BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 March, 2006, 09:39 GMT 14:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئے الیکشن کمشنر کا حلف

حزب اختلاف کی جماعتوں کا مطالبہ رہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو مالی اور انتظامی طور پر خودمختاری دی جائے
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے تعینات کیے جانے والے نئے مستقل چیف الیکشن کمشنر جسٹس ( ر) قاضی محمد فاروق نے جمعرات کے روز اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ان سے حلف لیا۔ اس آئینی عہدے پر انہیں تین سال کی مدت کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

 پاکستان میں سن دوہزار دو کے عام انتخابات ہوں یا گزشتہ سال کے بلدیاتی انتخابات، حزب اختلاف کی تمام جماعتیں الیکشن کمیشن پر حکومتی اتحاد کی جماعتوں کی مبینہ دھاندلی روکنے میں ناکامی کے الزامات لگاتی رہیں
حزب اختلاف کے دونوں بڑے اتحادوں نے کہا ہے کہ جب تک الیکشن کمِیشن کو مالی اور انتظامی طور پر خود مختار نہیں بنایا جائے گا اور قواعد میں تبدیلی نہیں ہوگی اس وقت تک کل وقتی چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

متحدہ مجلس عمل کے سرکردہ رہنما لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ نئے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی صدر مملکت نے یکطرفہ طور پر کی ہے اور اس میں حزب اختلاف کی رضامندی شامل نہیں۔

حکمران مسلم لیگ کے ترجمان سینیٹر طارق عظیم کہتے رہے ہیں کہ چودھری شجاعت حسین نے حزب اختلاف کی تمام جماعتوں سے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے نام مانگے تھے لیکن کسی نے نام نہیں دیا۔

اس بارے میں پیپلز پارٹی کے رہنما مخدو امین فہیم نے کہا تھا کہ معاملہ چیف الیکشن کمشنر کی نامزدگی کا نہیں الیکشن کمشین میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کے پیکیج پر بات کرنے کا ہے۔

 حزب اختلاف کی جماعتوں کا مطالبہ رہا ہے کہ مستقل چیف الیکشن کمشنر تعینات کیا جائے، الیکشن کمیشن کو مالی اور انتظامی طور پر خودمختاری دی جائے اور انتخابی قواعد و ضوابط حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتیں اتفاق رائے سے از سر نو مرتب کریں
پاکستان میں سن دوہزار دو کے عام انتخابات ہوں یا گزشتہ سال کے بلدیاتی انتخابات، حزب اختلاف کی تمام جماعتیں الیکشن کمیشن پر حکومتی اتحاد کی جماعتوں کی مبینہ دھاندلی روکنے میں ناکامی کے الزامات لگاتی رہیں۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کا مطالبہ رہا ہے کہ مستقل چیف الیکشن کمشنر تعینات کیا جائے، الیکشن کمیشن کو مالی اور انتظامی طور پر خودمختاری دی جائے اور انتخابی قواعد و ضوابط حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتیں اتفاق رائے سے از سر نو مرتب کریں۔

چند برس قبل صدر جنرل پرویز مشرف نے شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لئیے الیکشن کمیشن کو مالی اور انتظامی طور پر خود مختار بنانے کا اعلان کیا تھا اور انتخابی اصلاحات کا اعلان بھی کیا۔ البتہ انہوں نے اس بارے میں حزب اختلاف کو اعتماد میں لئیے بنا قواعد میں ردو بدل کیا اور اصلاحات متعارف کرائیں۔

حزب اختلاف ان اصلاحات کو فوجی حکومت پر نئے قوانیں کو من پسند نتائج حاصل کرنے اور مقبول قیادت کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کا ذریعہ قرار دیتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں
گوشوارے: 34 جماعتوں کو نوٹس
15 September, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد