BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 December, 2007, 15:39 GMT 20:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اقلیتوں کا دوہرے ووٹ کا مطالبہ

اقلیتی رہنما
مسیحی اتحاد نے الزام لگایا ہے کہ سیاسی جماعتیں من پسند لوگوں کو نامزد کرتی ہیں
پاکستان میں مسیحی تنظیموں کے اتحاد اے پی ایم اے یعنی آل پارٹیز مائنارٹیز الائنس نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں آباد اقلیتوں کو دوہرے ووٹ کا حق دیا جائے اور اسمبلیوں میں ان کے لیے مخصوص نشستوں پر امیدواروں کی نامزدگیوں کے موجودہ طریقہ کار کو ختم کر کے براہ راست ووٹنگ کا طریقہ رائج کیا جائے۔

اے پی ایم اے نے یہ مطالبہ پیر کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آل پارٹیز مائنارٹیز الائنس کے رہنماؤں مائیکل جاوید اور سلیم خورشید کھوکھر نے مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کے لیے اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں پر امیدواروں کے بالواسطہ انتخاب کو انتـخابات کی روح کے منافی قرار دیا جس کے تحت ان نشستوں کے انتخاب کے لیے ووٹنگ نہیں ہوتی بلکہ سیاسی جماعتیں ان کے لیے امیدوار نامزد کرتی ہیں۔

مسیحی اتحاد کے رہنماؤں نے کہا کہ موجودہ طریقہ انتخاب کے تحت سیاسی جماعتیں من پسند لوگوں کو نامزد کرتی ہیں جس کے باعث اسمبلیوں میں اقلیتوں کو حقیقی نمائندگی نہیں مل پاتی۔

الیکشن نہیں سلیکشن ہے
 ہم محسوس کرتے ہیں کہ یہ الیکشن انہیں سلیکشن ہوتا ہے اور اس سے ووٹ کی جو طاقت اور تقدس ہوتا ہے وہ پامال ہو رہا ہے، اس طریقہ انتخاب نے اقلیتوں کا تشخص ختم کر دیا ہے
مائیکل جاوید

مائیکل جاوید نے کہا کہ ’ہم محسوس کرتے ہیں کہ یہ الیکشن انہیں سلیکشن ہوتا ہے اور اس سے ووٹ کی جو طاقت اور تقدس ہوتا ہے وہ پامال ہو رہا ہے، اس طریقہ انتخاب نے اقلیتوں کا تشخص ختم کر دیا ہے۔‘

انہوں نے کہا اس طریقہ کار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام سیاسی جماعتیں ایسے لوگوں کو ان نشستوں کے لیے نامزد کر دیتی ہیں جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آباد مذہبی اقلیتوں کو دوہرے ووٹ کا حق ہونا چاہیے جس طرح پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لوگوں کو حاصل ہے تاکہ ان کے حقیقی نمائندے اسمبلیوں میں جا سکیں۔

سلیم خورشید کھوکھر نے یہ بھی شکایت کی کہ اسمبلیوں میں مذہبی اقلیتوں کے لیے ان کی آبادی میں اضافے کے تناسب سے اضافہ نہیں کیا جا رہا۔

ان رہنماؤں نے چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں میں آبادی کے تناسب سے اضافہ کرنے اور سینٹ میں بھی اقلیتوں کے لیے پانچ نشستیں مخصوص کیے جانے کے مطالبات بھی کیے۔

یاد رہے کہ پرویز مشرف کے دور اقتدار سے قبل پاکستان میں جداگانہ طریقہ انتخابات رائج تھا جس کے تحت مذہبی اقلیتوں کو عام انتخابات میں حصہ لینے یا ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہیں تھا لیکن قومی اسمبلی میں ہندوؤں اور مسیحیوں کے لیے چار چار، احمدیوں کے لیے ایک اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے لیے ایک نشست مخصوص تھی جس پر علحیدہ سے انتخابات ہوتے تھے۔

تاہم 2002ء میں پرویز مشرف نے جداگانہ طریقہ انتخابات تو ختم کر دیا تھا لیکن مذہبی اقلیتوں کے لیے دس نشستیس ہی رکھیں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اب ان نشستوں پر براہ راست ووٹنگ کے ذریعے انتخاب نہیں ہوتا بلکہ یہ نشستیں سیاسی جماعتوں کی انتخابات میں کامیابی کی شرح کے حساب سے ان کے نامزد کردہ امیدواروں کو دی جاتی ہیں۔

اسی بارے میں
کراچی: مسیحیوں کا احتجاج
25 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد