BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 January, 2007, 16:13 GMT 21:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صدرکاانتخاب، ستمبر تااکتوبر‘

وزیر اطلاعات کے بیان کے بعد بھی صدر کے انتخاب کےبارے میں اہم نکات وضاحت طلب ہے
پاکستان کے وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے بتایا ہے کہ حکومت کے آئینی ماہرین کے مطابق صدر مملکت کے عہدے کا انتخاب رواں سال ستمبر سے اکتوبر کے درمیان ہونا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بدھ کو کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم شوکت عزیز اور آئینی ماہرین نے کہا کہ موجودہ اسمبلی کی مدت سولہ نومبر کو مکمل ہوگی اور آئین کے مطابق اس کے ساٹھ روز میں عام انتخابات ہونے ہیں۔

تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ صدر کا انتخاب موجودہ اسمبلی کرے گی یا کہ قبل از وقت انتخابات کی صورت میں قائم ہونے والی نومنتخب اسمبلی۔

واضح رہے کہ بعض وفاقی وزراء اور وزراء اعلیٰ کئی روز سے بیانات دیتے رہے ہیں کہ صدر کا انتخاب موجودہ اسمبلیاں ہی کریں گی۔ جبکہ حزب مخالف کے رہنما اور بعض قانونی ماہرین کہتے رہے ہیں کہ جس اسمبلی کی اپنی مدت پانچ برس ہو وہ صدر کو دو بار کیسے منتخب کرسکتی ہے۔

ایسے میں باضابطہ طور پر کابینہ کی سطح پر اس بارے میں غور کے بعد وزیر اطلاعات کے اس بیان کو خاصی اہمیت دی جارہی ہے۔

وزیر اطلاعات محمد علی درانی کے اس بیان کے بعد نیوز بریفنگ میں ان پر سوالات کی بوچھاڑ ہوئی اور اخبارنویس یہ وضاحت طلب کرتے رہے کہ صدر کا انتخاب موجودہ یا نومنتخب اسمبلی کرے گی۔ لیکن وزیر نے اس کا مبہم جواب ہی دیا۔

جب ان سے پوچھا کہ کیا ان کے بیان کا یہ نتیجہ لیا جائے کہ قبل از وقت انتخابات متوقع ہیں تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا ’نتیجہ آپ خود نکالیں میں نے بیان دینا تھا جو دے دیا۔‘

کابینہ کے اجلاس میں کیے جانے والے دیگر فیصلوں کے متعلق انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پانچ روپے کا نوٹ پھر سے جاری کیا جائے گا جبکہ ایک ، دو اور پانچ روپے کے سکوں کا ڈیزائن اور بنواٹ تبدیل کی جائے گی۔

ان کے مطابق بلوچستان کا وفاقی ملازمتوں میں حصہ ساڑھے تین فیصد سے بڑھا کر چھ فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر نے بتایا کہ کابینہ نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ انسداد دہشت گردی اور منظم جرائم کے خلاف تعاون کے متعلق معاہدے کو بات چیت کرکے جلد سے جلد حتمی شکل دے۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کے نام پر دیگر ممالک پاکستان سے یکطرفہ طور پر تعاون کی امید نہیں کرسکتے اور اس طرح کا تعاون باہمی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

بریفنگ کے دوران جاری کیے گئے تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایشیا میں آفات سے نمٹنے کے مرکز کے قیام کے متعلق چارٹر کی توثیق کی گئی۔ جبکہ برقی جرائم سے متعلق قانون بنانے کی منظوری دی گئی اور سید شریف الدین پیرزادہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی جو تیس روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی اور اس کی روشنی میں قانون سازی ہوگی۔

اسی بارے میں
مشرف کی آئینی مشکلات
01 January, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد