نئےالیکشن نگران حکومت کے تحت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ قاضی محمد فاروق نے کہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات نگران حکومتوں کے زیر نگرانی ہوں گے اور آئین کی دفعہ پچاس کے تحت صدرِ مملکت کسی سیاسی جماعت کی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتا۔ چیف الیکش کمشنر نے جمعرات کی صبح ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی روح سے صدر پارلیمان کا حصہ ہوتا ہے اور وہ اراکین پارلیمنٹ سے ملاقاتیں تو کر سکتا ہے اور انہیں مشورے بھی دے سکتا ہے لیکن کسی سیاسی جماعت کی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتا۔ چیف الیکشن کمیشن کی طرف سے آئین کی تشریح پر اخبار نویسوں نے گزشتہ ماہ بھاشا ڈیم کے افتتاح کے موقع پر سکردو میں ایک جلسہ عام کے دوران صدر مشرف کی تقریر پر سوالات اٹھائے تو چیف الیکشن کمیشن نے ان سوالات کو نظر انداز کر دیا۔ صدر مشرف نے سکردو میں جلسئہ عام سے خطاب میں بڑے واشگاف الفاظ میں عوام سے آئندہ انتِخابات میں مسلم لیگ کے امیدواروں کو ووٹ دینے کے بارے میں کہا تھا۔ موجودہ اسمبلیوں سے صدر کے انتخابات کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر کے الیکشن کے دوران چیف الیکشن کمشنر کو ریٹرنگ آفیسر کی حیثیت حاصل ہوتی ہے لہذا وہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے۔ آئندہ عام انتخابات کی تاریخوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کرتی ہیں تو پھر الیکشن کمیشن ساٹھ دن کے اندر انتخابات کروانے کا پابند ہے بطور دیگر اگر اسمبلیوں کو تحلیل کیا جاتا ہے تو پھر آئین کے تحت الیکشن کمیشن نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کا پابند ہے۔ اس حوالے سے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات نگران حکومت کے تحت ہوں گے اور ان انتخابات میں نگران وزیر اعظم اور نگران وزراء اعلیٰ کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق حاصل نہیں ہو گا۔ سابق وزراء اعظم بے نظیر اور نواز شریف کے انتخابات کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر وہ الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو انہیں آکر اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرانا ہوں گے جن پر فیصلہ قانون کے مطابق کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانے کا پابند ہے اور وہ اس امر کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں سے یکساں سلوک کیا جائے گا۔ چیف الیکشن کمشنر نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کے موجودہ قوانین کے تحت سمندر پار یا بیرونی ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ قوانین میں ترمیم کر دی جاتی ہے تو سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات کے لیئے انتخابی فہرستوں کی از سرے نو تشکیل کا کام جمعہ سے ملک بھر میں شروع کر دیا جائے گا جس پر ایک ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل سن دوہزار دو انتخابی فہرستوں پر نظر ثانی کی گئی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ صرف ان لوگوں کا اندراج کیا جائے گا جن کے پاس نادرا کی طرف سے کمپیوٹر کے ذریعے جاری کردہ نیا شناختی کارڈ موجود ہو گا۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ اس وجہ سے ہزاروں لوگ اپنے حق رائِے دہی سے محروم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نادرہ ان کی اطلاع کے مطابق پانچ کروڑ چالیس لاکھ شناختی کارڈ جاری کر چکی ہے۔ انتخابی فہرستوں کے مطابق ملک میں سات کروڑ کے قریب لوگوں کو حق رائے دہی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ فہرستوں میں بہت سےایسے لوگ ہیں جن کے شناختی کارڈ نمبر درج نہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ابھی لوگ کے پاس وقت ہے اور وہ نیا شناختی کارڈ حاصل کرکے اپنے ووٹ کا اندراج کروا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شناختی کارڈ کی مدت سن دوہزار تین میں ختم ہو گئی ہے اور ان کو اب استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ |
اسی بارے میں نئے الیکشن کمشنر کا حلف16 March, 2006 | پاکستان قائم مقام چیف الیکشن کمشنر23 June, 2006 | پاکستان ’اگلے انتخابات بھی شفاف ہوں گے ‘ 30 September, 2005 | پاکستان فوج لگانے سے مت ہچکچائیں: کمشنر09 July, 2005 | پاکستان مقامی انتخابات تیسرا مرحلہ شروع 10 September, 2005 | پاکستان عبوری حکومت، انتخابات کا مطالبہ07 March, 2006 | پاکستان نجی گارڈز نہیں ہونگے: الیکشن کمشنر02 August, 2005 | پاکستان اسسٹنٹ الیکشن کمشنرکی پٹائی01 October, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||