم ملےگا۔ سینٹر فار سوک ایجوکیشن کے ظفر اللہ خان کہتے ہیں کہ منشور انگریزی میں ہوتے ہیں اور یہ عام لوگوں تک بڑی تاخیر سے پہنچتے ہیں۔’صرف ایم کیو ایم ایک ایسی جماعت ہے جس نے انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں بیک وقت اسے جاری کیا ہے۔‘ اکثر جماعتوں کے منشور سامنے آچکے ہیں۔ تاہم جعمیت علماء اسلام جوکہ دینی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑنے کا اعلان کر چکی ہے کا منشور ابھی آنا باقی ہے۔ جن جماعتوں نے یہ منشور جاری کر دیے ہیں وہ ابھی ضلعی سطح تک نہیں پہنچے ہیں۔ ان میں بلند و بانگ دعووں کی یکسانیت کے علاوہ کوئی زیادہ فرق بھی نہیں دکھائی دیتا۔ ایک نیا رجحان منشور کو زیادہ دلچسپ بنانے کے لیے پیپلز پارٹی کا اسے پانچ ’ایز‘ اور مسلم لیگ (ق) کا پانچ ’ڈیز‘ کا نام دینا ہے۔ پیپلز پارٹی کے فائیو ایز جو امپلوئمنٹ، انرجی، ایجوکیشن، انوائرمنٹ اور ایکوالٹی عام آدمی کی سمجھ سے یقینا باہر ہیں لیکن مسلم لیگ (ق) کے فائیو ڈیز (ڈیموکریسی، ڈولپمنٹ، ڈیولوشن، ڈائورسٹی اور ڈیفنس) بھی کچھ زیادہ آسان نہیں۔ ان دو جماعتوں کے مقابلہ میں اس میدان کے تیسرے بڑے امیدوار مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے صدر پرویز مشرف پر تابڑ توڑ زبانی حملوں کی طرح منشور بھی ان کے خلاف غصے سے بھرا ہوا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے وقت سے پہلے ہی حزب اختلاف کا کردار اپنے لیے چن لیا ہے۔ نواز شریف نے بعض ایسی باتیں اپنے منشور میں ڈالی ہیں جن پر صدر پرویز مشرف کے ہوتے ہوئے عمل درآمد کرنا ناممکن دکھائی دیتا ہے جیسے کہ کارگل کی تحقیقات اور ذمہ دار افراد کی شناخت کے لیے کمیشن کا قیام اور صدر کے گورنر اور فوجی اہلکاروں کو تعینات کرنے کے اختیارات کی واپسی۔ پیپلز پارٹی نے بھی میثاق جمہوریت کے چھتیس نکات کو اپنے منشور کا حصہ بنایا ہے، جن میں فوجی حکمرانوں کے اقدامات کا دوبارہ جائزہ لینے اور فوجی حکمرانوں سے شرکت اقتدار نہ کرنے جیسی شقیں شامل ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے بقول ان اہداف کی تائید کرنی چاہیے کیونکہ یہ ایک سمت کا اشارہ دیتے ہیں۔ ظفر اللہ کہتے ہیں ’پلیٹ میں رکھ کر کوئی کسی کو حق نہیں دیتا۔ یہ حقوق کیسے واپس لیے جائیں گے اس بارے میں منشور میں تشنگی ضرور ملتی ہے تاہم اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ منزل واضح ہے کہ وہ چاہتے کیا ہیں۔‘ صدر مشرف کے قائم کردہ قومی احتساب بیورو کی مخالفت ناصرف مسلم لیگ (ن) بلکہ پیپلز پارٹی بھی کرتی ہے اور اس کے خاتمے کی خواہاں ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان ایک بات تو واضح ہے کہ دونوں اپنے اپنے منشور میں بات تو پارلیمانی نظامِ حکومت کو مضبوط کرنے کی کرتے ہیں، لیکن دونوں کا سامنا ایک قدرے مضبوط صدر سے ہے۔ مسلم لیگ تو انہیں سرپرست اعلیٰ مانتے ہوئے عملی طور پر صدارتی نظام کی حمایت کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔ اس میں شک کی گنجائش کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی اسی صدر کے ’کھیل کے رولز‘ کو تسلیم کرتے ہوئے فی الحال ان سے ٹکراؤ سے بچاؤ کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ کیا نئی پارلیمان کے اندر وہ ماضی قریب کا رویہ ہی اپنائے گی جس میں پیٹھ پیچھے خفیہ مذاکرات اور سامنے صدر پر تنقید اس کی پالیسی دکھائی دیتی ہے؟ اندازہ لگانا قدرے مشکل ہے۔ قائد لیگ نے اپنے منشور میں جماعتی صدر اور سیکر ٹری جنرل کے لیے دو سے زائد مرتبہ ان عہدوں پر فائز رہنے پر پابندی لگا کر واضح کر دیا ہے کہ ملک کے نئے وزیر اعظم کے لیے بھی وہ یہی چاہے گی۔ پیپلز پارٹی اپنے منشور کے مطابق اس شرط کے خلاف ہے۔ قبائلی علاقے ایک مسئلہ ہے جس کا حل تلاش کرنے میں سابق حکومت یقینا ناکام ہی رہی۔ اس کے بار بار اعلانات کے باوجود اس اہم سرحدی خطے میں سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اب قبائلیوں کو یہی حق دینے کا وعدہ مسلم لیگ (ق) نے اپنے منشور میں کیا ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے تو قبائلی علاقوں کو صوبہ سرحد میں ضم کرنے کا اور صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دینے کا وعدہ کیا ہے۔ دو ہزار دو کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) پر پچھلی حکومتوں میں مایوس کاکردگی کی وجہ سے دباؤ کا سامنا تھا۔ لیکن موجود انتخابات میں مسلم لیگ (ن) بظاہر اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی بحالی کو جبکہ پیپلز پارٹی اقتصادی مسائل اور دھاندلی کے شکوک و شبہات کو انتخابی مہم کا موضوع بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ تیسری جانب قائد لیگ اپنی پانچ سالہ کارکردگی کو قابل اطمینان سمجھتے ہوئے اس کی بنیاد پر میدان میں ہے۔ انتخابات پانچ سالہ حکومت کے لیے ہو رہے ہیں لیکن مسلم لیگ (ق) نے بعض دس سالہ پروگرام بھی پیش کیے ہیں۔ ان میں ملکی ترقی کے لیے یقیناً اہم ترین شرح خواندگی کو مسلم لیگ کے مطابق اگلی دہائی میں بڑھانا ہے۔ ایک اچھی تجویز اساتذہ کی ریٹائرمنٹ کی عمر پینسٹھ برس تک بڑھانا بھی ہے۔ سینٹر فار سوک ایجوکیشن کے ظفر اللہ خان ہر جماعت کی جانب سے تعلیم کو اہیمت دینے پر خوش دکھائے دیتے ہیں تاہم اس میں بھی انہیں جزیات کی کمی واضع طور پر نظر آتی ہے۔ بعض دیگر اہم اور قابل عمل تجاویز میں شہری علاقوں میں ’ماس ٹرانزٹ‘ نظام متعارف کروانے کے علاوہ دریاؤں کو آمد و رفت کے لیے استعمال میں لانا بھی ہے۔ کالا باغ ڈیم صوبہ پنجاب کی اہم ضرورت قرار دی جاتی ہے لہذا مسلم لیگ (ق) نے بغیر نام لیے صرف اتفاق رائے سے ڈیموں کی تعمیر کی حمایت کی ہے۔ وہ یقیناً دیگر صوبوں خصوصاً سندھ میں اس معاملے کی بنیاد پر اپنی پوزیشن متاثر کرنا نہیں چاہتی۔ بعض پرانی ’ناکام ‘ تجاویز جیسے کہ زنانہ پولیس سٹیشنوں کا قیام شامل ہے پر دوبارہ عمل درآمد شروع کروانے کا بھی اعلان ہے۔ اگرچہ یہ تھانے خواتین کو انصاف کی فراہمی میں مدد دینے کے لیے تھے لیکن صوبہ سرحد کی حد تک تو غیرمؤثر ثابت ہوئے۔ عدلیہ اور ذرائع ابلاغ کی آزادی کی عمومی بات تو ہر کسی نے کی ہے لیکن ٹھوس وعدے ندارد ہیں۔ صرف مسلم لیگ (ن) نے ہی ججوں کی بحالی کو اپنے منشور کا واضح جز بنایا ہے۔ پیپلز پارٹی نے قومی سلامتی کونسل کو ختم کرنے اور اس کی جگہ وزیر اعظم کی سربراہی میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کو مضبوط کرنے کی بات بھی کی ہے۔ صدر پرویز مشرف بھی کونسل سے متعلق اب شاید اپنا موقف تبدیل کر لیں۔ ان کا پہلے خیال تھا کہ اس کی موجودگی میں مارشل لاء نہیں لگے سکے گا لیکن تین نومبر کو ان کی یہ تھیوری بھی غلط ثابت ہوئی۔ چھوٹی سیاسی جماعتوں کے منشور انیس بیس کے فرق کے ساتھ تقریباً وہی ہیں جو ماضی میں سامنے آئے۔ عوامی نیشنل پارٹی صوبائی حقوق کی بات دوہراتی ہے اور صوبے کا نام تبدیل کرنے کا عزم تازہ کیا ہے تو متحدہ قومی موومنٹ سندھی صوبائی خودمختاری کی بات کر رہی ہے۔ اگر روٹی، کپڑا اور مکان، امن، ترقی اور خوشحالی، روشن خیال، خوشحال اور ترقی پسند جیسے لوگوں کو اپیل کرنے والے اچھے اچھے الفاظ محض منشور تک محدود نہ رہیں تو شاید بہتر ہوگا۔ | اسی بارے میں آٹھ جنوری: انتخابی سرگرمیاں غائب08 December, 2007 | پاکستان مسلم لیگ منشور: ججز کی بحالی 14 December, 2007 | پاکستان آٹھ جنوری ریفرنڈم کا دن: نواز شریف10 December, 2007 | پاکستان انتخابی مہم ابھی تیز نہیں11 December, 2007 | پاکستان اعتزاز انتخابات سے دستبردار12 December, 2007 | پاکستان انتخابات سے دور رہیں: قاضی 12 December, 2007 | پاکستان بائیکاٹ سے صورتحال تبدیل14 December, 2007 | پاکستان ’امریکی نہ آئیں، دھاندلی ہو چکی‘14 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||