نیا کنوینر، الیکشن مخالف تحریک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اپوزیشن اتحاد اے پی ڈی ایم کی بائیکاٹ کی حامی جماعتوں نے مسلم لیگ نون کے راجہ ظفر الحق کی جگہ اپنا نیا کنونئیر مقرر رکر لیا ہے اور الیکشن مخالف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ اجلاس میں پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی کو اے پی ڈی ایم کا نیا کنونییر مقرر کیاگیا۔اس سے پہلے اے پی ڈی ایم کی سربراہی مسلم لیگ نون کے پاس تھی جس نے کل ہی یہ اشارہ دیا ہے کہ اب وہ انتخابات میں حصہ لے گی۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ جو جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں وہ اب آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی اے پی ڈی ایم کا حصہ نہیں رہیں۔ الیکشن بائیکاٹ کی حامی جماعتوں کا اجلاس پیر کو تحریک نصاف کے سربراہ عمران خان کی رہائش گاہ پر ہوا۔ اس اجلاس میں بائیکاٹ مخالف جماعتوں مسلم لیگ نواز،عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام ف اور مرکزی جمیعت اہلحدیث اور جمیعت علمائے پاکستان فضل کریم گروپ کے نمائندے شریک نہیں ہوئے۔
اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ اے پی ڈی ایم کے فیصلے کے مطابق جو پارٹیاں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں وہ اب اے پی ڈی ایم کا حصہ نہیں رہیں۔ عمران خان نے کہا کہ انہیں علم ہے کہ بائیکاٹ کے حوالے سے نواز شریف پر ان کے کارکنوں اور امیدواروں کا دباؤ ہے اور ان کی پارٹی میں اس بارے میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ تاہم عمران خان نے کہا کہ یہ بھی واضح ہے کہ پہلے چوبیس نومبرکو اسلام آباد میں راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں اور پھر انیتس نومبر کو لاہور میں نواز شریف کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ اگر عدلیہ کی دونومبر والی پوزیشن بحال نہیں ہوتی تو بائیکاٹ ہوگا اور جو جماعت بائیکاٹ میں شامل نہیں ہوگی وہ اے پی ڈی ایم کا حصہ نہیں رہے گی۔ پریس کانفرنس سے محمود خان اچکزئی اور امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے درجن بھر کے قریب سربراہ بھی موجود رہے۔ بائیکاٹ کے حامی رہنماؤں نے کہا کہ ملک ایک خطرناک دور سے گزر رہا ہے اور وہ وفاق کو بچانے کے لیے الیکشن مخالف تحریک چلائیں گے۔امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا کہ محب وطن لوگ انتخابات کا بائیکاٹ کریں۔انہوں نے کہا کہ وہ نہ صرف انتخابات کی مخالفت کریں گے بلکہ اسے ناکام بنانے کی کوشش بھی کریں گے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ وہ درپردہ یا کھلے عام کسی امیدوار کی حمایت نہیں کریں گے اور اے پی ڈی ایم کی جماعتیں ایسا کوئی کردار ادا نہیں کریں گی جس سے ان انتخابات کو کسی بھی حوالے سے سپورٹ ملے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ انتخابات میں حصہ لینا اسے قانونی حثیت دینے کے مترادف ہے۔
قاضی حسین احمد نے کہا کہ پندرہ دسمبر کو ملک بھر کے ہر ضلع میں امیدوار جلوس کے ساتھ الیکشن کمشن جاکر کاغذات واپس لیں گے اور اس دن کو ملکی سطح پر بطور احتجاج منایا جائےگا۔قاضی حسین احمد مجلس عمل کے سربراہ ہیں اور ان کے بقول ایم ایم اے کی چھ میں سے چار جماعتیں اے پی ڈی ایم کا حصہ ہیں۔ مولانا فضل الرحمان اور سمیع الحق انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرچکے ہیں۔مولانا فضل الرحمان کی جے یوآئی کو الیکشن کمشن نے کتاب کا نشان دیا ہے جو ماضی میں مجلس عمل کا انتخابی نشان تھا۔قاضی حسین احمد نے کہا کہ بطور ایم ایم اے صدر وہ کسی کو کتاب کانشان انتخاب نہیں دیں گے۔ اتحاد کے نئے کنونیئر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ حالات اسی طرح چلتے رہے تو وفاق نہیں بچ سکے گا۔انہوں نے کہا کہ جو پارٹیاں الیکشن کے خلاف ہیں وہ اگر انتخابات میں حصہ لیں گی تو یہ ایک تضاد ہوگا۔ بائیکاٹ حامی رہنماؤں نے اٹھارہ دسمبر کو اسلام آباد میں قومی مشاورتی اجلاس طلب کیا ہے جس میں وکلاء طلبہ سمیت سول سوسائئٹی کی تمام تنظیموں اور انتخابات مخالف پارٹیوں کو بلایا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||