BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات سے دور رہیں: قاضی

ایم ایم اے
’سیاسی جماعتوں کے لیے عام انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا یہی وقت ہے‘
متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد کا کہنا ہے کہ دینی اتحاد میں شامل جماعتیں اس پلیٹ فارم سے عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتیں اور اگر اس بابت انتخابی کمیشن اگر کوئی اقدام کرتا ہے تو وہ غیرقانونی ہوگا۔

انہوں نے حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں سے انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے پر نظرثانی کی بھی دوبارہ اپیل کی ہے۔

اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر اخباری کانفرنس کا مقصد بظاہر حزب اختلاف کی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے پر نظر ثانی کی آخری اپیل کرنا تھا۔

قاضی حسین احمد نے اپنا موقف دوہرایا کہ سیاسی جماعتوں کے لیے عام انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا یہی وقت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب حزب اختلاف کی تمام جماعتیں اس بات پر متفق دکھائی دیتی ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوگی اور نئی اسمبلیوں میں وہ غیرموثر ہوں گی تو پھر حصہ لینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

’ہم پوچھتے ہیں ان جماعتوں سے جنہوں نے بائیکاٹ کا ہمارے ساتھ اتفاق کیا تھا کہ وہ کیوں اس اہم موقع کو ضائع کر رہے ہیں جبکہ انہیں معلوم ہے کہ انتخابات میں ان کا اور قوم اور ملک کا کیا حشر ہونے والا ہے۔‘

موقع ضائع ہو رہا ہے
 ہم پوچھتے ہیں ان جماعتوں سے جنہوں نے بائیکاٹ کا ہمارے ساتھ اتفاق کیا تھا کہ وہ کیوں اس اہم موقع کو ضائع کر رہے ہیں جبکہ انہیں معلوم ہے کہ انتخابات میں ان کا اور قوم اور ملک کا کیا حشر ہونے والا ہے
قاضی حسین احمد

قاضی کا کہنا تھا کہ ان کے پاس پھر فریاد کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ دو تہائی اکثریت انہیں حاصل نہیں ہوسکے گی اور سپریم کورٹ میں کوئی سنی نہیں جائے گی۔ ’ان کے پاس صرف عوام کے پاس جانے، احتجاج کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ یا پھر وہ سال ہا سال ڈیسک بجاتے رہیں گے۔‘

متحدہ مجلس عمل میں ٹوٹ پھوٹ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ستائیس نومبر کو مولانا فضل الرحمان کے سوا باقی پانچ پارٹیوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا جوکہ بقول ان کے برقرار ہے اور یہ جماعتیں اپنی ذاتی حثیت میں حصہ لے رہی ہیں۔

’یہ ایم ایم اے کا باضابطہ فیصلہ ہے۔ کوئی دو تین آدمی الگ بیٹھ کر اجلاس منعقد کر کے اسے ختم نہیں کرسکتے۔ انتخابی کمیشن اگر ان کی کارروائی پر کوئی اقدام کرے گا تو وہ غیر قانونی ہوگا اور ایم ایم اے کے دستور کے خلاف ہوگا۔‘

قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ دستور میں واضح ہے کہ اتحاد صرف متفقہ فیصلے ہی کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر انتخابی کمیشن نے پھر بھی بعض جماعتوں کو کتاب کے انتخابی نشان کے ساتھ لڑنے دیا تو وہ پھر عوام کی عدالت میں اس معاملے کو لے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ عوام میں بیداری پیدا کرنے کے لیے مہم اپنی انتخابی مہم کے طرز پر چلائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دینی جماعتوں کے اتحاد کو فی الحال معطل تصور کیا جائے تاہم عام انتخابات کے بعد اس کی ضرورت پہلے سے زیادہ رہے گی لہذا وہ اسے ختم نہیں کر رہے۔

قاضی حسین احمد نے بتایا کہ پندرہ دسمبر کو ان کے امیدوار بڑے بڑے جلوسوں کی شکل میں کاغذات نامزدگی واپس لینے کے لیے جائیں گے۔

مسلم لیگنون لیگ کی کشش
گجرات کے چودھریوں کے خواب چکنا چور؟
انتخابی مہم پھیکی
عام انتخابات سر پر لیکن انتخابی مہم میں زور نہیں
سیاستدان سامنے آئیں
عدلیہ بحالی صرف وکلاء کا کام نہیں: معزول جج
انتخابی سرگرمیاں؟
انتخابی سرگرمیاں کہیں نظر نہیں آرہیں
 کیا آپکو معلوم ہے؟کیا آپکو معلوم ہے؟
صدر مشرف آرمی ہاؤس کیوں نہیں چھوڑ رہے؟
اعتزاز احسناعتزاز کا خط
جنوری کے آخر میں ایک جیوڈیشل بس
فضل الرحمانقاضی فضل اختلافات
کیا متحدہ مجلس عمل کے خاتمے کا وقت آ گیا ؟
اسی بارے میں
قاف لیگ پر دھاندلی کا الزام
11 December, 2007 | پاکستان
پی پی پی مسلم لیگ(ن) سے خوش
10 December, 2007 | پاکستان
مسلم لیگ (ن) انتخاب لڑے گی
09 December, 2007 | پاکستان
قاضی، فضل: مختلف بیانات
04 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد